پاکستان گزشتہ کئی دہائیوں سے بھارت کے بہیمانہ ظلم و استبداد کا شکار مظلوم کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کیلئے انتھک جدوجہد کرتا آیا ہے اور اب حال ہی میں مئی کے معرکہ حق کے بعد، جس میں پاک فوج نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑجواب دیا، پاکستان کی خارجہ پالیسی کی اڑان جتنی بلند ہوئی ہے، وہ اس سے پہلے کبھی نہیں دیکھی گئی ۔
یہ صورتحال نہ صرف پاکستان کی سفارتی مہارت کا مظہر بنی بلکہ اس نے عالمی برادری کو کشمیر کی صورتحال پر از سر نوغور کرنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی کی اس اڑان سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکا سے نہ صرف تعلقات کو بہت اعلیٰ سطح تک پہنچایا بلکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی کئی معاملات میں پاکستان کے معتقد بن بیٹھے، یہ اور بات کہ آگے چل کر ٹرمپ پاکستان سے کیا توقعات وابستہ کرتے ہیں جس کا اندازہ لگانا قبل ا ز وقت ہوگا۔ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو اپنا پسندیدہ فیلڈ مارشل قرار دیا اور وزیراعظم کے ہمراہ ان کی تعریف کرتے ہوئےدونوں کو عظیم افراد قرار دیا۔
یہ تبدیلی محض اتفاقی نہیں بلکہ پاکستان کی حکمت عملی پر مبنی ہے، جو معاشی سفارت کاری، علاقائی استحکام اور عالمی شراکت داری پر مرکوز ہے۔ 2025 میں پاکستان کی خارجہ پالیسی کو “سفارتی معجزات کا سال” قرار دیا گیا ہے، جہاں پاکستان نے مسلسل کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ دئیے ، جن میں امریکا کے ساتھ بہتر تعلقات، نایاب معدنیات تک رسائی اور ٹرمپ انتظامیہ کی کھلم کھلا حمایت شامل ہے، جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔
مسئلہ کشمیر کی بات کہاں سے شروع اور کہاں ختم کی جائے، کہ انسانیت سوز مظالم سے عبارت کشمیر کا تنازعہ 1947 کی تقسیم ہند کے ساتھ ہی شروع ہوا، جب مہاراجہ ہری سنگھ نے اکثریت مسلم آبادی والی ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کیا، جو پاکستان کے لیے ناقابل قبول تھا۔ پاکستان نے ہمیشہ سے کشمیریوں کے حقِ خودارادیت کی حمایت کی ہے، جو اقوام متحدہ کے چارٹر، انسانی حقوق کے عالمگیر اعلامیے اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ہے۔
کشمیریوں کیلئے مملکت خداداد پاکستان کی جدوجہد صرف سفارتی نہیں بلکہ اخلاقی، انسانی اور قانونی بھی ہے۔ لاکھوں کشمیری بھارتی فوج کی ظالمانہ پالیسیوں کا شکار ہیں، جہاں روزانہ کی بنیاد پر تشدد، ماورائے عدالت قتل، گھروں کی تباہی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں اور کشمیریوں کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ اقوام متحدہ کی متعدد رپورٹس، ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور یورپی یونین کی انسانی حقوق کمیٹی نے بار بار ان خلاف ورزیوں کی نشاندہی کی ہے، جس کے نتیجے میں اقوامِ متحدہ میں بھارت کو قدم قدم پر سبکی کا سامنا کرنا پڑا اور اقوامِ عالم میں ہونے والی جگ ہنسائی نے مودی حکومت سمیت بھارت کی تمام حکومتوں کو بارہا ناکوں چنے چبوائے ، تاہم بھارتی حکومت گزشتہ 78سالوں سے اپنی ہٹ دھرمی اور جبر و استبداد سے باز آتی نظر نہیں آتی۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور متعلقہ کمیشن نے جموں و کشمیر کے معاملے پر کل 21 قراردادیں اور تجاویز منظور کیں، جو 1948 سے 1971 تک کا دورانیہ رکھتی ہیں، جن میں سے بیشتر سلامتی کونسل کی قراردادیں ہیں، جبکہ کچھ UNCIP (یونائیٹڈ نیشنز کمیشن فار انڈیا اینڈ پاکستان) کی ہیں۔ تمام سلامتی کونسل کی قراردادیں باب ششم کے تحت ہیں، جو پرامن حلِ تنازعات سے متعلق اور سفارشاتی نوعیت کی ہیں اور یہی وہ تکنیکی نکتہ ہے جہاں مسئلہ کشمیر کے حل کی راہ ہموار نہیں ہوسکی کیونکہ باب ششم کے تحت رکن ممالک پر عملداری نہ کرنے پر کوئی سزا متعین نہیں لہٰذا بھارت جیسے ملک ان قراردادوں کی پابندی نہیں کرتے۔
یہاں اگر ہم ان قراردادوں کی با ت کریں جو مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی حمایت کرتی ہیں تو اس میں قرارداد نمبر 38، 39، 47، 51 اور یو این سی آئی پی کی 2 قراردادیں ملا کر کل 6قراردادیں شامل ہیں اور ان قراردادوں کے تحت جن میں 1948 کی قرارداد نمبر 47اور یو این سی آئی پی کی 13اگست 1948 کو پیش کی گئی قرارداد خاص طور پر اہم ہیں ، مظلوم کشمیریوں کو استصوابِ رائے کا حق دیتی ہیں،لیکن کوئی ایک بھی قرارداد ایسی نہیں جو باب ہفتم کے تحت بھارت کو قراردادوں پر عملدرآمد کیلئے مجبور کرتی ہو ۔
نتیجتاً بھارت نے اقوامِ متحدہ کی ان قراردادوں کی ہمیشہ خلاف ورزی کی اور مسلسل عالمی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے مقبوضہ جموں و کشمیر میں کبھی استصوابِ رائے نہیں کروایا بلکہ 5اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کو ریاست کا درجہ دینے والے آرٹیکل 370 کو ختم کرکے صورتحال مزید پیچیدہ بنا کر رکھ دی۔ حتیٰ کہ اب تو بھارت نے وہاں آبادیاتی تناسب بدلنے کے لیے کشمیر کے باہر سے غیر مسلموں کو لا کر بسانا شروع کر دیا ہے تاکہ آئندہ الیکشنز میں آبادی کا تناسب تبدیل ہو جائے، جو کہ جنیوا کنونشنز کے چوتھے کنونشن کے آرٹیکل 49 کی خلاف ورزی ہے اور ساتھ ہی اگر ڈیموگرافی تبدیل کی جائے تو یہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ کے اسٹیچیوٹ کے آرٹیکل 8 کی زد میں بھی آتا ہے۔
عالمی میڈیا نے رواں سال 2025 کے دوران پاکستانی خارجہ پالیسی کی غیر معمولی تعریف کی جس کی وجہ مئی 2025 کا معرکہ حق اور درست سمت میں سفارت کاری کا کیا جانا ہے، جس کا اوپر ذکر آچکا ہے۔ کچھ نے اسے پاکستانی سفارت کاری کی نشاۃ ثانیہ ، کچھ نے اسٹرٹیجک سفارت کاری اور کچھ نے 2025 کو پاکستان کے سفارتی معجزات کا سال قرار دیا۔ بعض تجزیہ کاروں نے منفی انداز میں بھی پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تعریف ہی کر ڈالی اور کہا کہ پاکستان ٹرمپ کی تعریف حاصل کرنے میں اولمپک چیمپین کا درجہ حاصل کرچکا ہے تاہم پاکستان کے نزدیک خارجہ پالیسی کا یہ عروج قومی فخر اور قابلِ تعریف حکمت عملی ہے جس کے نتیجے میں معاشی امداد، سرمایہ کاری اور دہشت گردی کے خلاف تعاون حاصل کرنے کی راہیں ہموار ہوگئیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کو ایک بار پھر نوبل امن انعام کیلئے نامزد کرکے اپنے اثر رسوخ کو مزید بڑھا لیا ہے۔
وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنی سفارتی بلندی اور خارجہ پالیسی کی اعلیٰ سطحی اڑان کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سلامتی کونسل میں باب ہفتم کے تحت قرارداد پیش کرے اور ساتھ ہی امریکا اور ڈونلڈ ٹرمپ سے قبل از وقت بات کی جاسکتی ہے کہ ایسی قرارداد کو بھارت کے حق میں ویٹو نہ کرسکے اورمسئلہ کشمیر کے حل کیلئے قراردادپیش کرتے وقت چین ، روس، برطانیہ اور فرانس کی بھی پہلے سے تائید حاصل کرنا ضروری ہوگی ، جبکہ چین پہلے ہی سلامتی کونسل کے مستقل رکن کی حیثیت سے پاکستان کے حق میں ہے اور اگر مسلم دنیا کی بات کی جائے تو پاکستان کی کشمیریوں کے حق میں قرارداد کے سلسلے میں سعودی عرب، ترکی اور ملائشیا کی جانب سے پاکستان کا ساتھ دیا جانا قدرتی امر ہے۔
ضروری ہے کہ پاکستان بھارت کی جانب سے کشمیر میں روا رکھی گئی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی قلعی کھولتے ہوئے بھارتی ایجنڈے کو بے نقاب کرے اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ بھارت پر باب ہفتم کے تحت معاشی پابندیوں کا نفاذ یقینی بنایا جائے تاکہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف بڑھے جسے وہ گزشتہ کئی دہائیوں سے اپنا اندرونی مسئلہ قرار دیتا چلا آرہا ہے، کیونکہ اگر پاکستان نے آج یہ نہیں کیا تو خاکم بدہن شاید مسئلہ کشمیر کا حل آئندہ دہائیوں میں بھی نکال پانا ممکن نہ ہوسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں