عالمی سطح پر طاقت کے محور تیزی سے بدل رہے ہیں اور جنوبی ایشیا اس ہلچل کا مرکز بن چکا ہے۔ امریکہ ایک جانب پاکستان سے تعاون کے اشارے دیتا ہے تو دوسری جانب بھارت کے ساتھ دس سالہ دفاعی معاہدہ کر کے خطے میں نیا توازن قائم کر رہا ہے۔ یہ متضاد پالیسی پاکستان کے لیے ایک سفارتی و دفاعی چیلنج ہے۔
بھارت آپریشن سندور سمیت خارجہ امور میں مسلسل ناکامیوں کے باوجود پاکستان مخالف حکمتِ عملی پر قائم ہے اور مودی حکومت نے اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پاکستان دشمنی کو مستقل سیاسی ہتھیار بنا رکھا ہے ۔
بھارت کی پاکستان مخالف حکمتِ عملی ایک منظم اور طویل المدتی منصوبے کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ کبھی وہ افغانستان کے راستے دہشت گرد گروہوں کو استعمال کرتا ہے تو کبھی بلوچستان میں تخریب کاری کو ہوا دیتا ہے۔ یہ سرگرمیاں کسی وقتی ردِعمل کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اسٹرٹیجک ڈیزائن کا حصہ معلوم ہوتی ہیں اور اس طرزِ عمل کے پیچھے بھارتی حکمران جماعت بی جے پی اور انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کی داخلی سیاست کارفرما ہے، جو بھارت کے قومی بیانیے کو پاکستان دشمنی پر مرکوز کرنا چاہتی ہے۔ پاکستان بارہا عالمی برادری کے سامنے بھارت کی پراکسی وار کے شواہد پیش کر چکا ،لیکن بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے پاکستان مخالف مہم کو مزید تقویت دے رہا ہے۔
یہی نہیں، بلکہ پاکستان نے بھارتی فوجیوں اور ایجنٹس کو پکڑ کر عالمی سطح پر بھارت کے خلاف جو ثبوت پیش کیے ہیں، تاریخ میں اس کی مثال بھی کم ہی ملتی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی جارحیت اور دہشت گردی کے حوالے سے بھی متعدد بار شواہد فراہم کیے گئے اور انسانی حقوق کونسل کے علاوہ بعض بین الاقوامی ایجنسیاں اور تھنک ٹینکس اس کا ذکر کر چکے ہیں۔
ایک رپورٹ کے مطابق بھارت اور امریکہ کی تزویراتی شراکت داری سے جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن بگڑ سکتا ہے اور یہ تبدیلی پاکستان کی سلامتی کے لیے بھی تشویشناک ثابت ہو سکتی ہے۔ دونوں نظریات طاقت کا توازن اور طاقت کی منتقلی آخرکار ایک ہی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ طاقت کا توازن بگڑنے سے خطے میں عدم استحکام اور جنگ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں، خاص طور پر جب دو جوہری قوتیں آمنے سامنے ہوں۔یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ عالمی سیاست میں طاقت ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتی ہے اور ممالک اپنی بقا، تحفظ اور اثر و رسوخ کے لیے طاقت حاصل کرنے کی جدوجہد کرتے ہیں۔ امریکہ نے 2006ء میں صدر جارج بش کے دور میں بھارت کے ساتھ دفاع، ایٹمی تعاون اور دیگر شعبوں میں معاہدے کیے جس کی بنیادی وجہ چین کا ابھرتا ہوا عالمی کردار تھا۔ امریکہ بھارت کو چین کے مقابل ایک توازن پیدا کرنے والی قوت کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ 2015ء میں صدر اوباما کے دورے کے دوران کیے گئے دفاعی معاہدے اور بھارت کی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کی امریکی حمایت اسی حکمتِ عملی کا حصہ تھی۔
اگر ہم بھارت کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو امریکا سے دفاعی معاہدے مشترکہ طور پر بھارت کو اسٹریٹجک، تکنیکی اور آپریشنل سطح پر نمایاں فوائد فراہم کرتے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ معاہدے بھارت کی فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بناتے ہیں، مثلاً GSOMIA یعنی جنرل سکیورٹی آف ملٹری انفارمیشن ایگریمنٹ اور BECA کے ذریعے حساس انٹیلی جنس اور جیو اسپیئل ڈیٹا کی شیئرنگ ممکن ہوتی ہے، جو علاقائی سیکیورٹی اور مشترکہ آپریشنز میں برتری دیتی ہے۔ LEMOA اور COMCASA جیسے معاہدے لاجسٹک سپورٹ، محفوظ کمیونیکیشن اور فوجی انٹرا آپری بیلیٹی کو بڑھاتے ہیں، جس سے بھارت کو انڈوپیسفک میں چین جیسے چیلنج کا سامنا کرنے کیلئے امریکی بیسز اور اعلیٰ ٹیکنالوجی تک رسائی ملتی ہے۔مزید برآں، Memorandum of Intent اور ISA بھارت کی دفاعی صنعت کو خود کفیل بنانے اور مشترکہ پروڈکشن میں مدد دیتے ہیں، جبکہ SoSA یعنی اسٹیٹمنٹ آف انٹینٹ آن سکیورٹی آف سپلائی ارینجمنٹس سپلائی چین کی سلامتی یقینی بناتا ہے۔
مجموعی طور پر یہ معاہدے دفاعی ہم آہنگی کے علاوہ بھارت کو امریکہ کی دفاعی ٹیکنالوجی اور انٹیلی جنس تک براہ راست رسائی دیتے ہیں، جو بھارت کی فوجی تیاریوں کو جدید اور مشترکہ مشقوں کومزید موثر بنادیں گے۔ یہ نہ صرف دفاعی تجارت کوبڑھائیں گے بلکہ بھارت کو عالمی سطح پر ایک میجر ڈیفنس پارٹنر کا درجہ بھی دیں گے، جس سے ہنگامی حالات میں ترجیحی سپلائی اور کوآرڈینیشن ممکن ہوتی ہے جو خطے میں طاقت کے توازن کیلئے تشویشناک ہے۔
عام الفاظ میں کہا جائے تو ان معاہدوں کے نتیجے میں امریکا پاکستان کی جنگی پوزیشن ، طیاروں کی سمت اور مقام اورفوجیوں کی نقل و حرکت سمیت دیگر حساس معلومات اپنے جدید آلات کی مدد سے حاصل کرتے ہوئے بوقتِ ضرورت یا انٹیگریٹڈ نظام کے تحت بھارت کو فراہم کرسکتا ہے اور ایسا ہی خطرہ چین کو بھی امریکا اور بھارت کے دفاعی اتحاد سے ہوگا ، جس کے نتیجے میں پورے خطے کا توازن بگڑ سکتا ہے ، اس سلسلے میں پاکستان روایتی سفارتکاری کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی دباؤ اور پبلک ڈپلومیسی کا سہارا لیتے ہوئے اپنے عسکری سازوسامان اور صلاحیتوں میں مزید اضافہ کرکے اپنے دفاعی استحکام کو وسعت دے سکتا ہے۔
موجودہ جیوپولیٹیکل تبدیلیاں بشمول امریکی دلچسپی پاکستان کے لیے بھی ایک نایاب سفارتی موقع پیدا کر رہی ہیں جس سے فائدہ اٹھانا وقت کی ضرورت ہے۔پبلک ڈپلومیسی کے ذریعے پاکستان کو اپنے بیانیے کو عالمی سطح پر مضبوط انداز میں پہنچانا ہوگا اور چونکہ پاکستان اس وقت سلامتی کونسل کا رکن ہے تو اس صورتحال کے مؤثر استعمال کے طور پر باب 7 کے تحت مسئلہ کشمیر کو اٹھاتے ہوئے بھارت کے خلاف ایک قرارداد منظور کروانے کی سعی کرسکتا ہے۔ ضروری ہے کہ پاکستان عسکری، قانونی اور سفارتی تینوں محاذوں پر توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنا ہر قدم پھونک پھونک کر رکھے ، تاکہ خطے کی سلامتی اور پاکستان کے مفادات بھارت کی اشتعال انگیزیوں سے محفوظ رہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں