مملکتِ خداداد پاکستان تقریباً 25 کروڑ کے لگ بھگ نفوس پر مشتمل ہے جہاں بے روزگاری اور افلاس نے کئی دہائیوں سے ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔ قابلِ قدر بات یہ ہے کہ اس ملک کے لوگوں میں وہ جوش و جذبہ اور لگن ہے کہ وہ اپنی اپنی تعلیمی قابلیت کے مطابق کسی نہ کسی ہنر کو سیکھیں اور کسی نہ کسی طریقے سے اپنی اپنی فہم و فراست اور تعلیمی قابلیت میں اضافہ کریں اور وہ بہت محنت و مشقت کے ساتھ اس کی تگ و دو میں لگے رہے ہیں۔
لیکن بدقسمتی سے حکومت کی جانب سے اس سلسلے میں کوئی جامع منصوبہ جو کہ گاؤں گاؤں اور گلی گلی عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہنر مندی کے جال کو بچھا سکے، اس کا فقدان نظر آتا ہے۔
یہ درست ہے کہ سندھ میں تقریباً 400 سے زائد ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز موجود ہیں اور پورے پاکستان میں ووکیشنل ٹریننگ سینٹرز کی تعداد ہزاروں میں ہے۔نیوٹیک (نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن) کی آفیشل ویب سائٹ کے مطابق ملک بھر میں 2006 سے اب تک (تقریباً 19سال میں) 6 لاکھ افراد کو تکنیکی ہنر اور مختلف پیشوں میں فنی تربیت دی گئی جو 25کروڑ کے ملک کیلئے آٹے میں نمک کے برابر ہے اور جن میں سے صرف 65 ہزار ہائی اینڈ بینیفشریز ہیں، لیکن اگر اس کا عملی مظاہرہ دیکھا جائے تو نہ ہونے کے برابر ملتا ہے ۔اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو، جسے لوگوں میں پیسے تقسیم کرنے کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، منسلک نہیں کیا کہ بجائے مختلف العمر افراد کو پیسے دے دے کر بھکاری بنانے کی بجائے، جوکہ ملک پر مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے، انہیں اپنے اپنے علاقوں میں جہاں وہ رہتے ہیں، انہیں اپنی عمر، حیثیت، تعلیم اور دانشمندی کے مطابق ہنر مندی کی عملی تربیت دی جائے اور یہ ہنر مندی کی تعلیم اس بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے منسلک کرتے ہوئے دی جائے تاکہ ان افراد بشمول خواتین و حضرات کی دلچسپی میں اضافہ ہوسکے کہ وہ کسی نہ کسی طرح سے کوئی نہ کوئی ہنر بھی سیکھ سکیں جس سے ملک کی تعمیر و ترقی پر اس کے فوائد فوری طور پر نمودار ہونا شروع ہوجائیں گے۔
رہی یہ بات کہ حکومت بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے آغاز سے اس پر جو کھربوں روپے خرچ کیے، جیسا کہ اس پروگرام کیلئے مختص رقم تازہ ترین اعدادوشمار کے مطابق 700ارب روپے سے بھی زائد ہے اور یہ رقم عوام میں کچھ اس طرح بانٹی جاتی ہے کہ مستحق افراد خود کو بھکاری سمجھنے لگیں، حالانکہ اگر وہی مستحق افراد ہنر مندی کی جانب لگائے جائیں تو مختلف شعبوں میں بھرپور افرادی قوت پیدا ہوگی جن میں مستری، کارپینٹر، الیکٹریشن وغیرہ شامل ہیں اور جو ان علاقوں میں پہلے سے موجود ہیں، انہیں کسی نظام کے تحت ڈپٹی کمشنر یا اسسٹنٹ کمشنر کی نگرانی میں جو پہلے سے چلتے ہوئے ادارے ہیں، ان کو ان سے منسلک کرکے انہیں چھ چھ یا آٹھ آٹھ ہفتوں کی ایسی تربیت دلائی جائے کہ جس میں تکنیکی کورس کے طور پر وہ کچھ ہنر مندی سیکھ سکیں اور مذکورہ ہنر مندی سیکھنے کے بعد ایسے افراد کو موقع دیا جاسکتا ہے کہ وہ دنیا کے تسلیم شدہ معیار کے تحت سرٹیفائیڈ ہنرمند بن سکیں تاکہ ان میں سے جو اس قابل ہوں جو بیرون ملک اپنا روزگار حاصل کرسکیں، انہیں بیرونِ ملک جا کر ملک کیلئے خطیر زرِ مبادلہ وطن واپس بھیجنے کا موقع مل جائے اور باقی جو بچ جائیں وہ اپنے اپنے علاقوں میں ہنر مند کی حیثیت سے عوام کی خدمت کرسکیں۔
تکنیکی اعتبار سے میں ایسے افراد کو ویب ڈویلپمنٹ، گرافکس ڈیزائن، ڈیجیٹل مارکیٹنگ، الیکٹریشن، آٹو مکینک اور نرسنگ اسسٹنٹ کے علاوہ سافٹ وئیر پروگرامر اور اے آئی ایکسپرٹ بھی بنایاجاسکتا ہے۔تکلیف دہ حقیقت یہ ہے کہ سال 2024 میں سمندری اور زمینی راستوں سے بہتر زندگی کی تلاش میں اسپین جانے کی کوشش میں 10 ہزار سے زائد تارکینِ وطن جاں بحق ہوگئے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں ہلاکتوں میں 58فیصد کا اضافہ ہے۔
ہلاک ہونے والے اکثر شہری افریقی ممالک سے تعلق رکھتے تھے جن میں پاکستان سمیت دنیا کے 28 ممالک شامل ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں 1 ہزار 538 بچے اور 421 خواتین بھی شامل تھیں۔اگر ایسے افراد کو ہنرمندی کی جانب گامزن کیا جائے تو ایسی صورت میں وہ نوجوانانِ ملت جو اپنے گھروں کا مال اسباب اور جانوروں کو بیچ کر جمع پونجی کھو کر اپنے روشن مستقبل اور اس خواب کے ساتھ بیرون ملک جاتے ہیں کہ وہ اپنے گھر والوں کو ڈالرز بھیج سکیں گے اور راستے میں کشتیاں الٹ جاتی ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں لوگ اپنے تمام خواب و خیال اپنے ساتھ لے کر اپنی مادرِ وطن سے سیکڑوں ہزاروں کلومیٹرز دور سمندر کی گہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں اور کبھی لوٹ کر اپنے گھروں کو واپس نہیں آتے، ایسے نوجوان بھی اپنے خوابوں کیلئے اپنے گھر بار اور جمع پونجی کی قربانی دینے کی بجائے تکنیکی شعبے میں ہنر مندی سیکھ کر اپنے وطن کی خدمت کو ترجیح دیں گے۔اس سے قبل یہ ذکر بھی ہوا کہ برطانیہ میں ویزے کے ذریعے آنے والے افراد کی 2024 میں اسائلم کیلئے جمع کرائی گئی 40 ہزار درخواستوں میں سے 11ہزار سے زائد پاکستانیوں نے جمع کرائیں، جو کہ 2022کے مقابلے میں 5گنا زیادہ ہے، جس کے نتیجے میں پاکستان 175ممالک میں پہلے نمبر پر آگیا۔
اگر حکومت مربوط طریقے سے جس میں زیادہ اخراجات بھی نہیں ہیں بلکہ صرف لگن اور دلچسپی کے ساتھ مجوزہ سفارشات پر عمل کرے اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت رقوم بانٹ کر عوام کو اپنی بنیادی ضروریات پورا کرنے کیلئے بھکاری بنانے کی بجائے کار آمد اور ہنر مند شہری پیدا کرسکے تو ایسے افراد نہ صرف اپنے گھر اور محلے بلکہ ملک کا نام بھی دنیا بھر میں روشن کرنے کے قابل ہوسکتے ہیں ، جبکہ یہ ماڈل دنیا کے دیگر ممالک میں پہلے سے پریکٹس ہوچکا ہے اور اس میں صرف معیاری کو آرڈینیشن کی ضرورت ہے تاکہ مختلف ادارے جو پہلے سے کام کر رہے ہیں اور جن پر نہ صرف ملک کا بجٹ صرف ہورہا ہے بلکہ کروڑوں روپے کرپشن کی نذر ہورہے ہیں، انہیں ایسی سمت دی جائے کہ وہ مملکت پاکستان اور اس معاشرے کیلئے کار آمد شہری ثابت ہوسکیں اور ایسا کیوں نہ ہو، کیونکہ دستور پاکستان کے آرٹیکل 38 میں بھی یہ بات موجود ہے کہ حکومت ملک و ملت کے ان سپوتوں کو فعال بنانے کیلئے ایسے ذرائع اور اسباب پیدا کرے گی جن سے عوام کے روٹی کپڑا اور مکان کا بندوبست کرسکیں۔ اگر ایسا ہوجائے تو ملک کے نوجوان اپنے مستقبل سے مایوس ہونے کی بجائے ملک کی تعمیر و ترقی کیلئے کام کرنے کو ترجیح دیں گے اور وطن کے یہ معمار آگے چل کر قوم کی بہترین تعمیر و ترقی بھی یقینی بنائیں گے اور عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے کیلئے بھی سرتوڑ محنت کریں گے جس کے نتیجے میں ملک کا مستقبل آنے والے وقتوں میں روشن اور تابناک سے تابناک تر ہوسکے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں