سڈنی حملے سے بے بنیاد پراپیگنڈے تک: بھارت اور کیا کرسکتا ہے؟

تازہ ترین

تازہ ترین

آسٹریلیا کے اہم شہر سڈنی کے ساحل پر دہشت گرد حملے کے نتیجے میں نہ صرف آسٹریلین عوام ہل کر رہ گئے بلکہ عالمی سطح پر ففتھ جنریشن وارفیئر کی ایک اور مثال بھی سمانے آئی جب 14دسمبر 2025 میں ایک باپ ساجد اکرم اور بیٹے نوید اکرم نے ہنوکا تقریب کے دوران فائرنگ کرکے 16 افراد کو ہلاک اور 40 کو زخمی کردیا، آج بھارتی میڈیا بھی تسلیم کررہا ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق پاکستان سے نہیں، بھارت سے تھا۔

پولیس کی جوابی کارروائی میں ایک شخص مارا گیا جبکہ دوسرا زخمی حالت میں گرفتار ہوگیا۔ بعد ازاں نیو ساؤتھ ویلز پولیس نے بتایا کہ ملزمان نے ساحل پر یہودیوں کی ہنوکا تقریب کے دوران فائرنگ کی  تھی۔

پولیس نے بتایا کہ ملزمان کی گاڑی سے دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد اور داعش سے منسلک دو ہاتھ سے بنے جھنڈے بھی برآمد ہوئے۔ ملزمان نے 10 منٹ تک سیکڑوں افراد کو گولیوں کا نشانہ بنایا۔ لوگ ادھر ادھر بھاگتے اورپناہ لیتے نظر آئے جس پر پولیس حرکت میں آئی اور دونوں ملزمان پر جوابی فائرنگ کی۔ اے بی سی نیوز کے مطابق دونوں حملہ آور سڈنی حملے سے قبل عسکری تربیت لینے کیلئے بھارتی پاسپورٹ پر فلپائن گئے تھے۔ منیلا میں سرحدی حکام نے بھی بتایا کہ 50سالہ ساجد اکرم بھارتی پاسپورت پر فلپائن گیا اور 24سالہ بیٹا نوید آسٹریلین پاسپورٹ استعمال کرکے فلپائن پہنچا تھا۔ فلپائن کو بھی طویل عرصے سے جنوبی حصے سے عسکریت پسندی کا سامنا ہے۔ 2017 میں داعش سے وفاداری نبھانے والے جنگجوؤں نے مراوی نامی شہر پر قبضہ کیا جس سے 5ماہ تک لڑائی ہوئی۔

لیکن سڈنی حملے کے فوراً بعد ایک منظم پروپیگنڈا مہم شروع ہوئی جس میں پاکستان کو اس حملے سے جوڑنے کی کوشش کی گئی۔ بھارتی اور افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے جعلی معلومات پھیلائیں کہ حملہ آور پاکستانی ہیں، جس سے ایک معصوم پاکستانی شہری کو غلطی سے شناخت کرکے موت کی دھمکیاں دی جانے  لگیں۔ پاکستان کے وزیرِ اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے اسے  بھارت اور اسرائیل  کی منظم مہم قرار دیا، جس کا مقصد پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف جنگ کو کمزور کرنا تھا۔ کوئی قابلِ تصدیق ثبوت پاکستان سے جوڑنے کا نہیں ملا، اور پاکستان نے فوری طور پر اس بیانیے کو چیلنج کیا، جو ایک مؤثر مسابقتی بیانیہ ثابت ہوا۔

آگے چل کر یہ حقیقت بھارتی میڈیا نے بھی تسلیم کی کہ کہ حملہ آور ساجد اکرم (50 سال) بھارتی نژاد تھے، حیدرآباد (بھارت) سے تعلق رکھتے تھے اور ان کے پاس بھارتی پاسپورٹ موجود تھا۔ باپ بیٹے نے نومبر 2025 میں فلپائن کا دورہ کیا، جہاں وہ بھارتی پاسپورٹس پر داخل ہوئے۔ بھارت نے شروع میں اسے تسلیم کرنے سے گریز کیا اور خاموش رہا، جب تک فلپائنی امیگریشن حکام نے یہ تفصیلات بیان نہیں کردیں۔

حال ہی میں بھارتی ریاست مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ پرتھوی راج چوہان نے کہا کہ آپریشن سندور کے پہلے ہی روز بھارت شکست کھا گیا تھا۔ انہوں نے آپریشن پر غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیاجس پر بی جے پی رہنما مشتعل ہوئے اور ان سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تاہم پرتھوی راج نے کہا کہ میں معافی کیوں مانگوں؟ یہی نہیں، بلکہ انہوں نے تو یہاں تک کہا تھا کہ اب جنگیں زمین پر نہیں بلکہ فضا اور میزائلوں کے ذریعے لڑی جائیں گی۔ آپریشن سندور کے دوران ہم نے دیکھا کہ فوج نے ایک کلومیٹر بھی زمینی پیش قدمی نہیں کی۔ 2 سے 3روز میں مکمل طور پر فضائی اور میزائل جنگ لڑی گئی۔ مستقبل میں بھی ایسی جنگیں ہوں گی۔ کیا واقعی ہمیں 12لاکھ زمینی فوج برقرار رکھنے کی ضرورت ہے؟ان کے اس بیان سے بھارتی فوج کے وجود پر بھی سوالات کھڑے ہوگئے۔

اب ہم سڈنی حملے کی جانب واپس آتے ہیں۔ حملے سے قبل حملہ آوروں نے فلپائن کے اس علاقے کا دورہ کیا جہاں ابو سیاف اور داعش کی باقیات سرگرم ہیں  اور مراوی جیسے علاقے داعش کے گڑھ رہے ہیں۔ داعش کے جھنڈوں کی موجودگی اور حملے کی نوعیت یہ سوال اٹھاتی ہے کہ کیا یہ محض اتفاق تھا یا منظم تحریک کا نتیجہ؟ فلپائنی حکام نے تربیت کے دعووں کو مسترد کیا، لیکن دورے کی ٹائمنگ مشکوک ہے۔

ماضی میں کینیڈا میں سکھ رہنما ہردیپ سنگھ نجر کے قتل اور امریکہ میں گرپتونت سنگھ پنوں  پر قاتلانہ حملے کی کوشش میں بھارتی نیٹ ورکس پر الزامات لگے، جو اب عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں۔ یہ بھارت کی جانب سے غیر قانونی اقدامات اور دیگر ممالک کی زمینی حدود میں سرحدی  دراندازی کی واضح مثالیں ہیں۔جیسا کہ پرتھوی راج چوہان نے تسلیم کیا، آج کی جنگ روایتی نہیں بلکہ انفارمیشن وارفیئر ہے۔ مس انفارمیشن اور ڈس انفارمیشن کو ففتھ جنریشن وار کا باقاعدہ ہتھیار سمجھا جاتا ہے، جس میں سوشل میڈیا، سفارتی چینلز اور عالمی بیانات استعمال ہوتے ہیں۔ سڈنی واقعے میں دیکھا گیا کہ کس طرح جعلی بیانیہ تیزی سے پھیلایا گیا۔

پاکستان کو بھی اپنے سفارت کاروں کو میڈیا کے ذریعے فعال کردار ادا کرنے پر مجبور کرنا ہوگا کہ وہ پبلک ڈپلومیسی کے ذریعے متعلقہ ممالک کے عوام  کے سامنے حقائق پیش کریں۔  اقوام متحدہ، یورپی یونین اور ٹرانس بارڈر دہشت گردی کا شکار ممالک کے ساتھ مل کر قراردادیں پیش کی جائیں۔ پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں  جس میں ہزاروں شہادتیں اور اربوں ڈالرز کا نقصان شامل ہیں، عالمی برادری کے سامنے واضح کی جائیں۔

دراصل بھارت براہِ راست تصادم میں ناکامی کے بعد پاکستان کو بدنام کرنے، معاشی نقصان پہنچانے اور حال ہی میں بام عروج پر پہنچنے والے پاکستان کے عالمی امیج کو خراب کرنے کی حکمت عملی اپنا رہا ہے۔ اس کا مقابلہ صرف مسلسل، جارحانہ اور مربوط سفارت کاری سے ممکن ہے۔ پاکستان نےمعرکہ حق سے لے کر   سڈنی واقعے تک یہ ثابت کیا کہ سچائی ، شفافیت اور بروقت جواب دشمن کے پروپیگنڈے کو ناکام بنا سکتا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ عالمی برادری بھارتی ڈس انفارمیشن اور ٹرانس نیشنل سرگرمیوں کا نوٹس لے اور پاکستان کے خلاف کیے جانے والے بھارتی  پراپیگنڈے کو دنیا کے سامنے عیاں کیا جاسکے۔

Related Posts