اقوامِ متحدہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد عالمی امن کے لیے ایک عظیم تجربہ تھا، مگر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کو ویٹو کا اختیار دے کراس تجربے کے قلب میں ایک بنیادی تضاد رکھ دیا گیا ۔ یہ ویٹو عالمی قانون کی بجائے طاقت کی سیاست کو دوام دینے کا ایسا آلہ بن گیا جو انصاف کی بجائے مفادات کی نگہبانی کرتا ہے۔
غزہ کے معاملے میں سلامتی کونسل میں قراردادوں کا ویٹو ہونا اسی حقیقت کا مظہر ہے کہ عالمی ادارہ طاقتور ممالک کی مرضی کے سامنے اکثر بے بس ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے غزہ کے مسئلے کو ایک متبادل پلیٹ فارم بورڈ آف پیس کے ذریعے انتظام کرنے کو ٹرمپ کی طرف سے مقدم جانا گیا۔ او آئی سی چارٹر کے پری ایمبل کے پیراگراف 16 میں مسئلہ فلسطین کو اہم قرار دیا گیا، مگر 57 مسلم ممالک کے اس بلاک کے ہوتے ہوئے نہ مسئلہ فلسطین پر کوئی فیصلہ کن پیش رفت ہوئی اور نہ کشمیر پر۔ یہ سفارتی جمود اس امر کی علامت ہے کہ صرف مشترکہ شناخت کافی نہیں، مشترکہ طاقت اور ارادہ بھی درکار ہوتا ہے۔ جب او آئی سی اور یو این او جیسے ادارے عملی اقدام کرنے کے قابل نہ چھوڑے گئے تو ڈونلڈ ٹرمپ نے بورڈ آف پیس کا مسودہ پیش کرنے کا موقع حاصل کرنے کےبعد دنیا کو اس نہج پر آکھڑا کیا جہاں دنیا کے پاس دو ہی راستے تھے کہ یا تو غزہ میں مکمل خونریزی اور مکمل قبضے کی راہ ہموار ہو جائے، یا پھر ایک سیاسی و انتظامی فریم ورک کے ذریعے تنازع کو منجمد کر کے ظاہراً عالمی طاقت کے توازن کو برقرار رکھا جائے۔
یہ سوال اہم ہے کہ کیا بورڈ آف پیس اقوامِ متحدہ کا متبادل بن سکتا ہے یا نہیں ۔ تو حقیقت یہ ہے کہ اقوامِ متحدہ کے پاس 60 ہزار سے زائد ملازمین، وسیع نیٹ ورک اور ادارہ جاتی مہارت ہے جسے کسی نئے فورم سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم امریکا دنیا کی سب سے بڑی عسکری طاقت ہے جس کے بحری بیڑے اور تقریباً 800 فوجی اڈے عالمی سیاست میں طاقت کا حقیقی مظہر ہیں جس کے سبب وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کو جب چاہے رد اور جب چاہے تسلیم کرسکتا ہے۔یہ بات بھی دنیا پر عیاں ہے کہ پچھلے برس ہی امریکا نے امن کی قراردادوں کو ویٹو کرکے رد کیا، اور اب یہی امریکا اور اس کا سربراہ اگر 60ممبران کی معاونت سے بورڈ آف پیس کے ذریعے معاملات کے اونٹ کو کسی کروٹ بٹھا سکیں جس سے غزہ میں خون کی ندیاں بہنا بند ہوجائیں تو یہ اقدام نہ صرف فلسطینیوں بلکہ بنی نوع انسان کیلئے نہایت ہی اہمیت و افضلیت کی حامل اقدام ہوگا۔
امریکا کا معاشی زوال، 38 ٹریلین ڈالر سے زائد قرض، معیشت پر بڑھتا دباؤ اور دنیا کا گلوبل نارتھ سے گلوبل ساؤتھ کی جانب منتقل ہونا، یہ سب اس بات کی علامت ہیں کہ طاقت کی مرکزیت ٹوٹ رہی ہے۔ اسی تناظر میں کینیڈین وزیراعظم نے ڈیووس میں خبردار کیا کہ “ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں قواعد پر مبنی عالمی نظام بتدریج تحلیل ہو رہا ہے اور جہاں طاقتور اپنی مرضی منوانے کے اہل ہیں جبکہ کمزوروں کو وہی سہنا پڑتا ہے جو ان کے مقدر میں لکھ دیا گیا ہو۔” یہ محض ایک تقریر نہیں بلکہ عالمی طاقت کے ڈھانچے پر ایک فکری فردِ جرم ہے۔
غزہ پیس بورڈ کے چارٹر پرابتدائی طور پر25 ممالک نے دستخط کیے اور 35 نے تحریری طور پر شمولیت کی یقین دہانی کرائی، جبکہ امکان ہے کہ 60 ممالک جلد ہی اس میں شامل ہوں گے۔ یہ کسی بھی نئے عالمی فورم کے لیے غیر معمولی پیش رفت ہے۔ پاکستان کا اس بورڈ میں شامل کیا جانا اس کی فعال خارجہ پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان کو پلیٹ میں رکھ کر کچھ نہیں ملا، پاکستان نے خود کچھ کرکے دکھایا اور معرکہ حق کے بعد سے پاکستان کی خارجہ پالیسی نے جو اڑان بھری ہے، یہ اسی کا شاخسانہ ہے۔ سلامتی کونسل کی جانب سے ٹرمپ کے 20 نکاتی پیس پلان کی توثیق اس بات کا اعتراف ہے کہ روایتی ادارے بھی نئے سیاسی فریم ورک کے محتاج ہو چکے ہیں۔میں ذاتی طور پر اقوامِ متحدہ میں کام کر چکا ہوں اور جانتا ہوں کہ یہ ادارہ کتنی صلاحیتوں کا حامل ہے۔ اس کے ذیلی ادارے دنیا کے متنازعہ خطوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پیس بورڈ کا چارٹر یہ اجازت دیتا ہے کہ وہ غزہ کے علاوہ دیگر تنازعات کو بھی دیکھے، اور اس میں کوئی قباحت نہیں۔ اقوامِ متحدہ ویٹو کے باعث غزہ امن منصوبے کو عملی جامہ نہیں پہنا سکا، لہٰذا ایک متبادل فورم کی جگہ پیدا ہوئی۔
پاکستان نے گزشتہ کئی دہائیوں سے مسئلہ فلسطین پر ایک واضح مؤقف کا اظہار کیا ہے اور اوسلو اکارڈ ہو یا اقوامِ متحدہ کی قراردادیں، پاکستان کی پالیسی میں بنیادی تبدیلی نہیں آئی۔ پاکستان کے مستقل مندوب نے اقوامِ متحدہ میں بھی یہی موقف اختیار کیا۔ شفاف اور مسلسل خارجہ پالیسی کی بدولت دنیا پاکستان کے موقف کو سمجھ رہی ہے، اور اگر یہی تسلسل برقرار رہا تو نوجوان نسل کو اس کے ثمرات بھی نظر آنا شروع ہو جائیں گے۔
پاکستان کے اندر بعض حلقے یہ اعتراض کرتے ہیں کہ غزہ پیس بورڈ میں اسرائیل کی شمولیت پاکستان کی نظریاتی پوزیشن کو کمزور کرے گی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل دہائیوں سے اقوامِ متحدہ کا رکن ہے اور پاکستان بھی اسی عالمی ادارے کا حصہ ہے، اس کے باوجود پاکستان نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ نظریاتی اختلاف اپنی جگہ، مگر غزہ کے مسئلے میں اسرائیل کو شامل کیے بغیر کوئی حل ممکن نہیں۔ اگر مقصد اسرائیل سے امن کی بات منوانا ہے تو اسے مذاکرات کے فریم ورک سے باہر رکھنا سفارتی خودکشی ہوگی۔
مزید یہ کہ اگر اسرائیل کو شامل نہ کیا جاتا تو امریکا میں اسرائیلی لابی کی مخالفت کے باعث بورڈ آف پیس ہی ناکام ہو سکتا تھا، اور غزہ میں خون خرابہ دوبارہ شروع ہو جاتا۔ بھارت کو بھی دعوت دی گئی، اور پاکستان کو اس پر کوئی اعتراض نہیں، کیونکہ بورڈ کے 56 سے زائد دیگر اراکین بھارت کے موقف کی پیروی کے پابند نہیں۔ سفارت کاری میں شرکت خود ایک طاقت ہے، اور عدم شرکت خود کو تنہائی کے حوالے کرنے کے مترادف ہے۔
دراصل عالمی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں ادارے کمزور اور طاقتور ممالک زیادہ بے باک اور سرکش ہوچکے ہیں۔ ایسے میں پاکستان جیسے ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اصولوں سے دستبردار ہوئے بغیر حقیقت پسندی اختیار کرتے ہوئے فعال سفارت کاری کریں اور ہر اس پلیٹ فارم کا حصہ بنیں جہاں عالمی ایجنڈا تشکیل پاتا ہے، جیسا کہ پاکستان نے بورڈ آف پیس جیسے طاقتور ادارے میں شمولیت کی جو کہ عہد حاضر کے حالات و واقعات کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے ایک واضح عملی اقدام ہے۔ ناقدین نکتہ چینی کرنے کے ساتھ ساتھ اگر متبادل حل پیش کرسکیں، تب تو ان کی پذیرائی کی جاسکتی ہے مگر فقط زبانی جمع خرچ اور تنقید در تنقید سے فلسطینیوں کی قتل و غارت کبھی رک نہ پائے گی۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں