پنجاب حکومت نے اسٹامپ پیپر اور ای اسٹامپ پیپر کی فیس میں نمایاں اضافے کا اعلان کر دیا ہے، جو جنوری 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ اس فیصلے نے پہلے ہی مہنگائی اور بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان شہریوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق ای اسٹامپ پیپر کی کم از کم فیس 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے کر دی گئی ہے۔
حلف ناموں اور روزمرہ دستاویزات کے لیے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپر اب پہلے کے مقابلے میں تین گنا مہنگے ہوں گے۔
طلاق سے متعلق اسٹامپ پیپر کی فیس میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا ہے، جو 100 روپے سے بڑھا کر 1,000 روپے کر دی گئی ہے۔
ڈومیسائل سرٹیفکیٹ کے لیے درکار اسٹامپ پیپر جو اسکول داخلوں، اسکالرشپس اور ملازمت کی درخواستوں میں عام طور پر استعمال ہوتا ہے اس کی فیس بھی 100 روپے سے بڑھا کر 500 روپے کر دی گئی ہے۔
اسی طرح بجلی، گیس اور پانی کے نئے کنکشن کے حصول کے لیے درکار اسٹامپ پیپر کی قیمت اب 1,000 روپے ہوگی، جو پہلے 100 روپے تھی۔
نظرثانی شدہ نرخوں سے جائیداد سے متعلق دستاویزات بھی خاصی متاثر ہوئی ہیں۔
والد بھی جعلی، دستاویزات بھی نقلی! پاکستانی شہریت حاصل کرنے والا افغانی گرفتار
جائیداد کی فروخت کے معاہدوں کے لیے ای اسٹامپ پیپر کی فیس 1,200 روپے سے بڑھا کر 3,000 روپے کر دی گئی ہے۔
500,000 روپے تک مالیت والے معاہدوں کے لیے بھی فیس 1,200 روپے سے بڑھا کر 3,000 روپے کر دی گئی ہے۔
غیر جائیداد سے متعلق معاہدوں کے لیے ای اسٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 500 روپے کر دی گئی ہے۔
500,000 روپے سے 10 لاکھ روپے تک مالیت والے معاہدوں کے لیے اب 6,000 روپے کے اسٹامپ پیپر درکار ہوں گے، جو اضافی 3,000 روپے کے اضافے کی عکاسی کرتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








