غزہ کی موجودہ صورتِ حال محض ایک عسکری تنازع نہیں بلکہ ایک ہمہ جہتی انسانی بحران ہے، جہاں بنیادی ڈھانچے کی تباہی، صحت و تعلیم کے نظام کی معطلی، خوراک و ادویات کی شدید قلت اور بڑے پیمانے پر داخلی بے دخلی نے اجتماعی زندگی کو مفلوج کر دیا ہے۔
اگرچہ مغربی کنارہ بھی اسرائیلی کارروائیوں سے محفوظ نہیں، تاہم غزہ میں جاری براہِ راست اور شدید نوعیت کی بمباری اور زمینی آپریشنز نے انسانی جانوں کے ضیاع کو ایک المیے میں بدل دیا ہے۔ ایسے میں اگر کسی بھی طریقہ کار کے ذریعے فوری جنگ بندی اور فی الفور قیام امن ممکن بناتے ہوئے ظالمانہ قتل و غارت کی روک تھام کی جاسکے تو ہزاروں جانیں بچائی جا سکتی ہیں جو فلسطینیوں کی نسل کشی کے تسلسل کو روک سکتی ہیں اور معروضی حالات کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں بورڈ آف پیس کو ایک ایسے ہی اقدام کے طور پر برداشت کیا جاسکتا ہے جو فلسطینیوں کیلئے امید کی کرن ثابت ہوسکے۔
یہ امر بھی پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ مغربی کنارے میں اسرائیل کی حالیہ پالیسیوں نے تنازع کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ اسرائیلی کابینہ نے فلسطینی اراضی کو “ریاستی زمین” قرار دے کر اپنے نام درج کرنے کے منصوبے کی منظوری دی ہے، جس کے لیے 2026 سے 2030 تک درجنوں نئی پوزیشنز تخلیق کی گئی ہیں اور لاکھوں ڈالرز مختص کیے گئے ہیں ۔ بظاہر اسرائیل اسے ایک انتظامی و قانونی عمل گردانتا ہے ، مگر درحقیقت یہ 1967 سے معطل زمین رجسٹریشن کے عمل کی بحالی ہے، جس کے ذریعے ایریا سی کو بتدریج اسرائیلی سول حکمرانی کے دائرے میں لایا جا رہا ہے ، جو مغربی کنارے کے تقریباً 62 فیصد رقبے اور بیشتر قدرتی وسائل پر مشتمل ہے اور یوں انتہائی مکارانہ چالبازی کے ذریعے کھلی جنگ کے بجائے “انتظامی انضمام” کی حکمتِ عملی اختیار کی جا رہی ہے، جو طویل المدتی جغرافیائی و آبادیاتی حقائق کو تبدیل کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔اسرائیل کی یہ کارروائی بین الاقوامی قوانین ، خاص طور پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 242اور 2334، بلکہ چوتھے جنیوا کنونشن کی بھی کھلم کھلا خلاف ورزی ہے۔
اسی پس منظر میں غزہ بورڈ آف پیس کی افادیت کا سوال اور بھی اہم ہو جاتا ہے۔ اگر مغربی کنارے میں تدریجی انضمام اور قانونی موشگافیوں کے ذریعے زمینی حقائق بدلے جا رہے ہیں اور غزہ میں براہِ راست عسکری قوت استعمال ہو رہی ہے تو بورڈ آف پیس جیسا کثیرالقومی فریم ورک، جو کم از کم فوری جنگ بندی اور استحکام کو یقینی بنائے، اس کے قیام کی ضرورت انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے کے تناظر میں اور بھی ناگزیر ہوجاتی ہے ۔ پاکستان کا اس بورڈ میں شمولیت کا فیصلہ اسی تناظر میں احسن نہیں لیکن قابلِ فہم اور غزہ کے حالات کے پیش نظر منطقی معلوم ہوتا ہے، کیونکہ پاکستان تاریخی طور پر فلسطینی حقِ خودارادیت کی حمایت کرتا آیا ہے اور سفارتی سطح پر اس مؤقف کو مسلسل اجاگر کرتا رہا ہے اور پاکستان کی اس بورڈ میں شمولیت کم از کم ایک ایسی آواز کو اٹھانے میں مددگار ثابت ہوگی، جو دیگر ممالک کے ساتھ مل کر گونج دار بھی ثابت ہوسکتی ہے۔
البتہ انڈونیشیا کی شرکت نے اس پورے منظرنامے میں ایک جرات مندانہ اور چیلنجنگ پیش رفت کی صورت اختیار کر لی ہے۔ صدر پرابوو سوبیانتو کی حکومت کی جانب سے بورڈ آف پیس کے تحت مجوزہ کثیرالقومی غزہ استحکام فورس میں آٹھ ہزار تک فوجی تعینات کرنے کی تیاری کا اعلان محض ایک عسکری فیصلہ نہیں بلکہ خارجہ پالیسی کی جہت میں ایک نئی راہ متعین کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ اقدام اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ جکارتہ روایتی سفارتی بیانات سے آگے بڑھ کر بر وقت عملی شمولیت کے ذریعے بحران کے حل میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ اس تناظر میں یہ فیصلہ دیگر مسلم اور علاقائی ممالک کو بھی اس بات پر غور کرنے کی دعوت دیتا ہے کہ کیا وہ غزہ پر اسرائیلی مظالم کے سامنے محض مذمتی قراردادوں تک محدود رہیں گے یا زمینی سطح پر امن و استحکام کے قیام میں حصہ لینے کی بھی جرأت رکھتے ہیں؟
بلاشبہ انڈونیشیا کی “فری اینڈ ایکٹو” خارجہ پالیسی کے لیے یہ ایک کڑی آزمائش ثابت ہو سکتی ہے ، جس کی نظریاتی بنیاد بانڈونگ کانفرنس اور دجوانڈا اعلامیے سے منسلک ہے اور غزہ جیسے پیچیدہ، عسکری اور سیاسی طور پر آتش فشاں جیسے ماحول میں فوجی تعیناتی نہ صرف سیکیورٹی خطرات کو جنم دے سکتی ہے بلکہ غیر جانبداری اور توازن کی سفارتی روایت کو بھی چیلنج کر سکتی ہے۔ تاہم یہی وہ مقام ہے جہاں سفارت کاری محض اصولی بیانات سے نکل کر عملی ذمہ داری میں ڈھلتی ہے۔ اگر امن فورس کا قیام مؤثر جنگ بندی، شہریوں کے تحفظ اور انسانی امداد کی بلا رکاوٹ ترسیل کو یقینی بنا سکے تو یہ اقدام موجودہ انسانی المیے، معروضاتی حالات اور وقت کے تقاضے کے پیش نظر بین الاقوامی سفارت کاری میں ایک فعال اور نتائج پر مبنی ماڈل کے طور پر ابھر سکتا ہے ۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ غزہ کے مشن کو روایتی اقوام متحدہ طرز کے امن مشن سے مماثل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہاں انسانی تقاضے اور عسکری اہداف باہم متصادم رہتے ہیں، اور کسی بھی بیرونی قوت کی موجودگی کو فریقین مختلف زاویوں سے دیکھتے، پرکھتے اور بھرپور ردِ عمل بھی دیتے ہیں۔ اس کے باوجود، مکمل خلا اور بے عملی کی صورت حال بھی کسی طور قابلِ قبول نہیں۔ ایسے میں ایک منظم اور واضح مینڈیٹ کے تحت قائم امن فورس کم از کم فوری سطح پر خونریزی روکنے، سویلین آبادی کو تحفظ فراہم کرنے اور تعمیرِ نو کے ابتدائی مرحلے کے لیے محفوظ ماحول پیدا کرنے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ چنانچہ اگرچہ یہ فیصلہ انڈونیشیا اور دیگر ممکنہ شریک ممالک کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک مشکل امتحان بن سکتا ہے، لیکن موجودہ انسانی المیے کے پیشِ نظر امن فورس کا قیام ایک ناگزیر ضرورت کے طور پر سامنے آتا ہے، تاہم یہ بھی واضح رہنا چاہیے کہ غزہ بورڈ آف پیس کسی حتمی سیاسی حل میں معاونت کار تو ثابت ہوسکتا ہے، مگر مکمل نعم البدل نہیں ہو سکتا۔ فلسطینی مسئلے کی جڑیں تاریخی، قانونی اور جغرافیائی عوامل میں پیوست ہیں، جن کا حل دو ریاستی فارمولے، بین الاقوامی ضمانتوں اور حقیقی خودمختاری کے بغیر ممکن نہیں۔ اگر یہ بورڈ محض عارضی استحکام تک محدود رہے اور فلسطینی خودارادیت کے سوال کو پسِ پشت ڈال دے تو اس کی افادیت محدود ہو جائے گی۔ اسی طرح اگر مغربی کنارے میں انتظامی انضمام کا عمل جاری رہتا ہے اور عالمی برادری مؤثر ردعمل دینے سے گریزاں رہتی ہے تو کسی بھی امن اقدام کی بنیاد کمزور رہے گی۔
نتیجتاً، غزہ بورڈ آف پیس فی الوقت ایک موقع بھی ہے اور آزمائش بھی۔ یہ مرحلہ ہے کہ انسانی جانوں کو فوری تحفظ فراہم کیا جائےاور غزہ وکو اسرائیل کے ہڑپ کرنے سے بچایا جائے۔ اور آزمائش یہ بھی ہے کہ شریک ممالک اپنے اصولی مؤقف اور اسٹریٹجک توازن کو برقرار رکھتے ہوئے ایک متنازع اور پیچیدہ فریم ورک میں مؤثر کردار ادا کریں ،وگرنہ اسرائیل اپنی ہٹ دھرمی اور اپنے مقاصد کو آگے بڑھانے میں فی الفور کامیابی حاصل کرنا شروع کردے گا۔ پاکستان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے فلسطینی حقِ خودارادیت، مستقل جنگ بندی اور منصفانہ سیاسی حل کے لیے اپنی آواز شامل کرتا رہے ۔ اگر یہ توازن قائم رکھا گیا تو یہ اقدام نہ صرف غزہ کے لیے بلکہ مشرقِ وسطیٰ کے وسیع تر استحکام کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتا ہے بلکہ مسلم اور عرب ممالک کو ایک وقت اور موقع مل سکتا ہے کہ وہ اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں تاکہ وہ آنے والے وقت میں ایسی جارحیت کا سیاسی ، سفارتی اور منطقی جواب دینے کی طاقت رکھ سکیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں