گولڈن ڈوم: ایک ملک کے تحفظ سے عالمی عدم تحفظ تک

تازہ ترین

تازہ ترین

ایران ایک طرف اور اسرائیل و امریکا کی مشترکہ فوجی طاقت دوسری طرف اور طرفین کے درمیان اس تیزی سے بڑھتی ہوئی محاذ آرائی نے مشرقِ وسطیٰ کے جغرافیائی و سیاسی منظرنامے کو ازسرِنو تشکیل دینا شروع کر دیا ہے۔

دراصل 28 فروری 2026 کو امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مشترکہ بمباری کے بعد شروع ہونے والی جنگ کے ابتدائی دنوں میں ہی انسانی جانوں نقصان انتہائی سنگین رہا۔ اطلاعات کے مطابق اس جنگ سے اب تک ایران میں 1300 سے زائد افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے جب کہ امریکی و اسرائیلی فضائی حملوں کی لہروں نے مختلف صوبوں میں فوجی تنصیبات، میزائل اڈوں، ہوائی اڈوں اور اسٹریٹجک مراکز کو نشانہ بنایا۔

جوابی کارروائی میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں سے اسرائیل میں بھی متعدد شہری ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے، جس سے ظاہر ہوا کہ یہ تصادم کس تیزی سے فوجی اہداف سے آگے بڑھ کر شہری علاقوں تک پھیل گیا ہے۔ جنگی محاذ سے ہٹ کر بنیادی انفراسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے؛ تیل کے ذخائر، مواصلاتی نیٹ ورک اور دفاعی تنصیبات پر مربوط حملوں نے دنیا کے توانائی سے مالا مال ترین خطوں میں طویل مدتی معاشی عدم استحکام کے خدشات کو جنم دیا ہے۔

فوجی تجزیہ کاروں کے مطابق اس جنگ کے پہلے ہی ہفتے میں امریکا اور اسرائیل نے ایران بھر میں 600 سے زائد اہداف پر سینکڑوں مربوط حملے کیے اور ہزاروں جدید ہتھیار استعمال کیے۔ فضائی دفاعی نظام، میزائل لانچرز، بحری اثاثے اور اسٹریٹجک فوجی کمپلیکس تباہ یا شدید متاثر ہوئے۔ یہ تیز رفتار کشیدگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ محض مشرقِ وسطیٰ کا بحران نہیں بلکہ ایک بڑے عالمی جغرافیائی سیاسی مقابلے کا حصہ ہے۔

ناقدین کے مطابق یہ جنگ خطے میں طاقت کے توازن کو ازسرِنو ترتیب دینے کی ایک وسیع کوشش کی عکاسی کرتی ہے، جس کا مقصد نہ صرف اختلافی آوازوں کو خاموش کرنا بلکہ خطے کے وسیع توانائی وسائل پر اثر و رسوخ قائم رکھنا بھی ہے۔ بعض مبصرین اسے واشنگٹن کی کئی دہائیوں پر محیط اس کوشش کا تسلسل سمجھتے ہیں جس کے ذریعے وہ عالمی بالادستی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ تاہم اس پالیسی کی قیمت اکثر عام امریکی شہریوں کو چکانا پڑتی ہے،  چاہے وہ جنگی علاقوں میں ہوں یا خود امریکا کے اندر۔ اسی طرح اسرائیل میں بھی عام لوگ چند طاقتور حلقوں کے مفادات کے باعث مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

طاقت کی سیاست کا یہ نمونہ نیا نہیں۔ دہائیوں سے عالمی تنازعات اکثر بڑی طاقتوں کے اسٹریٹجک حساب کتاب کے تحت جنم لیتے رہے ہیں، جبکہ چھوٹے ممالک اور عام آبادی اس کے نتائج بھگتتی رہی ہے۔ توانائی وسائل سے مالا مال اور عالمی تجارتی راستوں کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث مشرقِ وسطیٰ بارہا ایسی رقابتوں کا میدان بنتا رہا ہے۔ فوجی مداخلتوں، پراکسی جنگوں اور پابندیوں کے سلسلے نے اس خطے کو مسلسل عدم استحکام کا شکار بنائے رکھا ہے۔

خود امریکا کے اندر بھی ان پالیسیوں کی انسانی اور معاشی قیمت پر سوالات بڑھتے جا رہے ہیں۔ گزشتہ دو دہائیوں میں عراق، افغانستان اور شام سمیت مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں پر کھربوں ڈالر خرچ ہو چکے ہیں، جس کا بڑا بوجھ امریکی ٹیکس دہندگان نے اٹھایا۔ ہزاروں امریکی فوجی جان سے گئے جبکہ خطے میں لاکھوں شہری ہلاک یا بے گھر ہوئے۔

اسی پس منظر میں ایران کے ساتھ موجودہ تنازع امریکا کی عالمی حکمتِ عملی کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھاتا ہے۔ اگرچہ واشنگٹن اپنے اقدامات کو سکیورٹی اور قوت کے لیے ضروری قرار دیتا ہے، مگر ناقدین کے مطابق بار بار فوجی طاقت کا استعمال عدم استحکام کو کم کرنے کے بجائے مزید گہرا کر سکتا ہے۔

اس وسیع تر تناظر میں ایک اہم پیش رفت امریکا کا مجوزہ میزائل دفاعی نظام “گولڈن ڈوم” ہے جس کا اعلان 20 مئی 2025 کو ڈونلڈ ٹرمپ نے کیا تھا۔ اس منصوبے کے تحت زمین کے گرد نگرانی اور جنگی سیٹلائٹس کا ایک وسیع جال قائم کیا جائے گا جو میزائل لانچ کو فوری طور پر شناخت کر کے انہیں مدار میں موجود لیزر، کائنیٹک یا ریڈیو فریکوئنسی ہتھیاروں کے ذریعے تباہ کرنے کی صلاحیت رکھے گا۔ منصوبے کے مطابق یہ نظام دنیا کے کسی بھی حصے سے داغے گئے میزائل کو روکنے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے۔

حامیوں کے مطابق یہ نظام امریکا اور اس کے اتحادیوں کو بڑھتے ہوئے میزائل خطرات سے محفوظ رکھے گا، مگر ناقدین خبردار کرتے ہیں کہ اس کے اثرات دفاع سے کہیں زیادہ وسیع ہو سکتے ہیں۔ سرد جنگ کے بعد سے عالمی اسٹریٹجک استحکام کا انحصار قابل بھروسہ قوت پر رہا ہے،  یعنی یہ یقین کہ کوئی بھی ریاست حملہ کرے تو اسے تباہ کن جوابی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اگر ایک ملک کو ایسی تقریباً مکمل حفاظت حاصل ہو جائے تو یہ توازن ٹوٹ سکتا ہے۔

اسی لیے سلامتی کے شعبے میں یکطرفہ اقدامات اکثر دیگر ریاستوں کو جوابی اقدامات پر مجبور کر دیتے ہیں۔ باہمی سلامتی کا وہ اصول، جس کے مطابق کوئی بھی ملک دوسروں کی قیمت پر اپنی حفاظت نہیں بڑھاتا،  عالمی استحکام کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔ جب کوئی بڑی طاقت تکنیکی ناقابلِ تسخیریت حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کے حریف نئی ہتھیاروں کی دوڑ شروع کر دیتے ہیں۔

ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ “گولڈن ڈوم” خلاء میں ایک نئی ہتھیاروں کی دوڑ کو جنم دے سکتا ہے۔ اگر ایک ملک خلائی میزائل دفاعی نظام تعینات کرتا ہے تو دوسرے ممالک بھی اسی نوعیت کی ٹیکنالوجی یا سیٹلائٹ شکن ہتھیار تیار کرنے لگیں گے۔ ایسی صورت میں خلائے بسیط سائنسی تعاون کے میدان کے بجائے فوجی مقابلے کا نیا محاذ بن سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس سمت میں پیش رفت پہلے ہی شروع ہو چکی ہے۔ رپورٹس کے مطابق گزشتہ برسوں میں زمین کے گرد گردش کرنے والے فوجی سیٹلائٹس کی تعداد تیزی سے بڑھی ہے اور ان میں سے نصف سے زیادہ امریکا کے ہیں۔ خلاء میں اس غلبے نے دیگر ممالک کو اپنے عسکری خلائی پروگرام تیز کرنے پر آمادہ کیا ہے۔

خلاء کی عسکریت کاری کے خطرات صرف جنگ تک محدود نہیں۔ سیٹلائٹس آج کی عالمی تہذیب کے بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہیں جن میں مواصلاتی نظام، نیویگیشن، بینکاری لین دین، موسمی پیش گوئی اور آفات سے نمٹنے کے نظام شامل ہیں۔ اگر خلاء میدانِ جنگ بن گیا تو یہ تمام نظام خطرے میں پڑ سکتے ہیں۔

ان خطرات کو دیکھتے ہوئے بعض ممالک نے خلاء میں ہتھیاروں کی دوڑ روکنے کے لیے عالمی قوانین بنانے کی کوشش کی ہے۔ 2008 میں روس اور چین نے جنیوا میں اسلحے کے خاتمے سے متعلق کانفرنس میں ایک معاہدے کا مسودہ پیش کیا جس میں خلاء میں ہتھیار رکھنے اور خلائی اشیا کو تباہ کرنے پر پابندی کی تجویز دی گئی تھی۔ تاہم وسیع بحث کے باوجود یہ تجویز اب تک منظور نہیں ہو سکی۔

ان تمام پیش رفتوں کے پیچھے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا عالمی استحکام ایک ایسی دنیا میں ممکن ہے جہاں طاقت ایک ہی سپر پاور یا چند اتحادی ریاستوں کے ہاتھ میں مرتکز ہو۔ مشرقِ وسطیٰ سے لے کر مشرقی یورپ تک بار بار ابھرنے والے تنازعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایسا نظام اکثر استحکام کے بجائے رقابت پیدا کرتا ہے۔

اسی لیے بہت سے ماہرین اب ایک کثیر قطبی عالمی نظام کی وکالت کرتے ہیں، جہاں طاقت کئی بڑی قوتوں کے درمیان تقسیم ہو۔ اس نظام میں مقابلہ ختم نہیں ہوتا، مگر کوئی ایک طاقت اپنی مرضی پوری دنیا پر مسلط نہیں کر سکتی۔

ایسے نظام میں بین الاقوامی اداروں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے اور ممالک سفارتی حل تلاش کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ چھوٹے اور درمیانے درجے کے ممالک کو بھی نسبتاً زیادہ خودمختار خارجہ پالیسی اپنانے کی گنجائش مل جاتی ہے۔

ایران، اسرائیل اور امریکا کے درمیان موجودہ تصادم اس توازن کی ضرورت کو واضح کرتا ہے۔ جب طاقتور ریاستیں یکطرفہ حکمت عملی اختیار کرتی ہیں، چاہے وہ فوجی مداخلت ہو یا “گولڈن ڈوم” جیسے بڑے تکنیکی منصوبے، تو کشیدگی کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے برعکس کثیر قطبی نظام ضبط، مکالمے اور مشترکہ سلامتی کو فروغ دیتا ہے۔

تاریخ بتاتی ہے کہ پائیدار امن اکثر طاقت کے مکمل غلبے سے نہیں بلکہ توازن سے جنم لیتا ہے جہاں مفادات پر بات چیت ہوتی ہے، طاقت متوازن ہوتی ہے اور ٹیکنالوجی کو عالمی اصولوں کے تحت منظم کیا جاتا ہے۔ تیزی سے بدلتی ٹیکنالوجی اور بڑھتی جغرافیائی سیاسی رقابت کے اس دور میں کثیر قطبی دنیا کو اپنانا محض نظریاتی انتخاب نہیں بلکہ شاید ایک زیادہ محفوظ اور مستحکم عالمی نظام کی واحد قابلِ عمل راہ ہو۔

Related Posts