ام ارباب کیس؛ بریت کے بعد جشن یا طاقت کا مظاہرہ؟ پیپلز پارٹی کے ارکان اسمبلی تنقید کی زد میں

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

دادو میں تہرے قتل کیس میں بریت کے فیصلے کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی جب پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی سردار احمد چانڈیو اور برہان خان چانڈیو کے حامیوں نے شہر میں اسلحہ برداروں کے ساتھ فاتحانہ مارچ کیا۔ اس دوران شدید ہوائی فائرنگ کی گئی جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا اور شہری گھروں تک محدود ہو کر رہ گئے۔

سندھ کی عدالت نے ام رباب چانڈیو کے والد، دادا اور چچا کے قتل کے مقدمے میں سردار چانڈیو اور دیگر نامزد ملزمان کو بری کر دیا۔ اس فیصلے کے فوراً بعد شہر میں جشن کا سماں بن گیا تاہم اسلحہ کی نمائش اور فائرنگ نے قانون و امن کی صورتحال پر سوالات کھڑے کر دیے۔

دوسری جانب اس واقعے نے انصاف کے نظام پر بھی بحث چھیڑ دی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ برسوں تک عدالتوں کے چکر کاٹنے کے باوجود متاثرہ خاندان کو انصاف نہ مل سکا جبکہ طاقتور حلقے ایک بار پھر غالب آتے دکھائی دیے۔

پیپلز پارٹی پر بھی تنقید کی جا رہی ہے کہ اس کے منتخب نمائندوں کے حامیوں کی جانب سے اسلحہ بردار مارچ اور فائرنگ جیسے اقدامات نے نہ صرف عوام میں خوف پیدا کیا بلکہ قانون کی بالادستی پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا۔

سوشل حلقوں میں یہ تاثر زور پکڑ رہا ہے کہ ملک میں کمزور کے لیے انصاف کا حصول مشکل ہوتا جا رہا ہے جبکہ بااثر افراد کے لیے راستے آسان دکھائی دیتے ہیں۔ ام رباب چانڈیو کی طویل جدوجہد کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے جہاں کئی لوگوں کے نزدیک یہ صرف ایک مقدمہ نہیں بلکہ نظامِ انصاف کا امتحان تھا۔

Related Posts