حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کی توڑ پھوڑ نے دنیا کو ہلا دیا! اقوام عالم اسرائیلی فوج پر بھڑک اٹھی

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ اسکرین گریب)

اسرائیل فوجی کی جانب سے لبنان میں حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کی بے حرمتی کی تصاویر منظرِ عام پر آنے کے بعد دنیا بھر میں شدید غم و غصہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ان تصاویر میں ایک اسرائیلی فوجی کو مجسمہ نقصان پہنچاتے ہوئے دکھایا گیا جس پر صارفین نے سخت ردعمل دیا اور اسے مذہبی علامات پر حملہ قرار دیا۔ کئی افراد نے اس معاملے پر مغربی دنیا کی خاموشی پر بھی سوالات اٹھائے۔

یہ ردعمل اس وقت مزید بڑھ گیا جب ایک ویڈیو سامنے آئی جس میں ایک فوجی کو جیک ہیمر کے ذریعے لبنان کے قصبے دیر سیریان میں حضرت عیسیٰؑ کے مجسمے کے سخت بے حرمتی کرتے ہوئے دیکھا گیا۔ اس واقعے نے نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کی۔

پیر کے روز اسرائیلی فوج نے تصدیق کی کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصویر حقیقی ہے۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور خطے میں پہلے ہی نازک جنگ بندی اور مسیحی برادری کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی موجود ہے۔

یہ افسوسناک واقعہ اس دعوے کے برعکس سامنے آیا ہے جس میں اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ وہ شہری ڈھانچے، بشمول مذہبی مقامات اور علامات کو نقصان پہنچانے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی۔

امریکہ کی سابق رکنِ کانگریس مارجری ٹیلر گرین نے اس پیش رفت پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اربوں ڈالر کی امداد اور اسلحہ حاصل کرنے والا ملک جسے امریکہ کا قریبی اتحادی کہا جاتا ہے اس طرح کے اقدامات کیسے کر سکتا ہے۔

صحافی رائن گریم نے بھی اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی فوجی گزشتہ ڈھائی سال سے مسلسل اپنی کارروائیوں اور ثقافتی بے حرمتی کی تصاویر خود ہی شیئر کر رہے ہیں۔

دوسری جانب مبصر اور سابق کانگریس رکن میٹ گیٹس نے اس واقعے کو نہایت خوفناک قرار دیا ہے جبکہ سوشل میڈیا پر اس معاملے پر بحث اور تنقید کا سلسلہ جاری ہے۔

Related Posts