معرکۂ حق: پاکستان کی عظمت اور فتح کا تاریخی دن

تازہ ترین

تازہ ترین

آج کا دن ایک عظیم الشان دن ہے، وہ دن جس نے تاریخ کے صفحات پر پاکستان کے عزم، حوصلے اور غیرت کی روشن مثال رقم کی۔ یہ وہ دن ہے جب پاکستان کی عزت، وقار اور تکریم نے نئی بلندیوں کو چھوا، جب دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں مل گئے اور شکست اس کا مقدر بنی۔ یہ وہ لمحہ تھا جب معرکہ حق میں سچائی کی فتح ہوئی اور پاکستان کے سبز ہلالی پرچم نے ایک بار پھر سربلندی کے آسمان کو چھو لیا۔

بھارت کا وہ گھمنڈ، جو برسوں سے تکبر اور غرور کی صورت میں پروان چڑھ رہا تھا، اس وقت زمین بوس ہو گیا جب اس کے جنگی منصوبے ناکامی سے دوچار ہوئے اور اس کے عسکری عزائم کو شدید نقصان پہنچا۔ معرکہ حق میں بھارت کے کئی جنگی اثاثے اور فضائی طاقت کو پاکستان کی مؤثر جوابی کارروائی میں شدید دھچکا لگا۔ یہ سب اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طاقت کا اصل معیار تعداد نہیں بلکہ عزم، حکمت اور ایمان ہوتا ہے۔ پاکستان کی بہادر مسلح افواج نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور جرات سے یہ ثابت کر دیا کہ ایک باہمت قوم بڑے سے بڑے دشمن کو بھی ذلت کے شدید احساس کے ساتھ جھکنے پر مجبور کرسکتی ہے۔

پاکستان کے نڈر اور بہادر ہوا بازوں کے ساتھ ساتھ میزائل اور راکٹ فورس کے ہونہار سپوتوں نے جس مہارت، دلیری اور نظم و ضبط کے ساتھ دشمن کے اہم عسکری مراکز کو نشانہ بنایا، وہ دنیا کی عسکری تاریخ میں ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے ثابت کیا کہ جب وطن کی حفاظت کا سوال ہو تو پھر جان کی پرواہ نہیں کی جاتی، بلکہ ہر سانس، ہر لمحہ اور ہر عمل صرف اور صرف وطن کی سلامتی کے لیے وقف ہو جاتا ہے۔

میرے دیس کے ہونہار نوجوانو! تمہیں اس عظیم دن کی مبارکباد۔ یہ فتح صرف ایک عسکری کامیابی نہیں بلکہ ایک نظریے کی فتح ہے، ایک سوچ کی کامیابی ہے، اور اس عزم کی جیت ہے جو نسل در نسل اس قوم کی رگوں میں دوڑتا آیا ہے۔ آج کا دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ قومیں صرف اسلحے سے نہیں بلکہ جذبے، ایمان اور کردار سے بنتی ہیں۔ آج ہم نے دنیا کو دکھا دیا کہ پاکستان ایک زندہ، باوقار اور خوددار قوم ہے جو اپنی آزادی اور خودمختاری پر کبھی سمجھوتہ نہیں کرتی۔

ہم اپنی مادرِ وطن کی آزادی و خودمختاری کی خاطر ہر دور میں ملک کی سرحدوں کی حفاظت کیلئے جذبہ شہادت سے سرشار اور سربکف ہو کر میدان میں اترے ہیں۔ یہی وہ جذبہ ہے جو پاکستان کے سبز ہلالی پرچم کو نہ صرف قائم و دائم رکھتا ہے بلکہ اسے مزید مستحکم اور سربلند کردیتا ہے۔ بلاشبہ:
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا، وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے، اس جاں کی تو کوئی بات نہیں

یہ شعر ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اصل عظمت جانثاری کے ساتھ ساتھ مضبوط ارادے، عزمِ مصمم اور اپنے عظیم مقصد کی سچائی میں ہے۔ وہ لوگ جو وطن کی خاطر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں، وہ کبھی مرتے نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے امر ہو جاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ خود اپنی بابرکت کتاب قرآن مجید میں ان کی زندگی کی شہادت دیتا ہے۔

ہماری مسلح افواج کی جرات، قربانی اور پیشہ ورانہ مہارت کو سلام پیش کرنا ہر پاکستانی کا فرض ہے۔ انہوں نے نہ صرف دشمن کے عزائم کو ناکام بنایا بلکہ دنیا کو یہ بھی باور کرایا کہ پاکستان ایک ذمہ دار مگر ناقابلِ تسخیر ریاست ہے۔ میں معرکہ حق کے سپہ سالار، چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں جن کی بے باک قیادت نے اس جذبے کو سرشار کیا کہ جس کے تحت یہ عظیم کامیابی ممکن ہوئی۔ اسی طرح ان تمام جوانوں، افسران، ہوا بازوں اور انجینئرز کو سلام جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر وطن کے دفاع کو یقینی اور ناقابلِ شکست بنایا۔ سلام ہے ان شہیدوں ، جانثاروں اور ان کے خاندانوں کہ جن کے فرزند ملک کیلئے دشمن سے لڑ کر شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے اور اپنے لہو سے ملک کے مستقبل کو شاندار تابناکی سے مزین کردیا۔

اور ہم ان شہداء کو کیسے بھول سکتے ہیں جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے اس پاک سرزمین کو دشمن کے مذموم عزائم اور دشمن کی عیاری و مکاری اور سفاکی سے محفوظ بنایا۔ وہ شہید جو مٹی میں مل کر بھی امر ہو گئے، وہ دراصل حیاتِ جاوداں پا گئے۔ انہوں نے اپنے خون سے اس وطن میں موجود ہر عزم و حوصلے کے درخت کو سینچا اور ہمیں ایک محفوظ مستقبل عطا کیا۔

اگر ہم اللہ تعالیٰ کے احسانات کا بدلہ دینا چاہیں تو یہ ہمارے بس میں نہیں، لیکن ہم اپنی ذمہ داریوں کو ایمانداری، محنت اور اخلاص سے ادا کر سکتے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جس کی طرف ہمیں بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے رہنمائی دی۔ ان کا قول آج بھی ہمارے لیے مشعلِ راہ ہے کہ “کام، کام اور صرف کام” ہی قوموں کو ترقی کی منزل تک پہنچاتا ہے۔

آج ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ کامیابی ایک انجام نہیں بلکہ ایک آغاز ہے۔ اصل امتحان اب شروع ہوتا ہے کہ اب ہمیں اقربا پروری اور بدعنوانی جیسے ناسوروں کا خاتمہ کرتے ہوئے اپنے ملک کی معیشت، تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی میں اسی جذبے کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا جس جذبے کے ساتھ ہم نے دفاعی محاذ پر کامیابی حاصل کی۔ اگر ہم نے اس جذبے کو برقرار رکھا تو دنیا کی کوئی طاقت ہمیں ترقی و خوشحالی کی منازل طے کرنے سے نہیں روک سکتی۔

بھارت ہمیشہ اپنی عددی برتری، فوجی طاقت اور وسائل کا دعویٰ کرتا رہا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ اس کی فوجی صلاحیت پاکستان سے دو گنا زیادہ، اس کا دفاعی بجٹ 8 گنا زیادہ ہے اور اس کی افرادی قوت بھی دو گنا ہے، دفاعی اخراجات کی بات کی جائے تو پاکستان کے دفاعی اخراجات 62ارب ڈالرز رہے ہیں جس کے مقابلے میں بھارت کے اخراجات 600ارب سے بھی تجاوز کر گئے لیکن معرکہ حق نے یہ ثابت کر دیا کہ اصل طاقت تعداد یا دفاعی اخراجات نہیں بلکہ ایمان، نظم و ضبط اور پیشہ ورانہ مہارت سے پیدا ہوتی ہے۔ پاکستان نے یہ واضح کر دیا کہ اگر نیت سچی ہو اور عزم مضبوط ہو تو کم وسائل میں بھی بڑے معرکے سر کیے جا سکتے ہیں۔

پاکستان نے ہمیشہ عالمی قوانین کا احترام کرتے ہوئے اپنے دفاع کا حق استعمال کیا ہے۔ ہم نے جارحیت کا جواب اصول، حکمت اور طاقت کے امتزاج سے دیا کیونکہ پاکستانی قوم اور پاک فوج اصول پر مبنی خارجہ پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔پاکستان ہمیشہ امن کی جانب گامزن رہتا ہے لیکن اگر کوئی پاکستانی قوم پر ظلم کرنے کا سوچتا ہے تو پھر پاک فوج کے پاس دفاعی صلاحیت کے استعمال کے سوا کوئی اور راستہ باقی نہیں بچتا۔ بقول شاعر:
ہم امن چاہتے ہیں مگر ظلم کے خلاف
گر جنگ لازمی ہے تو پھر جنگ ہی سہی

یہی وہ توازن ہے جو ایک ذمہ دار ریاست کو دنیا میں ممتاز بناتا ہے۔ ہم نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ پاکستان امن چاہتا ہے، لیکن اس امن کی خواہش کو ہماری کمزوری سمجھنے کی غلطی سمجھنے والے دشمن کو سبق سکھانا بھی جانتا ہے اور ایسا سبق جو وہ نسل در نسل ہمیشہ یاد رکھے گا ۔

دنیا میں قوموں کی کامیابی کا معیار ان کی آبادی یا رقبہ نہیں ہوتا بلکہ ان کی سوچ، ان کی بصارت و بصیرت اور ان کی اجتماعی قوتِ ارادی ہوتی ہے۔ آج کے دور میں انجینئرز، سائنسدان، پائلٹس، ڈاکٹرز اور طلبہ و طالبات ہی وہ ہراول دستہ ہیں جو کسی بھی ملک کی تقدیر بدل سکتے ہیں۔ اگر ہماری نوجوان نسل علم، تحقیق اور محنت کو اپنا شعار بنا لے تو پاکستان دنیا کی صفِ اول کی قوموں میں شامل ہو سکتا ہے۔

یہ بھی ہماری اپنے وطن سے بے بہا محبت کا ثبوت ہے کہ ہمارے نوجوان تعلیم، نظم و ضبط اور جدت کے ذریعے دشمن کے تمام اندازوں کو غلط ثابت کر رہے ہیں۔ نعرے لگانا آسان ہے، لیکن قومیں نعروں سے نہیں بلکہ عمل سے بنتی ہیں۔ ایک مضبوط ریاست وہی ہے جو محنت، دیانت اور پیشہ ورانہ تربیت پر یقین رکھتی ہے۔

آج ہم نے جو کامیابی حاصل کی ہے، وہ صرف عسکری نہیں بلکہ معاشی اور سفارتی سطح پر بھی پاکستان کے لیے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔ امن کا راستہ ہمیشہ طاقت سے ہو کر گزرتا ہے، اور ہم نے یہ طاقت ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر کے دنیا کو ایک مثبت پیغام دیا ہے۔ اس کے نتیجے میں ان شاء اللہ ہمارے ملک میں سرمایہ کاری بڑھے گی، تجارت کو فروغ ملے گا اور معیشت کو استحکام بھی حاصل ہوگا۔

آخر میں یہ کہنا بھی ضروری محسوس ہوتا ہے کہ معرکہ حق کی یاد دلاتا ہوا یہ خوبصور ت اور شاندار دن ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ پاکستان صرف ایک خطہ نہیں بلکہ ایک نظریہ ہے۔ یہ نظریہ قربانی، ایمان اور اتحاد کا نام ہے۔ جب تک ہم اس نظریے سے وابستہ رہیں گے، دنیا کی کوئی طاقت ہمیں شکست نہیں دے سکتی۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی صفوں میں اتحاد قائم و دائم اور برقرار رکھیں، اپنے قومی اداروں پر اعتماد کریں اور اپنی آنے والی نسلوں کو علم، اخلاق اور حب الوطنی کا درس دیں۔

Related Posts