پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز کے باوجود تمام انتباہات کو نظر انداز کرتے ہوئےاس ہفتے کے آخر میں لاہور میں اپنے اگلے سیاسی پاور شوکے لئے تیار ہے لیکن لگتا ہے کہ اپوزیشن کو یہ احساس ہوگیا ہے کہ جلسے اور مظاہروں سے عمران خان کی حکومت کا خاتمہ ممکن نہیں ہے لہٰذا حزب اختلاف نے پارلیمنٹ سے استعفے دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
پی ڈی ایم کے اجلاس میں آگے بڑھنے کے راستے خصوصاً استعفوں کے معاملے پر غور کیا گیا۔ جے یو آئی (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کو یقین ہے کہ استعفوں سے تحریک انصاف کی حکومت کا خاتمہ ہوسکتا ہے لیکن یہ واضح نہیں ہے کہ آیا اپوزیشن کی تمام جماعتیں اور اراکین بھی اس میں شامل ہیں یا نہیں۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ 31 دسمبر تک پارٹی سربراہان کو استعفیٰ دے دیا جائے گا اور انھیں پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا حتمی اختیار ہوگا۔
حقیقت یہ ہے کہ پی ڈی ایم نے اس فیصلے کو ماہ کے آخر میں دھکیل دیا ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ معاملہ متنازعہ ہے۔ اگر تمام فریقین نے متفقہ طور پر اتفاق کیا ہوتا تو استعفوں کو اگلے ہفتے کے آغاز یا جلسے کے دوران پیش کیا جاسکتا تھا۔ یہ واضح ہے کہ استعفوں کے معاملے پر پی ڈی ایم میں تلخی پائی جاتی ہے اورایسا لگتا نہیں کہ اگر واقعی استعفے پیش کردیئے جائیں گے ۔
پی ڈی ایم صرف قومی اسمبلی سے استعفے دے رہی ہےصوبائی اسمبلیوں سے نہیں ، پیپلز پارٹی نے سندھ حکومت چھوڑنے سے انکار کردیا ہے اور ن لیگ پنجاب میں مستعفی ہوتی نظر نہیں آتی۔ جزوی مستعفی ہونے کی صورت میں پی ڈی ایم کا بنیادی مقصد حل نہیں ہوگا اورغالبا امکان ہے کہ ضمنی انتخابات ہوں گے اور پی ٹی آئی کو دو تہائی اکثریت مل جائیگی جس کی وہ امید کر رہی ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگلے سال مارچ میں سینیٹ کے انتخابات ہونے والے ہیں اور تمام جماعتیں نشستوں پر قبضہ کرنے کے لئے کمر بستہ ہیں۔ تحریک انصاف ایوان بالا میں اکثریت حاصل کرنے کے لئے تیار ہے اور اپوزیشن جماعتیں انہیں روکنے کے لئے کوششیں کریں گی۔
شاید پی ڈی ایم کی جاری مہم صرف عمران خان کی حکومت کو گرانے کے لئے نہیں ہے بلکہ اپوزیشن کا مقصد پی ٹی آئی کو پارلیمنٹ میں بھاری اکثریت حاصل کرنے سے روکنا ہے۔پی ڈی ایم کے لئے دوسرا عمل اسلام آباد تک فیصلہ کن لانگ مارچ کرنا ہے تاہم کورونا کی خراب صورتحال کے پیش نظر یہ ایک مشکل کام ہے اورایسا لگتا نہیں کہ پی ڈی ایم اس طرح کی سخت سیاسی مشق کے لئے تیارہے۔