ملک بھر ہونے والی بجلی کی بندش

تازہ ترین

تازہ ترین

نیشنل پاور گرڈ میں فنی خرابی کے باعث ملک کے بیشتر حصوں میں بجلی کی بندش کے بعد پنجاب سمیت سندھ بلوچستان اور اسلام آباد کے بیشتر علاقے تاریکی میں ڈوب گئے تھے۔ نیشنل پاور گرڈ انتظامیہ نے بھی فنی خرابی کی تصدیق کردی تھی، جبکہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر مختلف قسم کی افواہیں گردش کرنے لگیں۔ جس کے باعث شہری پریشانی میں مبتلا ہوگئے۔ سوشل میڈیا میڈیا پر بریک ڈاؤن کے حوالے سے ہنگامہ برپا کردیا گیا۔

اس گھمبیر صورتحال پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرِ توانائی عمر ایوب نے کہا ہے کہ بریک ڈاؤن صرف پاکستان میں نہیں ہوا، ایسا دنیا بھر میں ہوتا رہتا ہے۔عمر ایوب نے کہا کہ گدو پاور پلانٹ سے 5 کے وی کے 3 سرکٹ نکلتے ہیں اور دھند کے باعث مسئلہ تلاش کرنے میں دشواری کا سامنا ہے۔سسٹم میں فنی خرابی کیوں آئی؟ اس پر تحقیقات کررہے ہیں، وزیرِ اعظم عمران خان نے بجلی جلد بحال کرنے کی ہدایت کی ہے، 2013ء سے اب تک 8 بار بجلی کے بریک ڈاؤن ہوئے۔اُن کا کہنا تھا کہ پوری کوشش ہے کہ آئندہ ایسی صورتحال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

ملک میں اس قسم کے واقعہ کا رونما ہونا غیر معمولی ہے، اعلیٰ حکام کو جانب ٹھوس اور موثر قدم اٹھانے کی ضرورت ہے، ایسا پہلی بار نہیں ہوا، اس سے قبل بھی اس قسم کے واقعات رونما ہوچکے ہیں، پاکستان کے معاشی حب کراچی میں بھی صورتحال ملک کے دوسرے شہروں سے مختلف نہیں تھی، تقریباً 80فیصد شہر تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، سب سے بڑھ کر یہ کہ بجلی کی بندش کے باعث بعض اسپتالوں میں ہونے والے آپریشن منسوخ کرنا پڑ گئے جس کے باعث مریضوں کو کرب کا سامنا کرنا پڑا۔

حکومت کی جانب سے اس پر ایکشن بھی لیا گیا ہے جو خوش آئند ہے،سینٹرل پاور جنریشن کی جانب سے غفلت کے مرتکب 2 افسران سمیت 7 افراد کونوکری سے برخاست کردیا گیا ہے، سینٹرل پاور جنریشن کی جانب سے باقاعدہ طور پر اس کا نوٹیفیکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے، سب باتیں اپنی جگہ ٹھیک مگر حیرانگی کی بات یہ ہے کہ کراچی میں کے الیکٹرک کے پاس ایمرجنسی صورتحال کا سامنا کرنے کے لئے کوئی متبادل نظام موجود نہیں ہے، جو ایک سوالیہ نشان ہے؟ اس جانب فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے، تاکہ آئندہ اس قسم کی صورتحال کا سامنا کیا جاسکے۔

Related Posts