شہر کے بڑے بڑے سرکاری بنگلوں اور دفاتر کے باہر صبح کے وقت گزرئیے توآپ کو چند لوگ باہر سبز پٹی پر بیٹھے دکھائی دیں گے۔
یہ وہ سائلین ہوتے ہیں جن کے پاس سفارش نہیں ہوتی۔یہ سفید پوش بعد از سحر خیزی شہروں کی جانب روانہ ہوجاتے ہیں اور سورج اگنے سے قبل افسر شاہی کے دفاتر اور گھروں کے باہر ڈیرے ڈال لیتے ہیں۔
افسر صاحب جب تشریف لاتے ہیں تو یہ لوگ ہاتھ میں کاغذ تھامے ان کی جانب دوڑتے ہیں۔ رش زیادہ بڑھ جاے تو پولیس محافظین دھکے دے کر انہیں دور کرتے ہیں اور “لارڈ صاحب” کو ٹھنڈے دفتر یا سرکاری گاڑی میں بٹھا کر روانہ کر دیتے ہیں۔
پولیس محافظ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداری کا کام سر انجام دیتے ہیں۔ان کی کوشش ہوتی ہے کہ یہ لوگ کسی بھی طرح افسر تک نہ پہنچ پائیں۔پولیس ملازمین اپنی تربیت سے مجبور ہوتے ہیں جو انہیں انگریز سے ورثہ میں ملی ہے، کہ صاحب بہادر سے غلام قوم کو دور رکھا جاے۔
دیہات سے آے ان لوگوں کو ہفتے کا ایک دن بتایا جاتا ہے کہ فلاں دن، فلاں سے فلاں وقت تک کھلی کچہری لگے گی آپ تب تشریف لے آئیں۔ مجبوری کے مارے ان لوگوں کے پاس ایک اور طریقہ ہوتا ہے جو انہیں دور غلامی سے ہی اپنی آل سے وراثت میں ملا ہے کہ افسروں کی بیگمات کو خوش کیا جاے۔
دیہاتیوں کے لیئے بیگم صاحبہ کو مسرور کرنا ایک معرکہ آراء کام ہوتا ہے۔ دفتر یا افسر کے گھر سے خوار ہونے کے بعد دوپہر کو یہ لوگ پھر سے افسران کے گھروں کے باہر بیٹھ جاتے ہیں تاکہ وہ کسی طرح بیگم صاحبہ کی نظروں میں آجائیں۔ اگر کسی شخص کا کوئی واقف کار ملازم سرکاری رہائش گاہ میں ہو تو وہ انہیں کلیہ(فارمولا) سمجھا کر گھر کے وسیع و عریض باغیچہ تک رسائی دے دیتا ہے۔
وہ کلیہ یہ ہوتا ہے کہ بیگم صاحبہ کو ساگ بہت پسند ہے یہ لوگ گھروں سے ساگ بنواتے ہیں مکھن اور لسی باجرہ یا مکئ کا آٹا گٹھری میں باندھتے ہیں اور انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں۔ درجہ چہارم کا ملازم بیگم صاحبہ کے مزاج(موڈ) کے مطابق بات آگے بڑھاتا ہے۔۔۔ بیگم صاحبہ ذرا اس بندے کی بات سن لیں تین دنوں سے آرہا ہے۔ بیگم صاحبہ تشریف لاتی ہیں اور یہ لوگ ان کے سامنے ہاتھ باندھ کر سر جھکائے چہرے پر مسکینیت لا کر خوش آمدانہ انداز میں کہتے ہیں کہ دھی رانی تسی ہن ساڈے مائی باپ او(بیٹی اب آپ ہی ہماری والی وارث ہیں) ہم لٹ گئے، مرگئے، برباد ہوگئے، ہمارا یہ کام کروادیں۔
بیگم صاحبہ اپنی تعریف سن کر چند رسمی کلمات ادا کرتی ہیں اور یہ کہہ دیتی ہیں آپ بیٹھیں صاحب آتے ہیں تو میں بات کرتی ہوں۔دیہاتی ہاتھ میں پکڑی گٹھری پکڑانے کی کوشش کرتا ہے جو آگے بڑھ کر ملازم پکڑ لیتا ہے۔بیگم صاحبہ فرماتی ہیں اس کی کیا ضرورت تھی۔ مجبور دیہاتی کہتا ہے دھی رانی آپ پر ہمارا بھی کچھ فرض ہے۔
دیہاتی اندھیرا چھا جانے تک طویل انتظار کرتا ہے افسر کی گاڑی کو داخل ہوتا دیکھ اس شخص کی تمام تکان دور ہوجاتی ہے۔ افسر صاحب ڈائننگ ٹیبل پر کھانا نوش فرماتے ہیں۔ شومئی قسمت کہ کبھی ملازم آکر بتاتا ہے آج چلے جاؤ صاحب اور بیگم صاحبہ کا مزاج (موڈ) ٹھیک نہیں کل آجانا۔۔ خوش قسمتی سے اگر موصوف کا موڈ بھلا ہو تو صاحب تشریف لاتے ہیں روائتی اظہار برہمی فرماتے ہیں کہ دفتر کا کام دفتر میں ہوگا ساتھ کھڑی بیگم صاحبہ رحم کھاتی ہیں اور زور دیتی ہیں کہ دستخط کریں۔
افسر درخواست دیکھتا ہے اور دستخط کردیتا ہے۔ اب یہاں دیہاتی شخص کی قسمت پر منحصر ہے کہ افسر صاحب کو کسی “بڑے” کا فون نہ آجاے اگر آگیا تو درخواست دب جاتی ہے اگر نہ آیا تو عملدرآمد ہوجاتا ہے۔ پنجاب کے تقریباً ہر شہر میں یہ روز کا معمول ہے اور انگریز سرکار سے ہوتا چلا آرہا ہے۔۔۔سول سروسز اکیڈمی میں آج بھی انگریز دور کی طرح گھڑ سواری کی تربیت دی جاتی ہے جو افسران کے لاشعور میں یہ بات بٹھا دیتی ہے کہ گھوڑے کی لگام کو کب اور کیسے کھینچنا ہے اور کب دولتی مار کر بھاگنا ہے۔
انگریز یہ تربیت اپنے افسروں کو تابع قوم یعنی ہم غلاموں کو قابو کرنے کے لیئے دیا کرتا تھا جو کہ آج بھی جاری ہے۔ افسران کو ایک خاص قسم کا رعب، دبدبہ تکبر اور جلال لاشعوری طور پر سکھایا جاتا ہے۔ جو وقت برباد نہ کرنے اور اپنا معیارقائم رکھنے کی تربیت کا حصہ ہوتا ہے۔ انگریز دور میں فرنگی کمشنر، ڈپٹی کمشنر، باغیوں کے نشانہ پر ہوتے تھے اس لیئے انہیں عوام سے دور رکھا جاتا تھا۔ آج آزاد مملکت میں بھی یہ رسم اسی آب و تاب سے رواں ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ تب افسر سفید چمڑی والا تھا اور آج بھوری چمڑی والا کاٹھا انگریز حاکم ہے۔
آئین پاکستان کے آرٹیکل دو سو اکاون الف اور بانی پاکستان کے ارشادات کی روشنی میں اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔عدالت عالیہ پاکستان کے جسٹس خواجہ ادریس کے 2015 میں دیئے گئے فیصلہ اور دو ہزار انیس میں سینیٹ سے منظور شدہ قرارداد پر عملدرآمد ناگزیر ہوچکا ہے۔جب تک عمل نہیں ہوتا تب تلک پاکستان صحیح معنوں میں آزاد نہیں ہو سکتا۔
ملک میں نوکر شاہی کے امتحانات میں کم از کم تعلیمی میڈیم کے لحاظ سے کوٹہ مختص ہونا چاہیے۔ آدھی سے زیادہ آبادی اردو میڈیم میں تعلیم حاصل کرتی ہے اگر سی ایس ایس میں پچاس فیصد کوٹہ اردو اور دس فیصد کوٹہ مادری زبان میں امتحان کا مختص کردیا جاے تو اس طرح اشرافیہ کو بھی زیادہ نقصان نہ ہوگا اور قوم کے آزادی کی راہ پر گامزن ہونے کی امید کی جاسکے گی۔ غریب یا متوسط طبقہ کو فرق نہیں پڑے گا کہ وہ اردو کوٹہ پر بھرتی ہوا اور اسے اشرافیہ جاہل سمجھتی ہے۔
ریاست چاہے تو اردو میڈیم والوں کو کمشنر ڈپٹی کمشنر کے عہدہ سے آگے نہ بڑھنے دے۔ ان کو اپنا کلرک ہی مان لیں۔ چاہیں تو “ایم پی او” طرز کے دیگر صوابدیدی اختیارات کا استعمال بھی اشرافیہ کی اولاد افسران کی اجازت سے مشروط کردیں۔انگریزی میڈیم والوں کو ہی ترقیاں دے کر چیف سیکریٹری سے لے کر وزارت خارجہ تک کے اعلیٰ عہدوں پر فائز کریں۔
مگر کم ازکم اس قوم کے لیئے ان لوگوں کا چناؤ کریں جو عوام سے اٹھ کر ان کی نوکری کریں، جو عوام کے لہجہ، زبان، انداز و اطوار سے بخوبی واقف ہوں ناکہ ٹھنڈے کمروں میں پرورش پاکر انگریزی زبان پر عبور حاصل کرکے “لارڈ صاحب” بن کر عوام کو غلام بناے رکھیں۔ میری خواہش کہہ لیں یا سوال کہ کیا 80فیصد اردو میڈیم متوسط طبقہ کے ذہین نوجوان کبھی بیوروکریسی کا حصہ بن پائیں گے؟؟۔