حضورِ اکرم ﷺ کی احادیث کی ماہر خاتون انس بنت عبدالکریم کا شمار ان چند خواتین میں ہوتا ہے جنہوں نے مصر کی مسجد امر بن العاص میں 1000 طلبہ کو پڑھانے کی سعادت حاصل کی۔ وہ قاضی کریم الدین کی صاحبزادی تھیں جن کی شادی 18 برس کی عمر میں شیخ الحدیث ابن حجرعسقلانی سے کردی گئی۔
شادی کے بعد دونوں نے حدیث کے علوم پر بے مثال جوش و جذبے کا مظاہرہ کیا، احادیث کی اسناد، متن اور سیرتوں کا مطالعہ کیا۔ جو حدیث بھی ابن حجر اپنے اساتذہ سے سنتے، وہ انس تک پہنچتی اور یہ علم ہی دونوں کے مابین مضبوط رشتے کا پل بن گیا۔
اس کے باوجود کہ محترمہ انس نے بے شمار اسناد حاصل کر رکھی تھیں، تاہم ابنِ حجر نے یقینی بنایا کہ اگر اسناد کا سلسلہ کسی اعلیٰ رتبے پر رسول اکرم ﷺ سے جا ملتا تو خاتونِ خانہ کے ہمراہ کتبِ احادیث کا دوبارہ مطالعہ کر لیا جاتا کیونکہ ان کے پاس اسناد میں ایک بہتر مقام موجود تھا۔
حدیث کی تفسیر بیان کرنے میں محترمہ انس کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ وہ واحد خاتون تھیں جو مسجد امر بن العاص میں اپنے شوہر کی موجودگی میں حدیث پڑھا کرتی تھیں اور بہت سے علماء احادیث انہیں سنایا کرتے تھے۔ شوہرِ نامدار ابنِ حجر عسقلانی کو بہت سے نامور علماء کو اپنی اہلیہ سے احادیث کے لیکچر سنتے دیکھ کر فخر محسوس ہوتا تھا۔
ایک مرتبہ ابنِ حجر عسقلانی نے کہا کہ اے انس، اب آپ شیخ الحدیث بن چکی ہیں۔ یہ روایات بھی ملتی ہیں کہ آپ کے شاگردوں میں شامل بعض علماء بڑے مراتب تک پہنچے۔ علمائے دین میں نمایاں نام السخاوی بھی آپ ہی کے شاگردوں میں شامل تھے۔ عالمۂ دین محترمہ انس کے لیکچرز سے السخاوی نے 40 مختلف علماء کی بیان کردہ 40 احادیث حاصل کیں اور خود بھی احادیث محترمہ انس کی موجودگی میں پڑھ کر اس کی سند کی تصدیق حاصل کرتے تھے۔
ابنِ حجر کے ایک شاگرد نے ایک بار آپ سے اہلیہ اور بچوں کے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ میرے لیے ایک بہترین زوجہ، اپنی بیٹیوں کی بہترین ماں اور اپنے شاگردوں کیلئے بہترین شیخ الحدیث ہیں۔ مذکورہ شاگرد نے ایک اور سوال داغ دیا۔ پوچھا کہ انہیں یہ نیکی کس طرح حاصل ہوئی؟ ابنِ حجر نے جواب دیا کہ وہ آدھی آدھی رات کو اٹھ کر عبادت کیا کرتی تھیں، جب تک کہ کوئی شرعی عذر نہ ہو۔ میں انہی عبادات کا ثمر اپنے گھر اور بچیوں کی صورت میں دیکھتا ہوں۔
بہت سی دیگر روایات کی طرح شیخ الحدیث انس بنت عبدالکریم سے یہ روایت بھی ملتی ہے کہ وہ اپنے اسباق کا ایک دورہ مکمل ہونے پر طلبہ کو مٹھائی پیش کرتیں تاکہ انہیں عزت و تکریم دی جاسکے۔ اپنی کتب اور دیگر کامیابیوں کے علاوہ ان کی زندگی سے طلبہ کے ساتھ عزت و تکریم کا رویہ بھی سیکھا جاسکتا ہے۔
سن 867 عیسوی میں محترمہ اُنس رحمۃ اللہ علیہا کا انتقال ہوا جنہیں ان کی صاحبزادیوں کے ہمراہ دفن کیا گیا۔ عالمۂ دین کی حیثیت سے ان کی زندگی سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام میں علم حاصل کرنے کیلئے مردوزن کی کوئی تخصیص نہیں چاہے وہ علم دینی ہو یا دنیوی۔ اس کے علاوہ کسی خاتون سے علم حاصل کرنے والے مرد حضرات کے علم و فن پر بھی کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا کیونکہ علم حاصل کرنے کیلئے جنس کوئی شرط یا فضیلت کا درجہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔
مزید برآں اپنے شوہر سے ان کا جو رشتہ تھا، جس طرح وہ علم کے راستے میں صرف اللہ تعالیٰ سے محبت کیلئے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون فرماتے تھے، یہ مسلم امت اور ہر شادی شدہ جوڑے کیلئے زندگی کی روشن مثال قرار دی جاسکتی ہے۔