افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان نے ملک میں سیاسی حکومت کے قیام کے عندیہ دیتے ہوئے افہام و تفہیم سے دنیا کے لئے قابل قبول قیادت سامنے لانے کا اعلان کیا ہے۔
ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کاکہنا ہے کہ دنیا ہمیں برداشت کرنا سیکھے،ہم نے کسی کے گھر پر حملہ نہیں کیا۔تمام ممالک سے سفارتی تعلقات چاہتے ہیں، لیکن اپنے ریاستی و مذہبی معاملات میں کسی کی مداخلت برداشت نہیں کریں گے۔ہم کسی کے جبر یا کسی ہتھیار کے سامنے ہار ماننے والے نہیں ہیں۔
نیٹو فورسز کے انخلاء کے ساتھ طالبان کی پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے اقوام عالم کو یہ خدشہ لاحق ہوگیا تھا کہ شائد افغان عوام اور فورسز کی مزاحمت کی وجہ سے افغانستان میں خانہ جنگی ہوسکتی ہے لیکن افغان فورسز کے ہتھیار ڈالنے اور عوام کے غیر جانبدار رہنے کی وجہ سے افغانستان کشت و خون سے بچ گیا تاہم طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہزاروں شہریوں کے انخلاء سے دنیا کو طالبان کیخلاف مہمات کیلئے مواد مل گیا ہے۔
جہاں تک افغان طالبان کا تعلق ہے تو انہوں نے اپنے مخالفین کیلئے باضابطہ طور پر عام معافی کا اعلان کردیا ہے اور دنیا اس بات پر اب بھی حیرت میں مبتلا ہے کہ طالبان نے نہایت سرعت اور پرامن طریقے سے اقتدار کیسے حاصل کرلیا؟ اس حوالے سے یہ انکشاف بھی سامنے آچکا ہے کہ جب طالبان کابل میں داخل ہوئے تو انہیں افغان حکومت اور فورسز کی طرف سے کسی بھی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔
برطانیہ اور کینیڈا نے طالبان حکومت کے ساتھ تعلقات قائم نہ کرنے کا اعلان کردیا ہے جبکہ دیگر ممالک نے دیکھو اور انتظار کرو کی پالیسی اختیار کررکھی ہے۔قبل ازیں امریکا نے افغان حکومت کے اثاثے منجمد کرکے طالبان کیلئے مشکلات پیدا کیں اور پھر آئی ایم ایف نے بھی اعلان کیا کہ طالبان حکومت کو عالمی مالیاتی فنڈ کے مالی وسائل سے کچھ نہیں دیا جاسکتا۔
پاکستان نے ماضی کے برعکس موجودہ صورتحال میں غیر جانبدار رہنے کا قابل تحسین اقدام اٹھایا ہے اور مستقبل میں بھی متوازن حکمت عملی پاکستان کے استحکام کیلئے ضروری ہوگی۔
طالبان قیادت کا کہنا ہے کہ دنیا افغانستان میں سرمایہ کاری کرے جبکہ بھارت کو بھی جاری منصوبے مکمل کرنے کی پیشکش کی گئی ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اقوام عالم فوری طور پر طالبان پر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔جرمنی نے بھی افغان حکومت کی کروڑوں یوروز کی امداد بند کردی۔
دوحہ مذاکرات صرف نیٹو فورسز کے انخلا تک محدود نہیں بلکہ یہ مذاکرات اقوام متحدہ کی رضامندی سے ہوئے جس کے باعث طالبان کو سیاسی سند مل چکی ہے کیونکہ دنیا کے 190 سے زائد ممالک کے مشترکہ پلیٹ فارم سے منظوری کے باوجود طالبان کو سیاسی قوت تسلیم نہ کرنا غیر اہم ہوچکا ہے۔
نئی افغان قیادت کا کہنا ہے کہ اب مملکت کا نظم و نسق چلانا طالبان کا اصل امتحان ہے لیکن ماضی اور حال کی صورتحال کا موازنہ کیا جاۓ تو فرق واضح ہے۔ ماضی کی نسبت موجودہ طالبان قیادت نہایت برد باری کا مظاہرہ کررہی ہے۔
طالبان نے ماضی سے سیکھ کر اس بار اندرونی و عالمی سطح پر سیاست کو احسن انداز میں استعمال کیا جبکہ عسکری قوت پر انحصار کم کرکے عالمی برادری کو افغانستان کی طرف سے ایک مثبت پیغام دیا ہے۔
عاشورۂ محرم کے دوران مذہبی ہم آہنگی اور تمام دشمنوں کیلئے عام معافی بھی قابل تحسین اقدامات ہیں لیکن اس کے باوجود امریکا و دیگر بااثر ممالک کا کہنا ہے کہ طالبان کے وعدوں پر اعتبار نہیں اس لیے اپنے وعدوں پر مکمل طور پر عمل درآمد اور اقوام عالم کو قائل کرنا افغان طالبان کا اصل امتحان ہوگا۔