کراچی: ہم بھی کسی سے کم نہیں۔ پاکستانی انجینیئر نے استعمال شدہ اور بے کار اشیاء کو دوبارہ کارآمد بناکر وینٹی لیٹر تیار کرلیا۔
این ای ڈی کے تحقیقاتی شعبے سے منسلک ڈاکٹر انجینیئر ریاض نے تاریخی کارنامہ سرانجام دیتے ہوئے بے کار اور استعمال شدہ اشیاء سے ضرورت کے وقتوں کے لیے وینٹی لیٹر تیار کرلیا ہے۔
ڈاکٹر ریاض کا کہنا ہے کہ انہوں نے 180 راتیں جامعہ کی لیب گزار کر اس وینٹی لیٹر کو تیار کیا ہے۔ ان کے اس کارنامے پر خوب پذیرائی مل رہی ہے۔
ڈاکٹر ریاض نے اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت تعاون کرے تو وہ اپنی اس ایجاد کو بڑے اسکیل پر پہنچانے کے خواہش مند ہیں جو عالمی معیار کے عین مطابق ہے۔
ڈاکٹڑ ریاض کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا کہ پاکستان میں چالیس ہزار وینٹی لیٹر کی ضرورت ہے اور اس وقت پاکستان میں صرف 1600 وینٹی لیٹر موجود ہیں، جس کے باعث ہم نے مقامی سطح پر وینٹی لیٹر بنانے پر کام شروع کردیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ میرے دوستوں نے اویجینل وینٹی لیٹر کا اچھا اسکریپ دیا جس کی مدد سے ہم نے نیا وینٹی لیٹر تیار کیا۔
ڈاکٹر ریاض کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنے ایجاد کردہ وینٹی لیٹر کے مختلف ورژن بنائے ہیں، سب سے پہلے ہم نے دو موڈ والا وینٹی لیٹر تیار کیا تھا۔
ڈاکٹر ریاض نے بتایا کہ وینٹی لیٹر بنانے والی بڑی کمپنیوں کے وینٹی لیٹر 65 سے 80 لاکھ مالیت کے ہوتے ہیں لیکن ہم نے جو وینٹی لیٹر بنایا ہے جو 15 سے 20 لاکھ روہے مالیت کی ہے۔