پاک امریکہ تعلقات میں نیا موڑ

تازہ ترین

تازہ ترین

افغانستان میں طالبان کے قبضے کے بعد امریکہ کے لیے پاکستان کے ساتھ تعلقات معمہ بن چکے ہیں اورامریکہ تاحال اس شش و پنج سے باہر نہیں آسکا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو کونسی سمت دی جائے۔امریکی حکام اور پاکستانی رہنماؤں کے حالیہ بیانات سے اندازا ہورہا ہے کہ دوطرفہ تعلقات مثالی نہیں رہے ۔

امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے حال ہی میں کہا ہے کہ امریکہ پاکستان کے ساتھ اپنے تعلقات کا ازسرنو جائزہ لے گا تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ واشنگٹن پاکستان کے مستقبل میں کیا کردار ادا کرے گا۔

امریکی وزیرخارجہ کاکہنا ہے کہ پاکستان کا افغانستان میں کردار رہا ہے ، پاکستان نے امریکا کے ساتھ تعاون بھی کیا اور ہمارے مفادات کے خلاف بھی رہا۔ امریکہ نے گزشتہ بیس سالوں میں بارہاپاکستان کے کردار پر ناراضگی کا اظہار کیا ہے اور امریکہ آنے والے برسوں میں اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرنا چاہتا ہے۔

افغانستان میں طالبان کی فتح کے بعد امریکہ اور مغربی ممالک مشکل صورتحال سے دوچار ہیں۔ حقیقت کو قبول کرنے اور نئی افغان حکومت کے ساتھ تعلقات استوار کرنے کے بجائے امریکہ نے لاکھوں افغانیوں کوایک دوراہے پر لاکر چھوڑ دیا ہے اور اپنی حماقتوں پر پاکستان کو مورد الزام ٹھہرانا اور طالبان کی حمایت کے الزامات لگانا شروع کر دیئے ہیں۔

وزیر اعظم عمران خان نے امریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکنکے ریمارکس کا جواب دیتے ہوئے انہیں جاہل قرار دیا۔

عمران خان کے مطابق 2001 میں افغانستان پر امریکی حملہ پاکستان کے لیے تباہ کن تھا کیونکہ ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور معیشت کو نقصان پہنچا۔وزیراعظم پاکستان کا کہنا ہے کہ پاکستان کوجنگ میں گھسیٹا گیا اور پاکستان جنگ میں اتحادی بن گیا جس کی وجہ سے عسکریت پسند گروہوں کی دہشت گردی اور امریکہ کی طرف سے پاکستانی سرزمین پر ڈرون حملے ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے ساتھ خوفناک تعلقات کو برداشت کیا تاہم اب عملی نقطہ نظر کا خواہاں ہے۔

وزیر اعظم عمران خان اس سے پہلے بھی افغانستان میں امریکی مداخلت پر تنقید کر چکے ہیں اور ان کا دعویٰ ہے کہ اگر وہ نائن الیون کے وقت وزیراعظم ہوتے تو پاکستان کبھی بھی جنگ کا حصہ نہ بنتا۔عمران خان یقینی طور پر امریکی صدر جوبائیڈن کی گڈ بک میں شامل نہیں ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اقتدار سنبھالنے کے بعد جوبائیڈن نے کبھی عمران خان سے رابطہ نہیں کیا۔

عمران خان امریکی صدر کے فون نہ کرنے پر معترض نہیں، ان کا ماننا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات قائم ہیں اور فون نہ کرنے کی وجہ ہوسکتا ہے کہ امریکی صدر مصروف ہوسکتے ہیں۔

افغان جنگ کے خاتمے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے تعلقات میں بڑی تبدیلی آ سکتی ہے تاہم امریکہ کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ خطے کی صورتحال کے پیش نظر پاکستان کی حیثیت مسلمہ ہےاورافغانستان اور علاقائی امن میں پاکستان کا اہم کردار ہے۔اس لیے یہ ضروری ہے کہ دونوں ممالک خوشگوار تعلقات کو برقرار رکھیں تاکہ خطے میں امن و استحکام کی راہ کو مزید مضبوط بنایا جاسکے۔

Related Posts