اسلام میں جانوروں کے حقوق

تازہ ترین

تازہ ترین

اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوقات سے مناسب رویے سے پیش آنا چاہئے چاہے وہ انسان ہوں یا جانور۔ اسلام ہمیں سکھاتا ہے کہ جانوروں کے ساتھ بھی شفقت اور رحم کامعاملہ کرنا چاہئے اور ظلم سے باز رہنا چاہئے۔ اس سلسلے میں قرآن و حدیث کے احکامات اور اسلامی تاریخ کا مطالعہ ہمیں مناسب رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

سورۂ رحمان کی آیت نمبر 10 میں ارشاد ہوتا ہے کہ اس نے خلقت کیلئے زمین کو بچھا دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو انسان اور جانوروں دونوں کے استمعال کیلئے بنایا۔ قرآن پاک کی 114 میں سے 6 سورتوں کے نام جانوروں کے نام پر رکھے گئے ہیں۔

مذکورہ 6 سورتوں میں سورۃ البقرہ، سورۃ نمل، سورۃ النحل، سورۃ العنکبوت اور سورۃ الفیل شامل ہیں جس سے جانوروں کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ارشادات کے مطابق جانور اس کے معجزات میں سے ہیں اور ہر مخلوق کو ان کا مقصد معلوم ہے۔ سورۃ الانعام کی آیت نمبر 38 میں ارشاد ہوتا ہے کہ  ایسا کوئی زمین پر چلنے والا نہیں اور نہ کوئی دو بازوؤں سے اڑنے والا پرندہ ہے مگر یہ کہ تمہاری ہی طرح کی جماعتیں ہیں۔ ہم نے ان کی تقدیر لکھنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، پھر سب اپنے رب کے سامنے جمع کیے جائیں گے۔

سورۃ النور کی آیت نمبر 41میں ارشاد ہوتا ہے کہ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ آسمانوں اور زمین پر رہنے والے اور پرندے جو پر پھیلائے اڑتے رہتے ہیں، سب اللہ ہی کی تسبیح کرتے ہیں؟ ہر ایک نے اپنی نماز اور تسبیح سمجھ رکھی ہے اور اللہ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔

کائناتِ بسیط میں ہر جاندار کی قدروقیمت اور مقصد ہے۔ اسلام نے جانوروں کے حقوق کو مغربی دنیا کی جانب سے انسانی حقوق تسلیم کیے جانے سے بہت پہلے وضع کیا جب پر رسول اللہ ﷺ سے منسوب احادیث اورسنتیں ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔

آنحضرت ﷺ نے جانوروں پر ظلم کرنے سے منع کیا۔ فرمایا جو بھی ایک چڑیا پر رحم کرے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے روز اس پر رحم فرمائے گا۔ آپ ﷺ نے جانور کے ساتھ کیے گئے ظلم اور اچھے سلوک کو انسان کے ساتھ کیے گئے نیک سلوک اور ظلم و تشدد کے مساوی قرار دیا۔

ایک دفعہ ایک صحابی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ ﷺ سے سوال کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ کیا جانوروں سے نیک سلوک کا کوئی اجر ہے؟َ فرمایا کسی بھی جاندار کی خدمت پر ایک انعام ہے۔(صحیح بخاری)

اسلام سے پہلے دورِ جاہلیت میں لوگ جانوروں کو نشانہ بازی کی مشق کیلئے استعمال کرتے تھے جس سے انہیں سخت اذیت پہنچتی تھی۔ نبی اکرم ﷺ نے نشانہ بازی کیلئے ہدف کے طور پر جانور استعمال کرنے پر پابنی عائد کردی جس کا ذکر جامع ترمذی کی حدیث نمبر 1475 میں ملتا ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ایک اونٹ کے قریب سے گزرے جو اتنا پتلا تھا کہ اس کی پیٹھ تقریباً پیٹ تک جا پہنچی تھی۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ ان (جانوروں) کے متعلق اللہ سے ڈرو جو بول نہیں سکتے۔ (ابوداؤد) ۔

سفر کے دوران ایک مرتبہ صحابہ کے ایک گروہ نے رحمت اللعالمین ﷺ کی غیر موجودگی میں ایک چڑیا کو 2 چوزوں کے ساتھ دیکھا۔ انہوں نے نوزائدہ چوزوں کو گھونسلے سے نکال لیا۔ چڑیا ہوا میں اوپر چکر کاٹنے لگی جسے بچوں سے بچھڑنے کا بے حد افسوس تھا۔ جب محسنِ انسانیت ﷺ نے واپس آئے تو فرمایا کہ اس پرندے کے بچے کو چھین کر کس نے اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی؟ اس کے بچے اسے واپس کردو۔ (صحیح مسلم)

نبئ آخر الزمان ﷺ ایک شخص کے قریب سے گزرے جو بھیڑ کو اس کے کان سے پکڑ کر گھسیٹ رہا تھا۔ جنابِ رسول اللہ ﷺ نے اس شخص کو سمجھایا کہ اس کا کان چھوڑ دو اور اسے گردن کے کنارے سے پکڑو (سنن ابنِ ماجہ) جبکہ کسی جانور کو کانوں سے کھینچنا گردن سے پکڑنے سے زیادہ تکلیف دہ ہے۔

دورِ جاہلیت میں لوگ زندہ جانور کے جسم کا کچھ حصہ کاٹ کر استعمال کر لیا کرتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ نے اِس ظالمانہ روایت پر پابندی عائد کرتے ہوئے اس شخص پر لعنت فرمائی جو یہ ظلم کرے۔ اسلام کے مطابق کسی بھی جانور کے اعضاء کو کاٹ کر اس کا گوشت استعمال کرنا یا کسی بھی طرح مصرف میں لانا حرام ہے جبکہ جانور معذور ہو کر یا شدید تکلیف کے ساتھ زخمی ہو کر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہوجائے۔ یہ حدیث صحیح بخاری میں مذکورہے۔

قرآنِ پاک اور حدیث و سنت کی مثالیں دینے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام انسانوں کے ساتھ ساتھ جانوروں سے بھی رحم و کرم کی ہدایت دیتا ہے۔ آج کے دور میں حیوانوں کے ساتھ جتنا برا سلوک ہو رہا ہے، اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ہمیں جنگلی حیات اور ان کے رہنے کی جگہوں کے تحفظ کیلئے کام کرنا  چاہئے۔  

 

Related Posts