تاریخ، ثقافت اور خوشیوں کا حسین ملاپ! چلم جوشی فیسٹیول سیاحوں کی توجہ کا مرکز؛ دیکھیں خوبصورت ویڈیوز

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

وادی کیلاش ان دنوں اپنے روایتی رنگوں اور ثقافتی جوش و خروش سے جگمگا رہی ہے جہاں مشہور زمانہ چلم جوشی فیسٹیول بھرپور انداز میں جاری ہے۔ 13 مئی سے شروع ہونے والا یہ چار روزہ تہوار 17 مئی تک چترال لوئر کی دلکش وادی کیلاش میں جاری رہے گا جس میں مقامی افراد سمیت بڑی تعداد میں سیاح بھی شریک ہو رہے ہیں۔

فیسٹیول کے دوران امن و امان کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے فول پروف انتظامات کیے گئے ہیں۔ خیبرپختونخوا کلچر اینڈ ٹورازم اتھارٹی کی ٹورازم پولیس لواری ٹنل سے لے کر وادی کیلاش کے مختلف داخلی و اہم مقامات پر تعینات ہے۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل خیبرپختونخوا ٹورازم اتھارٹی شاہد خان کی ہدایات پر ٹورازم پولیس کی چھٹیاں بھی منسوخ کر دی گئی ہیں تاکہ کسی بھی صورتحال میں مکمل نگرانی اور سہولت فراہم کی جا سکے۔

چلم جوشی فیسٹیول پاکستان کی وادی کالاش میں منایا جانے والا ایک منفرد اور تاریخی ثقافتی تہوار ہے جو ہر سال مئی کے وسط میں منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار بہار کی آمد، خوشحالی اور نئی فصلوں کے آغاز کی خوشی میں منایا جاتا ہے اور کالاش قبیلہ اسے اپنی قدیم مذہبی و ثقافتی روایات کے تحت مناتا ہے۔

یہ تہوار نہ صرف بہار اور نئے موسم کے استقبال کی علامت ہے بلکہ فصلوں کی بہتری اور خوشحالی کی دعاؤں سے بھی جڑا ہوا ہے۔ کالاش برادری کے لوگ اپنے دیوتا گوشیدای کو یاد کرتے ہوئے مویشیوں کی سلامتی اور برکت کے لیے بھی دعائیں کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ تہوار نوجوانوں کے لیے رشتوں اور میل ملاقات کا اہم موقع بھی سمجھا جاتا ہے جہاں فیسٹیول کے اختتام پر کئی تعلقات کی کامیابی کے اعلانات بھی سامنے آتے ہیں۔

چلم جوشی کی تقریبات میں روایتی رقص، موسیقی، رنگ برنگے لباس اور اجتماعی اجتماعات نمایاں ہوتے ہیں۔ خواتین روایتی نئے ملبوسات پہن کر پورے علاقے میں رقص کرتی ہیں اور مقامی رسومات کے ساتھ بہار کا پرتپاک استقبال کیا جاتا ہے۔

اگرچہ یہ تہوار تین کلاشا وادیوں میں منایا جاتا ہے تاہم وادی بمبوریٹ اپنی آسان رسائی کے باعث سب سے زیادہ سیاحوں اور زائرین کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ تہوار نہ صرف ثقافتی شناخت کی علامت بن چکا ہے بلکہ مقامی معیشت کو سہارا دینے اور کالاش ثقافت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کا اہم ذریعہ بھی بن گیا ہے۔

Related Posts