بھارت کے سابق ٹیسٹ کرکٹر اور مایہ ناز لیفٹ آرم اسپنر دلیپ دوشی پیر کے روز لندن میں دل کے عارضے کے باعث 77 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔ بھارتی میڈیا نے منگل کو ان کے انتقال کی تصدیق کی۔
دوشی نے بین الاقوامی کرکٹ میں تاخیر سے قدم رکھا اور 1979 میں 32 سال کی عمر میں اپنا ٹیسٹ ڈیبیو کیا تاہم اس دیر سے آغاز کے باوجود انہوں نے 1983 تک بھارت کی نمائندگی کی اور مختصر عرصے میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے 33 ٹیسٹ میچز میں بھارت کی نمائندگی کرتے ہوئے 114 وکٹیں حاصل کیں، جن میں 6 مرتبہ پانچ وکٹیں حاصل کرنے کا اعزاز بھی شامل ہے، اس کے علاوہ دوشی نے 15 ون ڈے انٹرنیشنل میچز بھی کھیلے اور 22 وکٹیں اپنے نام کیں۔
دوشی نے بھارتی اسپن بولنگ کے اُس ورثے کو آگے بڑھایا جو بشن سنگھ بیدی، ایراپلی پرسنا، سری نواس وینکٹ راگھون اور بھاگوت چندرشیکھر جیسے عظیم اسپنرز نے قائم کیا تھا۔
عینک پہنے ہوئے دوشی اپنی منفرد بولنگ اسٹائل سے دنیا بھر کے بیٹسمینوں کو پریشان کرتے رہے۔ انہوں نے انگلش کاؤنٹی کرکٹ میں بھی نمایاں وقت گزارا، خاص طور پر ناٹنگھم شائر کے ساتھ ان کا طویل تعلق رہا۔
دوشی کے انتقال پر کرکٹ برادری نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا، سابق بھارتی کپتان سچن ٹنڈولکر نے انہیں یاد کرتے ہوئے کہا کہ دوشی ایک نہایت گرمجوش اور خوش مزاج شخصیت تھے، اُن کے ساتھ کرکٹ کے موضوع پر ہونے والی گفتگو ہمیشہ یاد رہے گی۔
سابق آل راؤنڈر اور کمنٹیٹر روی شاستری نے اپنے تاثرات میں کہا کہ دوشی حقیقی معنوں میں شریف النفس انسان اور نہایت عمدہ اسپنر تھے۔
بھارتی کرکٹ بورڈ ( بی سی سی آئی ) کی جانب سے بھی دلیپ دوشی کی وفات پر خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








