کراچی: سندھ اسمبلی میں بجٹ اجلاس کے دوران ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید کی جانب سے مسیحی برادری کے اہم ترین مسئلے تعلیم اور روزگار میں اقلیتوں کی کم نمائندگی کو اٹھایا گیا تو مسیحی عوام نے نہ صرف ان کے مؤقف کو سراہا بلکہ انہیں اپنا حقیقی نمائندہ بھی قرار دیا تاہم اس عوامی پذیرائی سے ایک شخصیت سخت پریشان ہو گئیں۔خیراتی نشست پر اسمبلی تک پہنچنے والی رکنِ اسمبلی روما مشتاق مٹو۔
روما مٹو جو اپنی غیر سنجیدہ حرکات اور اسٹنٹس کی وجہ سے خبروں میں رہتی ہیں، اس بار خود کو سنجیدہ سیاستدان ثابت کرنے کی کوشش میں ایک بار پھر تنازعے میں الجھ گئیں۔
ذرائع کے مطابق انہوں نے معروف سینئر مسیحی صحافی البرٹ عروج بھٹی کو ڈپٹی اسپیکر کی تقریر کو سوشل میڈیا پر اُجاگر کرنے اور خبر کی تشہیر پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں، سینئر صحافی البرٹ عروج بھٹی نے ایم پی اے کیخلاف قانونی کارروائی کا عندیہ دیا ہے۔
یہ وہی روما مٹو ہیں جو چند روز قبل ہی انتھونی نوید سے ذاتی ملاقات کر چکی تھیں، مگر اب ان کے مؤقف کو برداشت نہ کر سکیں۔
اسمبلی میں اپنے ایک سال سے زائد عرصے میں روما مٹو نے اقلیتوں کے کسی بھی سنجیدہ مسئلے پر نہ تو آواز بلند کی، نہ ہی کوئی قابلِ ذکر قانون سازی کا حصہ بنیں۔ ان کی شناخت اسمبلی میں رکشے پر آمد، “ہم مسیحی ہیں، عیسائی نہیں” جیسے نعرے، اور مذہبی کارڈز کھیلنے تک محدود رہی ہے۔
ایک طرف نوجوان مسیحی نسل کو تعلیم اور روزگار کے مواقع میسر نہ آنے پر انتھونی نوید نے جرات مندانہ آواز بلند کی، وہیں دوسری جانب روما مٹو کے طرزِ سیاست کو صرف نمایشی اور شخصی تشہیر کے طور پر دیکھا گیا ہے۔
روما مٹو کو پیپلزپارٹی نے اقلیتی نشست پر ٹکٹ ان کے والد مشتاق مٹو (پی پی اقلیت ونگ کراچی کے صدر) کے اثر و رسوخ کی بنیادپر دیا، مگر عوامی تاثر یہی ہے کہ وہ اس ذمہ داری کے اہل نہ تھیں۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ ایم پی اے بننے کے بعد عوامی خدمت کے بجائے ذاتی نمود و نمائش پر توجہ دیتی رہی ہیں—چاہے وہ سیکورٹی گارڈز کا جلوس ہو یا قیمتی لباس و زیورات کی نمائش۔
اب مسیحی برادری نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اور پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے مطالبہ کیا ہے کہ خیراتی نشستوں پر بھی ایسے افراد کو بھیجا جائے جو واقعی اہل، مخلص اور عوامی مسائل کا ادراک رکھتے ہوں۔ عوامی سطح پر روما مٹو کی کارکردگی کو مایوس کن اور پارٹی کے لیے بدنامی کا باعث قرار دیا جا رہا ہے۔
ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید کی تقریر نے جہاں ایک مثبت سیاسی مثال قائم کی ہے، وہیں روما مٹو جیسے نمائندوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ صرف نشست حاصل کرنا کافی نہیں، نمائندگی ایک ذمہ داری ہے اور یہ ہر شخص کے بس کی بات نہیں۔
ڈپٹی اسپیکر انتھونی نوید نے اہم مسئلہ اسمبلی میں اٹھاکر مسیحی برادری کے دل جیت لیے، ویڈیو
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








