فٹ پاتھ اسکیئنگ ڈرائیونگ کا ایک خطرناک انداز ہے جس میں گاڑی کو دو پہیوں پر متوازن رکھنا ہوتا ہے۔ یہ دنیا بھر میں گاڑیوں اور جیپوں پر کیا جاتا ہے لیکن بلوچستان کے شہر کچلاک میں ایک شخص نے اپنے تین پہیوں والے رکشے پر کرتب دکھا کر “آف روڈنگ” کی اصطلاح کو نئے معنی بخشے ہیں۔
آئیے ملتے ہیں 35 سالہ رکشہ ڈرائیور شمس اللہ کاکڑ سے جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے پانچ سال قبل دنیا کے مشہور سعودی مہم جوؤں سے متاثر ہو کر کرتب بازی شروع کی۔
غزہ پر بمباری: کولمبیا نے اسرائیلی سفیر کو پاگل قرار دے کر ملک بدر کر دیا
العربیہ کی رپورٹ کے مطابق شمس اللہ کاکڑ کی پہلی فٹ پاتھ اسکیئنگ ویڈیو جس میں وہ اپنے رکشے کو دو پہیوں پر متوازن کرتے ہوئے نظر آتے ہیں جبکہ رکشے میں سوار اس کا ساتھی تیسرے پہیے کو اسی چلتی حالت میں نکالتا اور پھر دوبارہ لگاتا ہے، 2017 میں وائرل ہوئی تھی اور پھر اس ڈرائیور نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔
العربیہ کے مطابق کاکڑ نے بتایا جو اپنے شاگرد سمیع اللہ بڑیچ کے ساتھ کرتب دکھاتے ہیں، میں نے کچھ سال پہلے لفٹنگ کے بارے میں سوچا، پھر میں نے بہت کوشش کی، ایک تکنیک لے کر آیا۔
پھر 2017 میں ہم نے یہ کرتب دکھایا۔ میرے ایک شاگرد (بڑیچ) نے پیچھے سے پہیہ کھولا اور میں نے اسے اوپر اٹھا لیا۔ پھر یہ ویڈیو وائرل ہو گئی۔ پوری دنیا نے اسے پسند کیا بشمول عرب دنیا، عرب عوام اور ہندوستان۔
کاکڑ کو تین پہیوں پر گاڑی چلانے اور کرتب دکھانے کا جنون اس وقت سے ہے جب انہوں نے 10 سال کی عمر میں مقامی مکینک کے شاگرد کے طور پر کام کرنا شروع کیا تھا۔ برسوں کی مشق اور رکشوں کو سمجھنے کے بعد اب وہ ایک طرف جھکا ہوا آٹو رکشہ 10 کلومیٹر تک چلانے کے قابل ہو گئے ہیں۔
لیکن انہوں نے نوآموز افراد کو یہ کرتب آزمانے سے خبردار کیا اور کہا کہ یہ بہت خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
کاکڑ نے کہا کہ وہیلنگ کا کام بہت خطرناک ہے۔ اگر کوئی نہیں جانتا کہ اسے کیسے کرنا ہے تو یہ بہت خطرناک ہو سکتا ہے، رکشہ الٹ سکتا ہے، ڈرائیور زخمی ہو سکتا ہے، یا وہ کسی اور سے ٹکرا سکتا ہے۔
خطرات کے باوجود یہ غیر رسمی کھیل بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں بے حد مقبول ہو گیا ہے جہاں آٹو رکشہ کے شوقین افراد ہر جمعہ کو طویل سواری کا منصوبہ بناتے ہیں اور ڈرائیور مختلف کرتب دکھاتے ہیں۔ کرتب بازوں کو کھیلتے ہوئے دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں لوگ کوئٹہ کے قریبی علاقوں بشمول دشت، کچلاک، بولان اور کولپور میں جمع ہو جاتے ہیں۔
30 سالہ نجیب اللہ کاکڑ جو اکثر کرتب باز رکشہ ڈرائیوروں کے ہمراہ ہوتے ہیں، نے بتایا وہ اپنے 1.5 ملین روپے ($5,404) کی مالیت کے خوبصورتی سے آراستہ اور ضروری سامان سے لیس رکشے لاتے ہیں اور ان پر دو وہیلنگ اور دیگر کرتب دکھاتے ہیں۔ نجیب اللہ کا شمس اللہ کاکڑ سے کوئی تعلق نہیں۔
ان کے مطابق ہم ان کے کرتبوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں کیونکہ دو ٹائروں پر رکشہ چلانا ہر ڈرائیور کے لیے آسان کام نہیں ہے۔
بڑیچ نے کہا کہ کوئٹہ اور پورے بلوچستان میں رکشوں پر کرتب دکھانا ایک خاص چیز بن گئی ہے جہاں اس مشغلے کے لیے کافی کھلی سڑکیں اور صحرا موجود ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کہیں بھی ایسا نہیں ہوتا۔ یہ کوئٹہ کے ساتھ خاص ہے اس لیے یہ فخر کی بات بھی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس کرتب کو انجام دینے میں صرف دو منٹ لگتے ہیں۔ آپ نے ویڈیو میں دیکھا ہے کہ ہم کتنی جلدی ٹائر کو ہٹا کر دوبارہ جوڑ سکتے ہیں اور اسی دوران سڑک پر رکشہ چلانا جاری رکھ سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








