سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ایکس (سابقہ ٹوئٹر)، ٹک ٹاک، انسٹاگرام اور دیگر پر مشہور پاکستانی ٹک ٹاک اسٹار علینہ عامر سے منسوب ایک غیر اخلاقی نازیبا ویڈیو تیزی سے گردش کر رہی ہے۔ یہ ویڈیو تقریباً پانچ منٹ سے زیادہ لمبی ہے اور صارفین اسے لنکس کے ذریعے شیئر کر رہے ہیں یا براہ راست پوسٹس میں اپ لوڈ کر رہے ہیں۔
ویڈیو کو جنسی نوعیت کے مواد کے طور پر پروموٹ کیا جا رہا ہے اور بعض صارفین اسے علینہ عامر کی 5:24 منٹ والی ویڈیو کے نام سے شیئر کر رہے ہیں۔
علینہ عامر کا موقف
اداکارہ علینہ عامر نے واضح طور پر کہا ہے کہ یہ ویڈیو جعلی اور اے آئی سے تیار شدہ (ڈیپ فیک) ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ویڈیو ان کی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت کی مدد سے بنائی گئی ہے تاکہ انہیں بدنامی کی جا سکے۔
مشہور ٹک ٹکر علینہ عامر نے سوشل میڈیا پر وائرل اخلاق باختہ ویڈیو (جوکہ ان سے منصوب کی جارہی) کو AI Generated قرار دیتے ہوئے سی ایم پنجاب مریم نواز اور انچارج سی سی ڈی پنجاب سہیل ظفر چٹھہ سے ایسے عناصر خلاف سخت ایکشن لینے کی اپیل کی ہے pic.twitter.com/2GkenGTmWI
— Israr Ahmed Rajpoot (@ia_rajpoot) January 25, 2026
انہوں نے اس مسئلے کو خطرناک رجحان قرار دیتے ہوئے وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز اور سی سی ڈی پنجاب کے انچارج سہیل ظفر چٹھہ سے اپیل کی ہے کہ اس کے پھیلانے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔
پاکستان میں اے آئی ڈیپ فیک واقعات کا بڑھتا رجحان
یہ واقعہ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں سامنے آنے والے اسی طرح کے اے آئی ڈیپ فیک واقعات کی ایک نئی کڑی ہے جن میں دیگر مشہور ٹک ٹاکرز جیسے فاطمہ جتوئی شامل ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی جعلی ویڈیوز اکثر لنک ٹریپ یا ایس ای او اسکیمز کے ذریعے وائرل کی جاتی ہیں تاکہ ویب ٹریفک حاصل کی جا سکے۔
اگرچہ ویڈیو وائرل ہے اور لوگ اسے شیئر کر کے پھیلا رہے ہیں علینہ عامر اور کئی صحافی واضح کر چکے ہیں کہ یہ اصلی نہیں بلکہ مصنوعی ذہانت سے بنائی گئی جعلی ویڈیو ہے۔ عوام سے درخواست ہے کہ اسے دیکھنے یا شیئر کرنے سے گریز کریں کیونکہ اس سے بدنامی، قانونی مسائل اور پرائیویسی کے خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








