پشاور: وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈا پور کے برقعے میں افغانستان فرار ہونے کی خبر جھوٹی ہے۔ برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) نے ذمہ داری لینے سے انکار کردیا۔
حال ہی میں وزیر اعلیٰ کے پی کے علی امین گنڈا پور کے متعلق بی بی سی کی ایک ایسی رپورٹ کا اسکرین شاٹ آن لائن زیر گردش رہا جسے بی بی سی نے اپنا کہنے سے انکار کیا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ علی امین گنڈا پور بھیس بدل کر افغانستان فرار ہوئے ہیں۔
وزیر اعلیٰ خیر پختونخوا کے متعلق یہ دعویٰ بے بنیاد اور جھوٹا نکلا۔ دعویٰ یہ بھی کیا گیا تھا کہ 8 ستمبر کو پی ٹی آئی کے جلسے میں عمران خان کو آزاد کرانے سمیت دیگر عوامل پر مختلف دعووں کے بعد وزیر اعلیٰ ریاستی کریک ڈاؤن سے بچنے کیلئے افغانستان فرار ہوئے۔
یہ دعویٰ 10 ستمبر کو ڈاکٹر سیّدہ صدف کے اکاؤنٹ سے ٹوئٹر (موجودہ ایکس) پر ایک صارف نے کیا اور بی بی سی کی خبر کا جھوٹا اسکرین شاٹ بھی شیئر کیا۔ کیپشن میں لکھا کہ بی بی سی اردو کے مطابق علی امین گنڈا پور برقعہ پہن کر افغانستان فرار میں کامیاب ہوئے ہیں۔

تاہم نجی ٹی وی جیو نیوز کی رپورٹ کے مطابق حقیقت یہ ہے کہ بی بی سی اردو نے یہ رپورٹ نہیں کیا کہ 9ستمبر کی رات کو علی امین گنڈا پور سرحد پار افغانستان فرار ہوئے تھے۔ اردو نیوز ایڈیٹر، بی بی سی ذیشان حیدرنے رپورٹ کے جعلی ہونے کی تصدیق کی۔
رپورٹ کے مطابق جس آرٹیکل کا اسکرین شاٹ لیا گیا تھا، وہ 5 اکتوبر 2023 کو شائع ہوا تھا جس میں علی امین گنڈا پور کے فرار کی بجائے غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکی شہریوں، خصوصاً افغان شہریوں کو پاکستان سے نکالے جانے کے پاکستانی منصوبوں کا ذکر موجود ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








