اسٹاک ہوم: سائنسدانوں نے ایک ایسی پروٹین دریافت کر لی ہے جس کی انسانی جسم میں زیادتی سے ذیابیطس اور کینسر کے باعث ہونے والی موت کے خدشات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق سویڈن کے ماہرین نے 4000 افراد پر تحقیقات سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ جن افراد کے جسم میں پروسٹاسن نامی پروٹین کی سطح بلند ترین ہوجاتی ہے، ان میں ذیابیطس کا امکان 76 فیصد اور سرطان کے باعث موت کا 43 فیصد بڑھ جاتا ہے۔
ایلون مسک نے چند گھنٹوں میں پرفیوم سے 10 لاکھ ڈالرز کمالیے
حالیہ تحقیق کے مطابق جن لوگوں کے جسم میں پروسٹاسن کی سطح بلند ہوجائے جو جسم کی سطحوں اور اعضاء کو ہم آہنگ کرنے ولے ایکلا خلات میں پایا جاتا ہے، ان میں ذیابیطس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، تحقیق کے نتائج یورپی ایسوسی ایشن کے جریدے ای اے ایس ڈی میں شائع ہوئے۔
تحقیقی نتائج سے پتہ چلتا ہے کہ پروسٹاسن نامی پروٹین کی بلند سطح رکھنے والے افراد میں سرطان کے باعث مر جانے کے امکانات بہت بڑھ جاتے ہیں۔ اس ضمن میں عمر، جنس، کمر کی چوڑائی، شراب نوشی اور تمباکو نوشی کے نمونوں، ایل ڈی ایل، سسٹولک بلڈ پریشر اور اینٹی ہائپر ٹینشن ادویات جیسے اہم عوامل کا بھی جائزہ لیا گیا۔
محققین کا کہنا ہے کہ تمام تر عوامل کا جائزہ لینے کے بعد بھی حیرت انگیز طور پر پروسٹاسن نامی پروٹین کے باعث کینسر سے موت کے خدشات یکساں رہے جبکہ یہ تحقیق جنوبی سویڈن کے شہر مالمو میں 1993 سے جاری ہے جسے اپنی نوعیت کا آج تک کا سب سے جامع تجزیہ قرار دیا جارہا ہے۔
سویڈن کی مالمو یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے اہم محقق پروفیسر گنر اینگسٹروم کا کہنا ہے کہ پروسٹاسن کو ایک اشارہ قرار دیا جسکتا ہے کہ بیماری ہوسکتی ہے یا اس وجہ سے مرض ہوسکتا ہے۔ اس سے مستقبل میں مذکورہ پروٹین کو نشانہ بنا کر ذیابیطس اور کینسر جیسے امراض کا علاج کیا جاسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








