افریقی نژاد امریکی برادری کا اہم ثقافتی تہوار کوانزا جمعہ سے شروع ہوچکا ہے جو نئے سال کے پہلے دن تک جاری رہے گا۔ یہ غیر مذہبی تہوار افریقی ثقافت، خاندانی رشتوں اور کمیونٹی کی اجتماعی اقدار کو اجاگر کرنے کے لیے منایا جاتا ہے جس میں ہر دن ایک مخصوص اصول پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے۔
کوانزا کا نام سواحلی زبان کے فقرے ماتوندا یا کوانزا سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب فصل کا پہلا پھل ہے۔ یہ تصور افریقہ کے قدیم زرعی معاشروں میں منائے جانے والے فصل کے تہواروں سے جڑا ہوا ہے۔ کوانزا کو 1966 میں معروف افریقی نژاد امریکی مفکر اور سماجی رہنما مولانا کارینگا نے متعارف کروایا تاکہ سیاہ فام برادری کو اپنی ثقافتی جڑوں، تاریخ اور شناخت سے دوبارہ جوڑا جا سکے۔
:strip_icc()/kwanzaa-candles-1d9913e9cee242efb4ce9647a047075a.jpg)
یہ تہوار سات دنوں پر مشتمل ہوتا ہے جنہیں نگوزو سابا یعنی سات بنیادی اصول کہا جاتا ہے۔ ان اصولوں میں اتحاد (اوموجا)، خود ارادیت (کوجیچاگولیا)، اجتماعی ذمہ داری (اوجیما)، تعاونی معیشت (اوجاما)، مقصد (نیا)، تخلیقی صلاحیت (کوومبا) اور ایمان (ایمانی) شامل ہیں۔ ہر دن ایک اصول کے نام ہوتا ہے اور اسی کے مطابق گفتگو، سرگرمیاں اور غور و فکر کیا جاتا ہے۔

کوانزا کے دوران ایک سات شاخوں والا شمع دان (کنارا) استعمال کیا جاتا ہے جس پر روزانہ ایک موم بتی روشن کی جاتی ہے۔ یہ موم بتیاں سیاہ، سرخ اور سبز رنگ کی ہوتی ہیں جو افریقی نژاد امریکی جدوجہد، قربانی اور امید کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ ان شمعوں کا مقصد ہر اصول کی عملی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔

آج 29 دسمبر 2025 کو کوانزا کا چوتھا دن منایا جا رہا ہے جو اوجاما (تعاونی معیشت) کے اصول کے لیے مخصوص ہے۔ اس دن کمیونٹی کے افراد کو اس بات کی ترغیب دی جاتی ہے کہ وہ مشترکہ معاشی طاقت کو فروغ دیں، اپنے کاروبار اور وسائل کو اجتماعی فائدے کے لیے استعمال کریں اور ایک دوسرے کی معاشی مدد کریں۔
![]()
کوانزا کی تقریبات میں افریقی ثقافتی علامات کو نمایاں حیثیت حاصل ہوتی ہے۔ گھروں کو افریقی کپڑوں، فن پاروں، تازہ پھلوں اور مکئی سے سجایا جاتا ہے جبکہ بچوں کی شرکت کو خصوصی اہمیت دی جاتی ہے۔ تقاریب میں ڈھول کی تھاپ، موسیقی، دعائیہ کلمات، افریقی تاریخ پر گفتگو اور شمع روشن کرنے کی روایتی رسومات شامل ہوتی ہیں۔ ہر دن کا روایتی سوال حباری گانی؟ ہوتا ہے، جس کا مطلب ہے کیا حال ہے؟۔

ابتدائی طور پر کوانزا کو کرسمس کے متبادل کے طور پر پیش کیا گیا تھا تاہم وقت کے ساتھ اس تصور میں تبدیلی آئی۔ اب اسے کسی مذہب کے خلاف نہیں بلکہ ایک ثقافتی تہوار کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اور بڑی تعداد میں افریقی نژاد امریکی کوانزا کے ساتھ ساتھ کرسمس اور نیا سال بھی مناتے ہیں۔

اگرچہ بلیک سیپریٹسٹ تحریک کی مقبولیت میں کمی کے باعث کوانزا منانے والوں کی تعداد میں بھی کچھ کمی آئی ہے تاہم یہ تہوار آج بھی امریکہ اور دیگر ممالک میں منایا جاتا ہے۔ 2019 کے ایک سروے کے مطابق موسم سرما کے تہوار منانے والوں میں سے تقریباً 2.6 فیصد افراد کوانزا مناتے ہیں۔

1990 کی دہائی کے بعد کوانزا میں تجارتی پہلو بھی شامل ہوا جس پر بعض حلقوں نے تحفظات کا اظہار کیا تاہم اس کے باوجود امریکی صدور، جن میں بل کلنٹن، باراک اوباما، ڈونلڈ ٹرمپ اور جو بائیڈن شامل ہیں، کوانزا کے موقع پر سرکاری پیغامات جاری کرتے رہے ہیں۔ 1997 میں کوانزا کے نام کا ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا گیا۔

کوانزا اب صرف امریکہ تک محدود نہیں رہا بلکہ کینیڈا، برطانیہ، برازیل اور جمیکا سمیت دیگر ممالک میں بھی منایا جاتا ہے خاص طور پر وہاں جہاں افریقی نژاد آبادی موجود ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








