کسی سے کوئی شکوہ نہیں۔کسمپرسی کی زندگی گزارنے والی اداکارہ عابدہ بیگ کی گفتگو

تازہ ترین

تازہ ترین

عابدہ بیگ

معروف اداکارہ عابدہ بیگ کا شمار اسٹیج کی دنیا کے مایہ ناز ناموں میں کیا جاتا ہے جو آج کل کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

ایم ایم نیوز نے اداکارہ عابدہ بیگ سے خصوصی گفتگو کے دوران ان کی روزمرہ زندگی کے معمولات اور اسٹیج ایکٹنگ کے دوران مختلف اداکاروں سے مراسم کے متعلق گفتگو کی ہے، احوال نذرِ قارئین ہے۔

[visual-link-preview encoded=”eyJ0eXBlIjoiaW50ZXJuYWwiLCJwb3N0IjoxODMyMDIsInBvc3RfbGFiZWwiOiJQb3N0IDE4MzIwMiAtINiy2YbYr9qv24wg2KjavtixINqp2KjavtuMINiz24zYp9iz2Kog2qnYpyDZhtuB24zauiDYs9mI2obZiNq6INqv2KfblNi12K/bjNmC24wg2KjYp9izINqp24wg2K7YtdmI2LXbjCDar9mB2Krar9mIIiwidXJsIjoiIiwiaW1hZ2VfaWQiOjE4MzIwMywiaW1hZ2VfdXJsIjoiaHR0cHM6Ly9tbW5ld3MudHYvdXJkdS93cC1jb250ZW50L3VwbG9hZHMvMjAyMy8xMi9TaWRkaXF1aS1Cb3NzLTMwMHgyNTAuanBnIiwidGl0bGUiOiLYstmG2K/ar9uMINio2r7YsSDaqdio2r7bjCDYs9uM2KfYs9iqINqp2Kcg2YbbgduM2rog2LPZiNqG2YjauiDar9in25TYtdiv24zZgtuMINio2KfYsyDaqduMINiu2LXZiNi124wg2q/Zgdiq2q/ZiCIsInN1bW1hcnkiOiLZhdi024HZiNix2YjZhdi52LHZiNmBINm52qkg2bnYp9qp2LEg2LXYr9uM2YLbjCDYqNin2LMg2qnYpyDYqti52YTZgiDaqdix2KfahtuMINiz25Ig24HbkiDYrNmIIDPYsduM2LPZudmI2LHZhtm52LMg2qnbkiDZhdin2YTaqSDYsduB25Ig2KrYp9uB2YUg2YjZgtiqINmG25Ig2b7ZhNm52Kcg2qnavtin24zYpyDYqtmIINmG2KzbjCDYqNuM2YbaqdmI2KbZuSDZhduM2rog2YbZiNqp2LHbjCDaqdix2YbbkiDZvtixINmF2KzYqNmI2LEg24HZiCDar9im25LblCAiLCJ0ZW1wbGF0ZSI6InNwb3RsaWdodCJ9″]

ایم ایم نیوز: کیا آپ کو کسی سے کوئی شکوہ ہے؟

عابدہ بیگ: نہیں۔ شکوہ کرکے کیا کرنا ہے۔ بات یہ ہے کہ جب ہم اپنا شکوہ اللہ سے کرتے ہیں اور اسی سے مدد بھی مانگتے ہیں۔ کوئی کسی کو کیا دے سکتا ہے؟ کچھ بھی نہیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ جب مرزا رشید اختر کے انتقال پر کسی نے کچھ نہیں پوچھا تو اب کسی سے شکوہ کیا کریں۔

ایم ایم نیوز: آپ نے کتنے عرصے تک ایکٹنگ کی؟

عابدہ بیگ: میں نے 35 سال کام کیا ہے۔ میرا پہلا ڈرامہ امان اللہ کے ساتھ تھا، اس میں شیبا حسن، شبانہ شیخ اور نجمہ محبوب جیسے فنکار شامل تھے۔ اس وقت ہالز نہیں ہوتے تھے۔ اس وقت کی بات کچھ اور تھی۔ 

ایم ایم نیوز: جب آپ جیسے اداکار اس مقام پر آجاتے ہیں تو لوگ کیا کہتے ہیں؟

عابدہ بیگ: میں آج بھی چار چار لڑکوں جتنا کام کرتی ہوں۔ اسٹیج پر چلی جاؤں تو کسی کو بولنے نہیں دیتی۔ کچھ لوگ آج بھی ملاقات کیلئے آتے ہیں۔ بقول شاعر:

دل تو میرا اداس ہے ناصرؔ

شہر کیوں سائیں سائیں کرتا ہے

ایم ایم نیوز: کچھ فنکار آپ سے ملنے کیلئے آئے تھے، انہوں نے کیا کہا؟

عابدہ بیگ: صابر علی گاگا میرے پاس آئے تھے۔ پہلے مجھے فون کیا، میری خیریت دریافت کی۔ ان لوگوں نے میری امداد بھی کی، لیکن میں نہیں چاہتی کہ کوئی میری اس طرح امداد کرے۔ کل قیصر پیا بھی میری خیریت معلوم کرنے آیا تھا۔ 

 

 

Related Posts