کے الیکٹرک کا احتساب بھی ضروری ہے!

تازہ ترین

تازہ ترین

خبر ہے کہ کراچی کی بجلی سپلائر کمپنی کے الیکٹرک نے سہ ماہی ایڈجسٹمنٹ کی مد میں نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) سے پانچ روپے سترہ پیسے فی یونٹ اضافے کی درخواست کردی ہے۔

یہ اطلاع ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ملک میں مہنگائی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے اور اس کی آگ نے ہر شعبے اور ضرورت کی ہر شئے کو بری طرح اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ جس کے نتیجے میں ملک کے اندر لمحوں کی رفتار سے غربت میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

معاشی حالات اس قدر دگرگوں ہیں کہ لوگوں کے کاروبار ٹھپ ہو رہے ہیں، ملیں بند  ہو رہی ہیں، تجارت و صنعت کے دائرے میں کمائی کے اسباب اور مواقع مسلسل سکڑتے اور محدود ہوتے جا رہے ہیں۔

کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے۔ یہ صرف اپنی وسیع اور گوناگوں آبادی کی بنا پر ہی ملک کا سب سے بڑا شہر نہیں، بلکہ یہ وسائل روزگار کی پیداوار میں بھی ملک کا سب سے بڑا شہر اور اسی نسبت سے ملک کا اقتصادی دار الحکومت بھی کہلاتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ کراچی چلتا ہے تو پاکستان کی معیشت کا پہیہ رواں ہوتا ہے اور ملک کی رگ و پے تر رہتی ہیں۔ یہ شہر اپنے متحرک ساحل سمندر کے باعث معاشی نقطہ نظر سے ملک کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں کی صنعتوں سے ملک کی بہت بڑی آبادی کو روزگار کا وسیلہ فراہم ہوتا ہے۔

کراچی کی اس معاشی اہمیت کے پیش نظر اس بات کی ضرورت ہے کہ اس پر خصوصی توجہ دی جائے۔ گائے آپ کے دودھ کا وسیلہ ہے۔ آپ اس کی مناسب دیکھ بھال کریں گے اور اس کی ضرورتیں پوری کریں گے تو آپ کو اس سے دودھ بھی اتنا ہی وافر ملے گا۔ کراچی سے ایک صحت مند گائے کی طرح ہر طرح کے وسائل کا دودھ مکھن تو ہر کوئی نکالنا اور حاصل کرنا چاہتا ہے مگر بد قسمتی سے اس شہر کے مسائل پر توجہ دینے کو کوئی تیار نہیں۔

کراچی کے دیگر لا تعداد شہری اور سماجی مسائل کی طرح ایک بہت بڑا مسئلہ بلکہ اس شہر کے باسیوں کیلئے درد سر یہاں کی الیکٹرک سپلائی کمپنی بھی ہے۔ یہ کمپنی اپنی پیداواری گنجائش بڑھانے اور شہر کو بجلی کی بہتر خدمات فراہم کرنے پر اتنی توجہ نہیں دیتی، جتنی اس کی توجہ کراچی کے شہریوں سے کسی بھی طرح پیسے نکالنے پر رہتی ہے۔ اس کمپنی کی اووربلنگ سے لیکر لاجسٹکس میں ناقص میٹیریل کے استعمال کے باعث حادثات میں شہریوں کی ہلاکتوں تک کئی نالائقیاں یہ شہر بھگت رہا ہے۔

اس سب پر مستزاد یہ کمپنی ہر کچھ عرصے بعد ‘ھل من مزید’ کا کشکول اٹھا کر نیپرا کے پاس مزید بجلی مہنگی کی درخواست لیکر پہنچ جاتی ہے، جس نے نہ صرف اس کی ناروا اووربلنگ کے بری طرح ستائے شہریوں کے مسائل میں بے پناہ اضافہ کر دیا ہے، وہاں بجلی مسلسل مہنگی کرنے سے کاروباری سرگرمیاں بھی محدود ہو رہی ہیں اور ساتھ ہی صنعتیں بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس نجی نا اہل کمپنی کو عوام کی جیب پر مزید ڈاکا نہ ڈالنے دیا جائے اور اس کی بد ترین انتظامی نا اہلیوں کا حساب لیا جائے۔ اس کے مطالبے پر آنکھ بند کرکے قیمتیں بڑھائے چلے جانا کسی طرح دانش مندانہ عمل نہیں۔

Related Posts