اداکار، ماڈل، سیاسی رہنما اور وکلاء شامل! ڈرگ ڈیلر پنکی نے مشہور شخصیات کو بے نقاب کردیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

کراچی میں منشیات اسمگلنگ کے ایک بڑے کیس میں زیرِ تفتیش مبینہ ڈرگ ڈیلر انمول عرف پنکی نے جے آئی ٹی کے سامنے کئی سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ملزمہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے مبینہ منشیات نیٹ ورک میں معاشرے کے بااثر اور معروف افراد بھی شامل تھے۔

ذرائع کے مطابق اپنے بیان میں انمول عرف پنکی نے کہا کہ اس کے 800 سے زائد مستقل گاہک تھے جن میں تقریباً 150 افراد باقاعدگی سے اس سے منشیات حاصل کرتے تھے۔

ملزمہ نے الزام عائد کیاکہ اسکے رابطوں میں شوبز انڈسٹری، سیاسی شخصیات اور بیوروکریسی سے تعلق رکھنے والے افراد شامل تھے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ اداکار منیب بٹ اور ماڈل سارہ بھی اس کے مبینہ کلائنٹس میں شامل تھے۔

پنکی نے مزید الزام لگایا کہ ایم کیو ایم کے رکنِ قومی اسمبلی صادق افتخار اور ان کی اہلیہ بھی اس کے رابطوں میں تھے جبکہ اس نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ مذکورہ رکنِ اسمبلی اس کے تقریباً پانچ لاکھ روپے کے مقروض تھے تاہم حکام کی جانب سے ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں کی گئی۔

دورانِ تفتیش ملزمہ نے انسدادِ منشیات فورس کے بعض اہلکاروں پر بھی سنگین الزامات عائد کیے۔ اس کا کہنا تھا کہ ایک انسپکٹر اس کے ساتھیوں کو گرفتار کرتا اور بعد میں رشوت لے کر انہیں رہا کر دیتا تھا۔ اس نے دعویٰ کیا کہ وقتاً فوقتاً اے این ایف اہلکاروں کو ایک کروڑ روپے سے زائد رشوت دی گئی۔

اپنے بیان میں پنکی نے اے این ایف کے ایک اہلکار احسان کا نام لیتے ہوئے کہا کہ اس نے ناصر نامی شخص کو گرفتار کیا اور بعد میں رشوت کے بدلے اسے چھوڑ دیا۔

ملزمہ نے مزید دعویٰ کیا کہ رانا ناصر کے خاندان سے تعلق رکھنے والے بعض افراد جن میں رانا منصور ایڈووکیٹ اور رانا شہزور شامل ہیں کراچی میں منشیات کے کاروبار میں ملوث تھے جبکہ وکلا کے دفاتر میں منشیات ذخیرہ کیے جانے کا بھی الزام لگایا گیا۔

انمول عرف پنکی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ وہ گزری، درخشاں اور بوٹ بیسن تھانوں میں بھاری رقوم بطور رشوت ادا کرتی رہی۔ اس نے یہاں تک دعویٰ کیا کہ ایک موقع پر اس نے پولیس افسر کامران کو راستے سے ہٹانے کی منصوبہ بندی پر بھی غور کیا تھا۔

ذرائع کے مطابق ملزمہ نے تفتیش کاروں کو بتایا کہ منشیات لاہور سے بین الاضلاعی بس سروسز کے ذریعے کراچی پہنچائی جاتی تھیں جبکہ مالی لین دین موبائل ایپس اور مختلف ناموں سے کھولے گئے بینک اکاؤنٹس کے ذریعے کیا جاتا تھا کیونکہ اس کے شناختی دستاویزات بلاک ہو چکے تھے۔

Related Posts