افغان لڑکیوں کو اسکول سے نہیں نکالناچاہیے، یونیسیف

تازہ ترین

تازہ ترین

Afghan girls must not be excluded from school: UNICEF

کابل: اقوام متحدہ کے بچوں کے فنڈ یونیسف نے کورونا وائرس کی وجہ سے مہینوں کی بندش کے بعد ہفتے کے روز افغانستان میں سیکنڈری اسکولوں کے دوبارہ کھلنے کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ لڑکیوں کو اسکول سے نہ نکالا جائے۔

یونیسیف کے سربراہ ہینریٹا فار نے ایک بیان میں کہا کہ ہم بہت پریشان ہیںکہ اس وقت بہت سی لڑکیوں کو واپس اسکول جانے کی اجازت نہیں ہے۔

کچھ افغان لڑکیاں ہفتہ کو الگ کلاسوں کے ساتھ پرائمری اسکولوں میں واپس آئیں لیکن بڑی عمر کی لڑکیوں کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کہ وہ کب اور کب سیکنڈری اسکول کی سطح پر اپنی تعلیم دوبارہ شروع کر پائیں گی۔

مزید پڑھیں:پاکستانی طالبان تمہارا حشر کردینگے، مولانا عبدالعزیز کی پولیس کو دھمکیاں، ویڈیو وائرل

واضح رہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت خواتین کو جامعات میں جانے کی اجازت دے چکی ہے تاہم مخلوط تعلیم پر پابندی ہوگی، طلباء وطالبات کی الگ الگ جماعتیں ہوں گی۔

میڈیارپورٹس کے مطابق اس بات کا اعلان طالبان کے اعلی تعلیم کے قائم مقام وزیر عبدالباقی حقانی نے روزقبائلی زعما کے لویہ جرگہ میں کیا ۔انھوں نے کہا کہ افغانستان میں لوگ شریعت کی روشنی میں باحفاظت اعلی تعلیم جاری رکھ سکیں گے لیکن مردوخواتین کا مخلوط ماحول نہیں ہوگا۔

انھوں نے بتایاکہ طالبان ایک جانب تو اسلامی، قومی اور ہماری تاریخی اقداروروایات کے مطابق ایک معقول اسلامی نصاب وضع کرنا چاہتے ہیں اوردوسری جانب ایسا نصاب بھی چاہتے ہیں کہ اس سے دوسرے ممالک کا مقابلہ کیا جاسکے۔ان کے بہ قول جامعات کے علاوہ پرائمری اور ثانوی اسکولوں میں بھی طلبہ اورطالبات کی الگ الگ کلاسیں ہوں گی۔

Related Posts