افغان وزیر داخلہ خلیفہ سراج الدین حقانی نے او آئی سی وفد سے ملاقات میں لڑکیوں کیلئے تعلیم کے دروازے کھولنے اور پابندی ہٹانے کا عندیہ دیا ہے۔
او آئی سی وفد نے کابل میں افغان وزیر داخلہ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں وفد نے ملک میں مجموعی امن اور استحکام کو سراہتے ہوئے کہا کہ امارت اسلامیہ دو سالوں میں مجموعی سیکیورٹی صورتحال کو مضبوط بنانے کے علاوہ مختلف شعبوں میں نمایاں پیش رفت کرنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:
ڈکیتیوں کا خوف ہے؟ لیجئے نگران وزیر داخلہ سندھ نے بڑا آسان حل بتا دیا
وفد نے کہا کہ امارت اسلامیہ نے بہترین مالیاتی پالیسی کے نفاذ، خوارج (داعش) کی روک تھام اور مجرمانہ واقعات پر قابو پانے کے ساتھ ساتھ منشیات کے خلاف کامیاب کارروائی کرتے ہوئے افغانستان کے استحکام کو یقینی بنایا ہے اور او آئی سی سے کیے گئے بہت سے وعدے پورے کیے ہیں۔
او آئی سی وفد نے خواتین کے حقوق کے حوالے سے امارت اسلامیہ کے بعض احکام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ احکام وراثت کے حوالے سے خواتین پر ظلم و زیادتی روکنے اور دشمنیوں میں خواتین کے رشتے مقتول خاندان کے افراد کے ساتھ کرنے کی غیر اسلامی رسوم کو روکنے کامیاب ہوئے ہیں۔
وفد نے اپنے دورہ افغانستان کا مقصد اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کا تسلسل اور امارت اسلامیہ کے حکام کے ساتھ مشترکہ احساس قرار دیا۔
وفد کے ارکان نے تعلیم کو مرد و خواتین کا مشترکہ حق قرار دیتے ہوئے کہا کہ دینی تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید تعلیم معاشرے کی ترقی کا باعث ہے۔
خلیفہ سراج الدین حقانی نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسلامی تعاون تنظیم کی نیک نیتی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ افغانستان ہر گزرتے دن کے ساتھ ترقی کی جانب قدم بڑھا رہا ہے۔
خلیفہ سراج الدین حقانی نے مزید کہا کہ تعلیم مسلمانوں کی مشترکہ ضرورت ہے اور مہمان وفد سے کہا کہ وہ اس سلسلے میں صبر اور حوصلے سے کام لیں کیونکہ لڑکیوں کی تعلیم ہمارے معاشرے کی ضرورت ہے جسے حالات کے ساتھ ہی شروع کردیا جائے گا۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امارت اسلامیہ کی حکومت اس طرح نہیں ہے جس طرح دنیا کے سامنے اس کی تصویر پیش کی گئی ہے، ان کے بقول افغان حسن سلوک اور میل جول سے بھرپور لوگ ہیں۔
اجلاس کے اختتام پر وزیر داخلہ نے یقین دلایا کہ وہ اپنے نظام کی ہر اصولی کمی کوتاہی پوری کرنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








