غیر ملکی افواج کا انخلاء اور افغانستان کے حالات

تازہ ترین

تازہ ترین

ریاست ہائے متحدہ امریکا 4 جولائی سے افغانستان سے فوج واپس بلانے کے لئے تیار ہے جبکہ افغان رہنما ء امریکیوں کے جانے کے بعد ایک بار طالبان کی طرف سے بڑھتے ہوئے تشدد اور ایک قبضے کے خدشات کے پیش نظر پریشان ہیں جبکہ پاکستان جیسے ممالک اس بحران کے خاتمے کی تیاری کر رہے ہیں۔

امریکی صدر بائیڈن نے رواں ہفتے وائٹ ہاؤس میں افغان رہنماؤں کو دعوت دی ہے کہ وہ سفارتی ، معاشی اور انسان دوست تعاون کے تحت عہد کریں کہ وہ افغانستان دوبارہ عسکریت پسند گروہوں کے لئے کبھی بھی محفوظ پناہ گاہ نہیں بن پائے گا۔افغان صدر اشرف غنی تشویش میں مبتلا ہیں اور غیرملکی افواج کے انخلاء کے بعد بھی سیکورٹی فورسز کی حمایت چاہتے ہیں۔

چونکہ امریکا نے اپریل میں افغانستان سے رخصت ہونے کا اعلان کیا تھا جبکہ طالبان کی طرف سے کارروائیوں میں تیزی آگئی ہے اور انہوں نے اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے لئے 40 اضلاع پر قبضہ کرنے کا دعوی کیا ہے۔طالبان نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ ‘حقیقی اسلامی نظام کا نفاذ ہی امن کو یقینی بنانے اور تمام مسائل کو حل کرنے کا واحد راستہ ہے تاہم عام افغانوں کو خوف ہے کہ غیرملی افواج کے انخلاء کے بعدطالبان اپنا سخت گیر نظریہ نافذ کردیں گے اور خواتین کے حقوق اور تعلیم پر ہونے والی پیشرفت کو ختم کردیں گے۔

پاکستان بھی افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کو گہری نظر سے دیکھ رہا ہے ،وزیر اعظم عمران نے امریکی فوجیوں کی واپسی کی نگرانی کے لئے اپنا دورہ برطانیہ ملتوی کردیاہے کیونکہ پاکستان پہلے ہی خانہ جنگی کے خدشات کا اظہار کرچکا ہے اور اگر افغانستان میں دوبارہ شورش پیدا ہوتی ہے تو پاکستان سب سے بڑا شکار ہوگا جس کے نتیجے میں ایک بار پھر مہاجرین کی نقل مکانی کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا ہے کہ امریکا کو جانے سے پہلے ایک سیاسی تصفیہ یا کسی طرح کی مخلوط حکومت قائم کرنی چاہیے تاہم اس بات کا امکان نہیں ہے کہ افغان جماعتیں اس طرح کی تجویز پر راضی ہوجائیں مذاکرات کے بعد کوئی سیاسی تصفیہ نہیں ہوسکا ہے اور انٹرا افغان مذاکرات ناکام ہوگئے ہیں۔اس لئے امریکا نامکمل کاروبار کے ساتھ روانہ ہو رہا ہے۔

امریکا کی جلد بازی کی وجہ سے طالبان کو بات چیت کرنے یا افغان حکومت کے ساتھ مفاہمت کی کوشش کرنے پر مجبور نہیں کیا جاسکا، افغانستان کو اپنا سفارت خانہ اور کابل ائیرپورٹ بھی محفوظ بنانے کی ضرورت ہے ، جو معاشی زندگی کی لکیر کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور افغانستان کے مستقبل کے لئے انتہائی ضروری ہے۔

افغانستان کئی دہائیوں کی جنگ اور انارکی کا شکار ہے۔ 1979میں جب سوویت فوجیں داخل ہوئیں اور امریکی قیادت میں حملے کے بعد 2001 میں اس ملک نے مزید تباہی دیکھی۔افغان عوام کو ابھی تک سنبھلنے کی مہلت نہیں مل سکی اور اب غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد عالمی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ افغانستان میں ہونے والے تشدد اور فساد کو روکیں اور افغان عوام کو امن کے ساتھ زندگی گزارنے کا موقع فراہم کریں۔

Related Posts