افغانستان۔ایران:خطے میں خطرات کے بادل

تازہ ترین

تازہ ترین

 پاکستان وزارت خارجہ کی بہتر کاوشوں کے سبب او آئی سی کی 17ویں اجلاس کے حوالے سے ابتدائی میٹنگز کاآج آغاز ہوا جاتا ہے جبکہ رسمی اجلاس کل ہوگا۔

یقیناً اوآئی سی 57 ممالک پر محیط ایک مضبوط اور مربوط بلاک ہے جس کی باگ ڈور سنبھالنے میں سعودی عرب کا ایک کلیدی کردار رہا ہے اور سعودی عرب کے ہی زیر اثر بیشتر ممبر ممالک فیصلہ سازی میں مدد گار رہا کرتے ہیں۔

او آئی سی کے چارٹر کے آرٹیکل 10 کے تحت وزرائے خارجہ کی کونسل کا غیر معمولی اجلاس بلایاگیا ہے۔4 دہائیاں قبل بھی پاکستان نے افغانستان کے حوالے سے اسی قسم کے اجلاس کا انعقاد کیا تھا۔

اجلاس کامرکزی ایجنڈا افغانستان ہے۔پاکستان افغان طالبان کے حکومت سنبھالنے کے بعد اقوام عالم سے افغانستان کی ابتر حالت کو باور کروانے کیلئے تگ و دو کررہا ہےتاکہ افغانستان کے عوام کو انسانی المیہ سے بچایا جاسکے۔

یہ بات پاکستان بخوبی سمجھتا ہے کہ جیسے افغانستان میں بھوک اور افلاس کے سبب اموات واقع ہونا شروع ہوگئی ہیں اور بتدریج بڑھنے کے قوی امکانات ہیں۔ایسی صورتحال افغانستان میں ناصرف سول وار کا پیش خیمہ بن سکتی ہے بلکہ افغانستان کے غیر مستحکم ہونے کا بھی غالب امکان پیدا کرسکتی ہے اور پاکستان بخوبی اس بات سے آگاہ ہے کہ ایسے انسانی المیہ کے نتیجے میں پاکستان میں  ناصرف افغان مہاجرین کی یلغار ہوجائیگی بلکہ افغانستان میں دہشت گردگروپس مزید پنپنا شروع ہوجائینگے اور پاکستان پہلے کی طرح اس کی زد میں آتا رہے گا۔

آج کی او آئی سی کی میٹنگ جو کہ عنقریب شروع ہونیوالی اس میٹنگ سے ایک امید کی کرن پائی جاتی ہے۔اس میٹنگ کی کلیدی اہمیت کچھ یوں بھی ہے کہ او آئی سی ممبرز کے علاوہ دنیا کے دیگر طاقتور ممالک اور اداروں کے نمائندے مبصرین کی حیثیت سے شمولیت کرینگے۔

اہمیت کے حامل پی فائیو ممالک کے علاوہ دیگر یورپین یونین کے بااثر ممالک کے نمائندے بھی او آئی سی کی دعوت پراس میٹنگ میں شرکت کرینگے اور یہ پہلا موقع ہوگا کہ اقوام عالم کے فیصلہ ساز ممالک کے یہ نمائندے جو کہ او آئی سی کے ممبر نہیں طالبان کے عبوری وزیرخارجہ اور ان کے وفد سے ان کی زبانی افغانستان کی ردوداد سنیں گے اور طالبان کی مجبوریوں سے آگہی حاصل کرینگے۔

لہٰذا یہ امید پائی جاتی ہے کہ او آئی سی ممبران کے علاوہ ان اہمیت کے حامل دیگرممالک کی طالبان کے ساتھ بات چیت عدم اعتماد کی فضاء کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگی اور یہ بھی امید کی جاسکتی ہے کہ بتدریج یہ ممالک افغان طالبان سے اپنے مطالبات میں لچک پیدا کریں۔

افغان طالبان موت اور زیست کی کشمش کے گھیرے میں آتے جارہے ہیں اور ایسی صورت میں افغانستان کی امداد اور اثاثوں کو فوری بحال کرنا انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔اگر ایسا نہ کیا گیا تو افغانستان میں وہ حالات پیدا ہوسکتے ہیں کہ جس سے پاکستان سمیت گرد ونواح کے باقی ممالک بھی مشکلات میں گھر سکتے ہیں بلکہ دہشت گرد گروپس اپنا اپنا پڑاؤ افغانستان میں مستحکم کرنے کے بعددنیا کے دیگر ممالک کیلئے خطرات کا باعث بن سکتے ہیں۔

خطے میں ایک طرف تو افغانستان کا لاوا ابلنے کے قریب ہے تو دوسری طرف ایران کے جوہری معاہدے سے متعلق اجلاس کابھی آج دوبارہ سے جنیوا میں انعقاد ہوچکا ہے ،یہاں زیادہ پیچیدہ اور خطرناک صورتحال یہ ہے کہ اسرائیلی وزیر دفاع اور اسرائیلی ایجنسی موساد کے سربراہ نے امریکا جا کر امریکیوں کو یہ باور کرایا ہے کہ ایران کو اگر جوہری طاقت بننے سے روکنا ہے تو اس کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس پر عسکری کارروائی یا حملہ کیاجائے اور اس اقدام کیلئے اسرائیل چاہتا ہے کہ امریکا اس کا ساتھ دے۔

یہ اور بات ہے کہ اسرائیل کی عسکری قوت یقیناً ایسی ہے کہ وہ ایران پر حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن ایران بھی بتدریج اپنی عسکری قوت کو کافی آگے لے جاچکا ہے جس میں جدید ترین میزائلز، اس کے اپنے وہ علاقے جہاں جوہری معاملات آگے بڑھ رہے ہیں، انہیں اس حد تک محفوظ کر لیا گیا ہے کہ اسرائیل جیسے ملک کو بھی انہیں براہِ راست تباہ کرنے میں دشواری ہوگی۔

اب جوہری معاہدہ جو کہ 2018 میں ٹوٹ چکا تھا، اسے دوبارہ جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے جو اس مشترکہ بیانیے سے محسوس ہوتی ہے۔ اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ کا جنوبی ایشیا ء اور مشرق وسطیٰ کا دورہ جس میں امریکی وزیر خارجہ بلنکن نے احتمال ظاہر کیا ہے کہ ایران اپنے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کررہا ہے اور نیوکلیر اکارڈ میں دوبارہ شامل ہونے میں روڑے اٹکا رہا ہے۔ اس سلسلے میں امریکا اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایک راہ ہموار کر رہا ہے کہ ایران سے کیسے نمٹا جائے؟ ۔

چونکہ ان تمام مذاکرات کی ناکامی تقریباً سامنے آچکی ہے تو ایک طرف تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ امریکا، اسرائیل، خلیجی ریاستیں اپنی راہیں ہموار کرتے ہوئے ایران کے خلاف صف بندی میں مصروف ہیں جبکہ دوسری جانب ایران اپنے سلیپر سیلز، جو پورے گلف میں پھیلے ہوئے ہیں ان کی تیاری مکمل کرنے کی حد تک پہنچ چکا ہے اور اگر اسرائیل نے حملہ کیا تو ایران یقیناً ایسے تمام اہداف اور تنصیبات کو جو امریکا اور گلف کیلئے بہت اہم ہیں، انہیں نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوسکتا ہے۔

اس چپقلش اور تگ و دو میں خطے کے دیگر ممالک میں بھی متاثر ہونگے ،یہاں یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ چین اور روس اس میں کس حد تک ایران کی معاونت کرسکتے ہیں، یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ لگتا کچھ یوں ہے کہ چین اور روس بالواسطہ ایران کی معاونت کاری سے اجتناب نہیں کریں گے۔

اس حوالے سے علاقائی اور بین الاقوامی صورتحال کچھ زیادہ بہتر سمت نہیں جارہی اور حکومتِ پاکستان کو او آئی سی اجلاس سمیت دیگر انٹرنیشنل فورمز پر بھی اس معاملے پر بات چیت کرکے رائے ہموارکرنا ہوگی تاکہ خطے میں کشیدگی اور بگڑتی ہوئی صورتحال کا ناصرف تدارک کیاجاسکے بلکہ اس تپش کو پاکستان تک پہنچنے سے روکا جاسکے جو کہ ایک بہت کٹھن کام ہے وگرنہ پاکستان کو ایسے نقصانات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے جو ناقابل تلافی ہونگے۔

Related Posts