شوہر بیوی کو طلاق دینے کے بعد معصوم بیٹے کی جان کا دشمن بن گیا

تازہ ترین

تازہ ترین

شوہر کی بیوی کو طلاق دینے کے معصوم بیٹے کو جان سے مارنے کی کوشش
شوہر کی بیوی کو طلاق دینے کے معصوم بیٹے کو جان سے مارنے کی کوشش

راولپنڈی:شوہر نے بیوی کو طلاق دینے کے بعد 10 ماہ کے معصوم بیٹے کی جان لینے کے لئے اسے دیوار کے ساتھ دے مارا۔واقعہ میں معصوم بچے کا سر پھٹ گیاجس کے باعث وہ شدید زخمی ہوگیا، پولیس نے بدبخت باپ کو گرفتار کرنے کے بعد اس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کی بجائے مبینہ طور پر سازباز کرکے اسے تھانے سے چلتا کر دیا۔

متاثرہ خاتون نے سی پی او راولپنڈی سے نوٹس لینے اور تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔پرانا چاکرہ ڈھوک کرم داد راولپنڈی کی رہائشی مہوش شہزادی نے بتایا کہ طارق محمود نیازی میرا پڑوسی تھا۔جس سے میری دوستی ہوئی۔ تقریباً دو سال قبل ہماری شادی ہوئی۔جس سے میرا دس ماہ کا بیٹا محمد عثمان ہے جبکہ ایک بیٹی پیدائش کے چوتھے روز انتقال کرگئی تھی۔

متاثرہ خاتون کے مطابق خاوند نے ناچاقی کے بعد مجھے طلاق دیدی۔میرا سابقہ خاوند طارق میرے بیٹے کو جان سے مارنا چاہتا ہے۔قبل ازیں بھی اس نے بچے کو جان سے مارنے کی کوشش کی اور مجھ پر حملہ کرکے مجھے مارا پیٹا اور میرے کپڑے پھاڑ دیئے۔

جس پر اس کے خلاف تھانہ نصیرآباد راولپنڈی میں یکم مارچ 2022ء کو مقدمہ نمبر 350/22 بجرم337 ایف ضمن ٹو اور 337 اے ضمن ٹو جبکہ دوسرا مقدمہ نمبر 650/22 بجرم 354 درج کرایا۔چونکہ میرے سابقہ خاوند کا سگا بھائی وسیم خان پولیس ملازم ہے جو پہلے تھانہ پیرودھائی میں تعینات تھا۔یہی وجہ ہے پولیس ملزمان کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔

میرا سابقہ خاوند طارق،اس کا بھائی پولیس ملازم وسیم خان اور اس کا قریبی ساتھی تیمور اور بابر میرے اور میرے بچے کے جان کے درپے ہیں۔ملزمان جرائم پیشہ ہیں۔28 مئی 2022ء کی رات دس بجے جب میں تھانہ نصیرآباد سے واپس گھر جارہی تھی۔میری گود میں میرا دس ماہ کا بیٹا تھا۔

اسی دوران میرے سابقہ خاوند طارق اور اس کا دوست بابر نے میرا راستہ روکا۔مجھ سے بچہ چھیننے کی کوشش کی،مجھے مارا پیٹا،طارق نے بچہ چھیننے کے بعد دیوار پر دے مارا۔جس سے بچے کا سر پھٹ گیا اور وہ خون میں ڈوب گیا۔

اس ظلم و زیادتی پر میں نے سی پی او راولپنڈی کو تحریری درخواست دی۔لیکن پولیس تھانہ نصیر آباد ملزم پارٹی کے ساتھ ملی ہوئی ہے۔پولیس ملزمان کے خلاف کارروائی کرنے کے لئے تیار نہیں۔

متاثرہ خاتون مہوش شہزادی نے اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے اور انصاف وتحفظ فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔سابق خاوند کے ظلم وستم کا شکار خاتون مہوش شہزادی کا کہناہے کہ میرا سابقہ خاوند محمدطارق نیازی اپنے دوست بابر کے ذریعے میرے دس ماہ کے بیٹے کو کسی کے ہاتھ 70 ہزار روپے میں فروخت کرنا چاہتاہے۔میں کسی بھی قیمت پر اپنا بچہ ان کے حوالے نہیں کرنا چاہتی۔

مزید پڑھیں:ٹرین میں خاتون سے اجتماعی زیادتی کے تینوں ملزمان گرفتار

انہوں نے دو مرتبہ بچے کی جان لینے کی کوشش کی ہے۔مجھے اور میرے بچے کو تحفظ فراہم کیا جائے۔ دس ماہ کے معصوم بچے کو دیوار کے ساتھ پٹخنے والے بدبخت باپ کو پولیس تھانہ نصیر آباد نے حراست میں لینے کے بعد تھانے منتقل کیا۔ لیکن بعدازاں مک مکا کے بعد ملزم کو چھوڑ دیا گیا۔معصوم بچے کی ماں مہوش شہزادی کے مطابق پولیس نے تاحال ملزمان کے خلاف قانونی کارروائی نہیں کی۔

Related Posts