روس اور یوکرین کے درمیان یوکرین کی گندم کی برآمد کے لیے معاہدہ طے پا گیا، معائدے کے بعد یہ امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عالمی سطح پر گندم کی قیمت میں کمی ہوسکتی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق روس اور یوکرین میں ہونے والے معاہدے کے تحت روسی ناکہ بندی کی وجہ سے بحیرہ اسود میں یوکرینی گندم سے بھری بحری جہازوں کو ترکی جانے کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ ترکی سے گندم دنیا بھر میں بھجی جا سکے گی۔
روس اور یوکرین کے درمیان معاہدہ ترکی اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں طے پایا ہے۔
معاہدے کے تحت یوکرین، روس اور ترکی نے استنبول میں ایک مشترکہ رابطہ کاری سینٹر قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے جو یوکرین سے دنیا کو اناج کی برآمدات کے معاملات دیکھے گا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی رہائش گاہ پر ہوا، معاہدے پر دستخط کے بعد تمام نمائندوں کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے۔
واضح رہے کہ روس اور یوکرین کی جنگ سے گندم کی قیمتوں میں عالمی سطح پربے حد اضافہ ہوا جس سے قیمت یورپی مارکیٹ میں مئی کے مہینے میں 400 یورو فی ٹن ہو گئی تھی۔ گندم کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے نے ترقی پذیر ممالک کے لیے مسائل کھڑے کر دیے تھے۔