اسکردو: گلگت بلتستان کے علاقے چلاس میں مقامی لوگوں نے احتجاج ختم کرتے ہوئے کامیاب مذاکرات کے بعد بابوسرروڈ کو دوبارہ کھول دیا ۔
گزشتہ روز گلگت بلتستان کے وزیر عبید اللہ بیگ اسلام آباد سے گلگت جارہے تھے، جس دوران انھیں اور عوام کی بڑی تعداد کو خیبرپختونخوا اور گلگت کو ملانے والی سڑک پر کئی گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔
صوبائی وزیر کرنل ریٹائرڈ عبیداللہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر جی بی اے ہنزہ 6 سے منتخب ہوئے تھے۔
مقامی لوگوں کی طرف سے ناکہ بندی اور احتجاج نے افواہوں کو جنم دیا کہ طالبان نے گلگت بلتستان کے وزیر اور دیگر کو یرغمال بنا لیا ہے، جس سے سڑک پر پھنسے درجنوں دیگر سیاحوں میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی۔
بعدازاں اس حوالے سے بات کرتے ہوئے گلگت بلتستان حکومت کے سابق ترجمان فیض اللہ نے بتایا کہ سڑک کی بندش ختم کرنے اور بیگ اور سڑک پر پھنسے دیگر لوگوں کو گزرنے کی اجازت دینے کے لیےمذاکرات کیے جارہے ہیں۔
امریکا سے موصول ہونیوالا سائفر وزارت خارجہ میں مکمل محفوظ ہے: دفتر خارجہ

دونوں سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ گلگت بلتستان کی مقامی انتظامیہ کے افسران بشمول ڈپٹی کمشنر دیامر فیاض احمد نے مظاہرین سے رابطہ کیا اور انہیں یقین دلایا کہ اعلیٰ حکام ان کے مطالبات پرغور کرے گی۔
گلگت بلتستان کے سینئر وزیر برائے صنعت و تجارت، کرنل (ر) عبید اللہ بیگ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کے ذریعے سےعسکریت پسندوں کی جانب سے انہیں اور دیگر کو یرغمال بنانے کی خبروں اور افواہوں کو مسترد کردیا۔
انہوں نے لکھا کہ مقامی لوگوں نے ٹھک گاؤں کے علاقے میں بابوسر روڈ کو بلاک کر دیا تھا اور ’دیامر کے قیدیوں‘ کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے اپنا احتجاج درج کرایا تھا۔ انہوں نے مزید لکھا کہ لوگوں کو گھنٹوں انتظار کرنا پڑا کیونکہ مذاکراتی ٹیم کو جائے وقوعہ تک پہنچنے میں گھنٹے لگ گئے۔
انہوں نے کہا کہ کامیاب مذاکرات کے بعد، سڑک کی ناکہ بندی ہٹا دی گئی اور ہر کوئی اپنی منزل کی طرف بڑھ گیا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








