عالمی امدادی کارکنوں نے بتایا ہے کہ امدادی سامان کے قافلے جو مصر میں کئی دنوں سے اجازت کے منتظر تھے، آخر کار غزہ کی سرحد کی طرف روانہ ہو گئے ہیں۔
غزہ کا انتظامی کنڑول رکھنے والی تنظیم حماس نے سات اکتوبر کو اسرائیل پر منظم حملہ کیا جس کے بعد سے بدترین ناکہ بندی کا شکار یہ علاقہ مسلسل اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کی زد میں ہے۔
’مجھے خون کا پیسہ نہیں چاہیے‘، ہدیٰ بیوٹی کی بانی کا اسرائیلی خاتون کو جواب
اب تک مصر نے غزہ کی سرحد پر واقع رفح کراسنگ پر حفاظتی انتظامات سخت کر رکھے ہیں تاکہ اندر داخل ہونے والے یا غزہ کی پٹی سے باہر نکلنے کی کوشش کرنے والے غیر ملکی شہریوں کی مدد کی جا سکے کیونکہ اسرائیل بار ہا اس سرحدی گزرگاہ کے فلسطینی حصے پر حملہ کر چکا ہے۔
مرسل نامی امدادی گروپ کی نگران حباء رشید نے کہا کہ ہم ٹرمینل پر پہنچ چکے ہیں اور اب اگلے مرحلے کا انتظار ہے۔
دیگر امدادی اہلکاروں نے بتایا کہ مصری شہر العریش سے رفح تک 40 کلومیٹر (25 میل) کے سفر کے لیے سینکڑوں لاریاں ساحلی سڑک کے ساتھ رواں ہیں۔
ہلالِ احمر کے ایک اہلکار نے تصدیق کی کہ امدادی قافلے منقسم سرحدی شہر رفح کی مصری سمت میں جمع ہو رہے تھے۔
مصری ہلالِ احمر کے اہلکار نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا یہ نہیں بتایا گیا کہ گزرگاہ کو کب عبور کرنا ہے لیکن ہمیں رفح کی طرف جانے کے لیے کہا گیا ہے۔
اہلکار نے کہا جو خود رفح کی طرف جا رہا تھا کہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہم امداد کے داخلے اور غیر ملکیوں کے اخراج کے ایک معاہدے کے قریب ہیں۔
اسرائیل سے غزہ کی پٹی میں ایک محفوظ راہداری قائم کرنے کی بڑھتی ہوئی اپیلوں کے دوران مصر کے جزیرہ نما سیناء میں گذشتہ چند دنوں سے متعدد ایجنسیوں اور عطیہ دینے والی حکومتوں کی جانب سے امداد کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔
یورپی یونین نے غزہ کے 2.4 ملین لوگوں کے لیے ایک امدادی پل قائم کرنے کا مطالبہ کیا ہے جن میں سے بہت سے اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔
اسرائیل کا سب سے بڑا اتحادی امریکہ مصر پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ غزہ میں فلسطینی امریکیوں کو انخلاء کی اجازت دینے کے لیے سرحد کو دوبارہ کھولے۔
اقوامِ متحدہ کے انسانی امور کے سربراہ مارٹن گریفتھس امداد کی ترسیل کے معاہدے کی کوششوں میں مدد کے لیے منگل کو قاہرہ پہنچنے والے تھے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








