ایڈز، تنہائی اور بھوک کی شکار؛ ماضی کی سپر اسٹار نشاء نور کی المناک داستان

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

بھارتی فلم انڈسٹری میں مقبولیت کی انتہا کو چھونے والی اداکارہ نشا نور زندگی کے آخری ایام میں ایسی حالت کو پہنچ گئیں کہ پہچاننا بھی مشکل ہو گیا۔ وہ جو کبھی شان و شوکت اور شُہرت کی علامت تھیں تاہم وقت کے ظالمانہ موڑ پر نہ صرف غربت کی شکار ہوئیں بلکہ ایسی بھیانک بیماری کا سامنا بھی کیا جس نے ان کی زندگی کو مکمل تباہ کر دیا۔

نشا نور نے 1980 کی دہائی میں تامل فلموں سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور جلد ہی ان کا شمار جنوبی ہند کی صفِ اول کی اداکاراؤں میں ہونے لگا۔ انہوں نے رجنی کانت، کمل ہاسن جیسے بڑے اداکاروں کے ساتھ فلمیں کیں اور کئی برسوں تک سنیما اسکرین پر راج کیا تاہم 1986 کے بعد ان کا کیریئر ڈھلوان پر آ گیا۔

 نشا نور نے اپنے کیرئیر کا آغاز 1980 میں تامل فلم 'منگلا نایاگی' سے کیا تھا ۔ اس کے بعد انہوں نے 'ٹک ٹک ٹک'، 'ایئر دی گریٹ'، 'چووپو ناڈا'، 'مکس ایکشن 500'، 'انیمائی ایدھو ایدھو' جیسی فلموں میں 5 سال تک  خوب کام کیا۔ نشا نے 1980 سے 1986 تک انڈسٹری پر راج کیا۔ اس دوران انہوں نے ساؤتھ کے لیجنڈری ڈائریکٹرز کے بالاچندر، ویسو اور چندر شیکھر کے ساتھ بھی کام کیا۔

فلمی دنیا سے دوری اور مسلسل بے روزگاری نے نشا نور کو شدید مالی بحران میں دھکیل دیاکہ ایک وقت ایسا آیا جب وہ روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے سے بھی قاصر ہو گئیں۔ انہی دنوں ایک فلم پروڈیوسر نے مبینہ طور پر انہیں جسم فروشی کا مشورہ دیا اور وہ مجبوری میں اس غیر انسانی راستے پر چل پڑیں۔

Who Was Nisha Noor? She Worked With Kamal Haasan, Rajinikanth, Lost All Her  Money, Found Sleeping On Street And Allegedly Died Of AIDS | People News |  Zee News

یہ فیصلہ ان کی زندگی کا بدترین موڑ ثابت ہوا۔ وہ نہ صرف اخلاقی اور سماجی تنزلی کا شکار ہوئیں بلکہ جلد ہی ایڈز جیسی لاعلاج بیماری نے انہیں جکڑ لیا۔ بیماری کے بعد ان کے اپنے رشتہ داروں اور قریبی لوگوں نے بھی منہ موڑ لیا۔ وہ تنہائی، غربت اور بیماری کی حالت میں بالکل تنہا رہ گئیں۔

2007 میں ایک مزار کے باہر وہ ایسی حالت میں ملیں کہ دیکھنے والے کانپ اٹھے۔ ان کا جسم ہڈیوں کا ڈھانچہ بن چکا تھا جبکہ جسم پر کیڑے رینگ رہے تھے اور بدن پر کپڑے نہ ہونے کے برابر تھے۔ ایک فلاحی ادارے نے انہیں اپنی تحویل میں لیا لیکن بیماری اس قدر بڑھ چکی تھی کہ وہ ایک ہفتہ بھی زندہ نہ رہ سکیں اور چنئی کے تامبرم علاقے میں انتقال کر گئیں۔

نشا نور کی زندگی ایک عبرت ناک داستان ہے جو یہ بتاتی ہے کہ شہرت اور چمک دمک کے پیچھے ایک خوفناک اندھیرا بھی چھپا ہوتا ہے۔ یہ کہانی نہ صرف فلمی دنیا کی بے رحمی کو عیاں کرتی ہے بلکہ معاشرتی رویوں پر بھی سوالیہ نشان چھوڑ جاتی ہے۔

Related Posts