لاہور: ایئر پنجاب کے قیام کے حوالے سے قائم ورکنگ کمیٹی نے اپنی ابتدائی رپورٹ صوبائی حکومت کو پیش کر دی ہے جس میں ایئر لائن کے مالیاتی ڈھانچے، آپریشنل منصوبے، اور آغاز کے شیڈول کی تفصیلات شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایئر پنجاب منصوبے کی کل لاگت 12 سے 15 ارب روپے کے درمیان متوقع ہے۔ منصوبے کے تحت ابتدائی طور پر پانچ جدید ایئربس A320 طیارے لیز پر حاصل کیے جائیں گے جن کا ماہانہ کرایہ 3 لاکھ 75 ہزار امریکی ڈالر فی طیارہ ہوگا۔ اس حساب سے سالانہ لیزنگ اخراجات تقریباً 6اعشاریہ 3 ارب روپے تک پہنچیں گے۔
کمیٹی نے رپورٹ میں پائلٹوں کی تنخواہیں 15 سے 25 لاکھ روپے ماہانہ مقرر کرنے کی تجویز دی ہے تاکہ فضائی صنعت کے ماہر اور تجربہ کار پیشہ ور افراد کو ایئر پنجاب کے ساتھ منسلک کیا جا سکے۔
ابتدائی مرحلے میں ایئر پنجاب کی پروازیں لاہور سے دبئی، جدہ اور کراچی کے لیے براہِ راست چلانے کا منصوبہ ہے۔ متوقع کرایے کے مطابق داخلی پروازوں کے لیے 15 ہزار روپے، دبئی کے لیے 40 ہزار روپے، اور جدہ کے لیے 50 ہزار روپے مقرر کیے گئے ہیں۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایئر پنجاب کو پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے تحت چلایا جائے گا تاکہ مالی استحکام اور مؤثر انتظامی کارکردگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس منصوبے سے ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے اور فضائی صنعت میں نجی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔
کمیٹی کے شیڈول کے مطابق ایئر پنجاب کا آغاز اگلے سال ستمبر میں کیا جائے گا جو صوبہ پنجاب کی فضائی رابطہ کاری اور ایوی ایشن انفراسٹرکچر کے لیے ایک اہم پیش رفت ثابت ہوگا۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








