مہنگائی کے خلاف آزاد جموں و کشمیر میں احتجاج چوتھے روز میں داخل، نظام زندگی مفلوج

تازہ ترین

تازہ ترین

AJK protest over inflation enters fourth day

مظفر آباد :آزاد کشمیر میں آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے خلاف شٹر ڈاؤن ہڑتال اور احتجاج پیر کو چوتھے روز میں داخل ہو گیا، اتوار کو آزاد جموں و کشمیر حکومت اور عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔

عوامی ایکشن کمیٹی نے اعلان کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک غیر معینہ مدت کے لیے شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال جاری رہے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کوہالہ-مظفر آباد روڈ جو کہ 40 کلو میٹر طویل اور کوہالہ ٹاؤن کو مظفرآباد سے ملاتی ہے، اسکو مظاہرین نے کئی مقامات پر بند کر دیا ہے۔

حساس مقامات اور چوکوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے جبکہ بڑی سڑکوں اور شریانوں پر ٹریفک کم ہو گئی ہے۔

میرپور میں ہفتے کے روز مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپوں کے نتیجے میں ایک پولیس اہلکار کی ہلاکت اور درجنوں کے زخمی ہونے کے بعد آزاد جموں و کشمیر کی حکومت نے رینجرز کو طلب کر لیا گیا تھا۔

کاروباری اور تعلیمی سرگرمیاں انٹرنیٹ اور سیلولر سروسز کے ساتھ مکمل معطل ہیں۔عوامی ایکشن کمیٹی کے رہنما سردار عمر نذیر کشمیری نے الزام لگایا ہے کہ حکومت مذاکرات کی آڑ میں مکروہ ہتھکنڈے استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے آٹے کی سبسڈی کے علاوہ کوئی اور مطالبہ ماننے سے انکار کیا۔

صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف نے تمام اسٹیک ہولڈرز پر زور دیا ہے کہ وہ تحمل سے کام لیں اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کریں۔ وزیر اعظم شہباز شریف آزاد جموں و کشمیر کی صورتحال پر غور کے لیے آج اہم اجلاس طلب کر رہے ہیں۔

اتوار کو آزاد جموں و کشمیر کے وزیر اعظم چوہدری انوار الحق نے کہا تھا کہ ان کی حکومت آٹے اور بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے تیار ہے۔

وزیر اعظم انوار الحق نے ہفتہ کو مظاہرین کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کے بارے میں کہا کہ “ہم عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ طے پانے والے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے پرعزم ہیں۔”

ان کا کہنا تھا کہ سیاسی حکومتیں مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرتی ہیں اور ہم عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ کسی بھی سطح پر بات کرنے کے لیے تیار ہیں اور حکومت پاکستان سے متعلق مطالبات وفاق کے سامنے اٹھائے جائیں گے۔

انہوں نے آٹے اور بجلی کی قیمتوں کے بوجھ کو کم کرنے کے لیے ضرورت پڑنے پر ترقیاتی بجٹ کو ایڈجسٹ کرنے پر آمادگی کا بھی عندیہ دیا۔

Related Posts