سولر پینل لگانے والوں کے سارے خواب چکنا چور! صارفین کو کتنا خسارہ ہوگا؟ مکمل تفصیل

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

نیپرا (نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی) نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (پروزیومر) ریگولیشنز، 2026 کا باضابطہ نوٹیفکیشن جاری کیا ہے (S.R.O. 251(I)/2026 کے تحت) جو فوری طور پر نافذ العمل ہو گئے ہیں۔

یہ ریگولیشنز ملک میں موجودہ نیٹ میٹرنگ نظام کو ختم کر کے نئے نیٹ بلنگ فریم ورک کی طرف منتقلی کا آغاز کرتے ہیں۔ یہ ضوابط صاف توانائی (خاص طور پر سولر، ونڈ اور بائیو گیس) سے بجلی پیدا کرنے والے صارفین (پروزیومرز) کے لیے نئی شرائط متعارف کرواتے ہیں جن کا مقصد تقسیم شدہ توانائی کے نظام کو منظم کرنا اور صارفین کو بجلی پیدا کرنے والے کے طور پر شراکت دار بنانا ہے۔

اہم تبدیلیاں اور تفصیلات

نیٹ میٹرنگ کا خاتمہ اور نیٹ بلنگ کا آغاز:

پرانا نیٹ میٹرنگ نظام (جہاں ایک یونٹ پیدا کرنے پر ایک یونٹ برابر ایڈجسٹ ہوتا تھا) ختم ہو گیا ہے۔ اب نیٹ بلنگ نظام لاگو ہو گا جس میں:

پروزیومر سے نیشنل گرڈ کو بیچی گئی اضافی بجلی کی قیمت نیشنل ایوریج انرجی پرچیز پرائس (NAEPP) پر ادا کی جائے گی (جو تقریباً 10-11 روپے فی یونٹ ہے جیسا کہ مختلف رپورٹس میں ذکر ہے)۔

گرڈ سے لی گئی بجلی کی قیمت متعلقہ صارف ٹیرف اور سلیبس کے مطابق ہو گی (جو عام طور پر 37-55 روپے فی یونٹ یا اس سے زیادہ ہو سکتی ہے، ٹیکسز اور دیگر چارجز کے بغیر)۔

بلنگ ماہانہ بنیاد پر ہو گی اضافی رقم اگلے بل میں ایڈجسٹ کی جائے گی یا سہ ماہی بنیاد پر ادا کی جائے گی۔

پرانے اور نئے پروزیومرز کے درمیان فرق:

پرانے نیٹ میٹرنگ صارفین (جو پہلے سے رجسٹرڈ ہیں): ان کے معاہدے کی مدت ختم ہونے تک پرانے ریٹس (تقریباً 25.32 روپے فی یونٹ یا 25.9 روپے) پر اضافی بجلی بیچی جا سکتی ہے لیکن بلنگ اب نیٹ بلنگ کے تحت ہو گی۔ پرانے معاہدے اپنی مدت تک برقرار رہیں گے مگر نظام نیٹ بلنگ میں تبدیل ہو جائے گا۔

نئے پروزیومرز: اضافی بجلی کی قیمت بہت کم ہو گی تقریباً 8-11 روپے فی یونٹ (نیشنل ایوریج انرجی پرچیز پرائس کے مطابق، جو پرانے ریٹس سے 3 گنا کم ہے)۔ کچھ رپورٹس میں 11 روپے اور کچھ میں 8.13 روپے کا ذکر ہے جو NAEPP پر منحصر ہے۔

پروزیومر کی تعریف اور اہلیت:

پروزیومر وہ فرد یا ادارہ ہے جو صاف توانائی (سولر پینلز، ونڈ ٹربائنز، بائیو گیس پلانٹس) سے 1 میگاواٹ تک بجلی پیدا کرے۔

یہ گھریلو، کمرشل، انڈسٹریل، زرعی یا دیگر صارفین ہو سکتے ہیں۔

درخواست اور منظوری کا عمل:

درخواست متعلقہ لائسنس یافتہ بجلی تقسیم کار کمپنی (ڈسکو) کو دینی ہو گی۔

کمپنی درخواست فارم مفت فراہم کرے گی، رہنمائی دے گی اور شفاف طریقے سے نمٹائے گی۔

بڑے منصوبوں (250 kW یا اس سے زیادہ) کے لیے لوڈ فلو سٹڈی لازمی ہو گی۔

منظوری کے بعد نیپرا سے کنکرنس (اجازت) حاصل کرنا ضروری ہے۔

معاہدہ 5 سالہ ہو گا (پہلے 7 سال تھا) جس میں توسیع کی گنجائش ہے۔

دیگر اہم شرائط:

نیپرا نگرانی، تنازعات حل، معلومات طلب اور جرمانے عائد کرنے کا اختیار رکھے گا۔

2015 کے نیٹ میٹرنگ ریگولیشنز ختم کر دیے گئے ہیں۔

نظام پاکستان کے بجلی کے ڈھانچے کو یک طرفہ سے شراکتی ماڈل کی طرف لے جا رہا ہے، صاف توانائی کے فروغ کے لیے۔

شماریاتی تفصیلات (پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی کی رپورٹ کے مطابق):

ملک میں نیٹ میٹرنگ سولر سسٹمز کی صلاحیت تقریباً 7 ہزار میگاواٹ لگ چکی ہے۔

آف گرڈ سسٹمز کی تخمینی صلاحیت 13-14 ہزار میگاواٹ ہے۔

کل نیٹ میٹرنگ سولر صارفین کی تعداد 4 لاکھ 66 ہزار ہے۔

82 فیصد صارفین بڑے شہروں میں ہیں: لاہور (24%)، ملتان (11%)، راولپنڈی (9%)، کراچی (7%)، فیصل آباد (6%)۔

عوامی ردعمل اور سماعت:

6 فروری 2026 کو عوامی سماعت ہوئی جہاں صنعتی اور گھریلو صارفین نے نیپرا اور پاور ڈویژن پر شدید تنقید کی، غیر معمولی تیزی اور تیار شدہ ضوابط جاری کرنے پر تحفظات کا اظہار کیا۔ نیپرا کی خودمختاری پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

ماہرین کا خیال:

نئے ریگولیشنز کے بعد آف گرڈ سولر سسٹمز لگانے کا رجحان بڑھ سکتا ہے کیونکہ گرڈ کو بیچنے کا فائدہ کم ہو گیا ہے۔

Related Posts