سکھ مذہب کی توہین کرنے والا انتہا پسند ہندو مذہبی رہنما قتل

تازہ ترین

تازہ ترین

انڈیا میں ہندو انتہا پسند مذہبی تنظیم شِیو سَینا سے تعلق رکھنے والے رہنما کو دن دہاڑے گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق 58 سالہ ہندو انتہا پسند رہنما سدھیر سوری کو انڈیا کے شمالی شہر امرتسر میں قتل کیا گیا۔
امرتسر سے پولیس افسر ارن پل سنگھ نے اے ایف پی کو بتایا کہ ’حملہ آور نے سدھیر سوری کو سرعام کئی گولیاں مار کر ہلاک کیا۔‘
یہ بھی پڑھیں:

سابق نگران وزیراعظم سردار بلخ شیر مزاری فانی دنیا کو خیر باد کہہ گئے

 

پولیس کے مطابق ’حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا ہے اور اس کے پاس لائسنس یافتہ اسلحہ بھی موجود تھا۔‘
مقامی میڈیا کے مطابق سدھیر سوری نے سکھ مذہب سے متعلق توہین آمیز بیانات دے کر اقلیتی کمیونٹی کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی تھی جس کے بعد انہیں پولیس کا تحفظ بھی حاصل تھا۔
سدھیر سوری کو ایسے موقع پر نشانہ بنایا گیا جب وہ ہندو دیوتاؤں کے کوڑے کے ڈھیر پر پڑے ہونے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔
انڈیا اور بیرون ممالک میں موجود سکھ برادری نے سال 2020 میں سدھیر سوری پر سکھ خواتین اور مذہب کے خلاف ہتک آمیز بیانات دینے کا الزام عائد کیا تھا جس کے بعد انہیں حراست میں لے لیا گیا۔
انہی الزامات کی بنیاد پر ہندو رہنما کو دوبارہ رواں سال جولائی میں بھی گرفتار کیا گیا تھا۔
خیال رہے کہ گذشتہ چند برسوں کے دوران امرتسر میں مذہب کی بنیاد پر قتل کے کئی واقعات پیش آچکے ہیں۔
ستمبر میں بھی ایک شخص کو امرتسر میں دن دہاڑے اس الزام کی بنیاد پر قتل کر دیا گیا تھا کہ وہ سنہری مندر کے قریب نشے کی حالت میں تھا اور تمباکو چبا رہا تھا۔

Related Posts