وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے آج رات سے ملک بھر میں بجلی کی لوڈشیڈنگ کے دورانیے میں کمی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اس سے عوام کو کچھ حد تک ریلیف ملنے کی توقع ہے۔
ایک پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے شہریوں کو پیش آنے والی مشکلات پر معذرت کا اظہار کیا اور بتایا کہ حکومت بجلی کی فراہمی بہتر بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج رات سے بجلی کی صورتحال گزشتہ دنوں کے مقابلے میں بہتر ہونا شروع ہو جائے گی۔
اویس لغاری نے وضاحت کی کہ کے الیکٹرک اور حیسکو کے زیر انتظام علاقوں میں اضافی لوڈشیڈنگ نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت کے الیکٹرک قومی گرڈ سے ریکارڈ 2,100 میگاواٹ بجلی حاصل کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو تقریباً 4,000 میگاواٹ بجلی کی کمی کا سامنا ہے جس کی ایک بڑی وجہ آبنائے ہرمز کی صورتحال کے باعث گیس کی سپلائی میں خلل اور پن بجلی کی پیداوار میں تقریباً 1,600 میگاواٹ کی کمی ہے۔
مزید وضاحت کرتے ہوئے وزیر توانائی نے بتایا کہ ایل این جی کی دستیابی میں کمی کے باعث 3,000 میگاواٹ سے زائد بجلی کی قلت پیدا ہوئی ہے جبکہ پانی کی سطح کم ہونے سے پن بجلی کی پیداوار بھی متاثر ہوئی ہے۔
ان کے مطابق اپریل کے دوران بجلی کی طلب 9,000 سے 20,000 میگاواٹ کے درمیان رہی ہے اور جب طلب 16,500 میگاواٹ سے بڑھتی ہے تو لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جیسے ہی پن بجلی کی پیداوار بڑھے گی، صورتحال میں بہتری آ جائے گی۔
اویس لغاری نے مزید بتایا کہ اس وقت تقریباً 1,400 میگاواٹ بجلی فرنس آئل کے ذریعے پیدا کی جا رہی ہے اور خبردار کیا کہ اس کے باعث فی یونٹ بجلی کی قیمت میں 1 روپے 30 پیسے تک ایندھن ایڈجسٹمنٹ کا اضافہ ہو سکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








