ایک اور غیر ملکی کمپنی بند ؟ فلپ مورس نے اسٹاک مارکیٹ کو خیرباد کہہ دیا

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

سگریٹ اور تمباکو مصنوعات بنانے والی مشہور کمپنی فلپ مورس پاکستان لمیٹڈ نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج سے رضاکارانہ طور پر ڈی لسٹ ہونے کا فیصلہ کیاہے جس کی درخواست کو باقاعدہ طور پر منظور کر لیا گیا ہے۔

کمپنی کی اکثریتی ملکیت ایک غیر ملکی ادارے فلپ مورس انویسٹمنٹس بی وی کے پاس ہے جو پہلے ہی تقریباً 97.65 فیصد شیئرز کا مالک ہے۔ اب کمپنی باقی تمام شیئرز بھی خرید کر اسٹاک مارکیٹ سے مکمل طور پر الگ ہو جائے گی۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے اعلان کیا ہے کہ یکم اکتوبر 2025 سے فلپ مورس پاکستان کو ڈی لسٹ کر دیا جائے گا۔ اس کے بعد کمپنی کے شیئرز پر مزید خرید و فروخت کیلئے دستیاب نہیں ہوں گے۔

کمپنی نے اپنے باقی شیئر ہولڈرز سے کہا ہے کہ اگر وہ اپنے شیئرز فروخت کرنا چاہتے ہیں تو وہ کمپنی کے مقرر کردہ پرچیز ایجنٹ ٹاپ لائن سیکیورٹیز لمیٹڈ سے رابطہ کریں۔

یہ عمل اُس فیصلے کا حصہ ہے جو کمپنی نے مارچ2025 میں کیا تھا جسکے تحت وہ سے خود کو رضاکارانہ طور پر ڈی لسٹ کر رہی ہے۔

خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں! تجارتی خسارے کے خوفناک اعداد و شمار سامنے آگئے

واضح رہے کہ فلپ مورس (پاکستان) لمیٹڈ نے سال 2024 میں اپنی کل آمدنی میں 77.5 فیصد اضافہ کیا ہے جو 32.3 ارب روپے تک پہنچ گئی۔ اس میں سے 55 فیصد آمدنی مقامی مارکیٹ سے اور 45 فیصد برآمدات سے حاصل ہوئی۔

کمپنی نے سگریٹس کے علاوہ نکوٹین فری نئی مصنوعات بھی متعارف کروائیں جس سے آمدنی بڑھنے میں مدد ملی لیکن منافع کم ہو کر 25.47 کروڑ روپے رہ گیا جو پچھلے سال 37.98 کروڑ تھا۔ منافع میں کمی کی وجہ کاروباری لاگت میں اضافہ، سخت مقابلہ اور نئی مصنوعات میں سرمایہ کاری ہے۔

Related Posts