ایک اور ٹرین حادثہ

تازہ ترین

تازہ ترین

اتوار کے دن ایک اور المناک ٹرین حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 20 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔

یہ واقعہ سندھ کے شہر نواب شاہ کے قصبے سرہاری کے قریب پیش آیا جہاں ہزارہ ایکسپریس کی دس بوگیاں پٹری سے اتر گئیں۔ ٹرین معمول کی رفتار سے سفر کر رہی تھی جب یہ المناک حادثہ پیش آیا۔ تاہم دوسری طرف وزیر ریلوے نے ذمہ داری قبول کرنے کے بجائے یہ بیان دیا ہے کہ وہ اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے سے پہلے کسی ’بری خبر‘ کا انتظار کر رہے تھے۔

بد قسمتی سے پاکستان میں ٹرین حادثات عام ہیں، جہاں حکومتوں نے ناقص سگنل سسٹم اور خستہ حال پٹریوں کو بہتر بنانے پر بہت کم توجہ دی ہے۔ ریلوے کی ابتر حالت کی ایک اور وجہ انتظامیہ میں سیاسی مداخلت اور اس محکمے کی بد ترین نا اہلی بھی ہے۔

پاکستان ریلویز کی تاریخ میں ٹرین حادثات اور پٹری سے اترنے کی ایک طویل فہرست ہے، جن میں حالیہ برسوں میں کئی حادثات بھی شامل ہیں۔ جولائی 2021 میں سندھ کے ضلع گھوٹکی میں ڈہرکی کے قریب دو مسافر ٹرینوں کے آپس میں ٹکرانے سے 31 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔ اسی سال روہڑی کے قریب کراچی ایکسپریس پٹری سے اترنے سے ایک شخص جاں بحق اور 30 زخمی ہو گئے تھے۔

31 اکتوبر 2019 میں رحیم یار خان کے قریب راولپنڈی جانے والی تیزگام ایکسپریس کی تین بوگیوں میں آگ لگنے سے 74 مسافر جاں بحق ہوئے، جن میں سے کئی زندہ جل گئے اور 40 سے زائد زخمی ہوئے۔ ایک بدترین واقعہ 1990 میں پیش آیا جب سکھر کے قریب سانگی کے علاقے میں 210 مسافر حادثے میں موت کے گھاٹ اتر گئے تھے۔

ریلوے پاکستان کی معیشت کا بڑا اہم حصہ ہے لیکن بد قسمتی سے حکومتیں اس محکمے کو منافع بخش بنانے میں ناکام رہی ہیں، مختلف حکومتوں نے ریلوے کا بوجھ کم کرنے کیلئے کچھ ٹرینوں  کو پرائیویٹ سیکٹر کے حوالے بھی کیا، لیکن اس سے بھی اس محکمے کا قبلہ درست نہ ہوسکا۔ مسئلہ دراصل ریلوے کے بنیادی ڈھانچے میں سرمایہ کاری کی کمی کا ہے۔ برطانوی دور کی پٹریاں اب اس قابل نہیں رہیں کہ ریلوے کا بھاری بھرکم بوجھ مزید اٹھا سکیں، جس کی وجہ سے آئے دن ٹرینیں پٹری سے اتر جاتی ہیں اور حادثات میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے۔

ایک اور مسئلہ فنڈز کی کمی اور ضرورت سے زیادہ افرادی قوت کا بھی ہے۔ وزارت ریلوے کا خیال ہے کہ ٹرینوں کی تعداد بڑھانے سے آمدنی بڑھے گی لیکن بنیادی مسائل جوں کے توں ہیں۔ ریلوے کی اسی تباہ حالی کی بنا پر لوگ روڈ ٹرانسپورٹ کی طرف جانے پر مجبور ہیں، جہاں پرائیویٹ سیکٹر کا راج ہے۔ حادثہ کسی بھی وقت ہو سکتا ہے اور حادثات سے مکمل طور پر نجات مشکل ہے، تاہم بہترین مینجمنٹ سے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔ حکومت کو ریلوے کے شعبے کو جدید بنانے اور اسے نقل و حمل کا ایک ترجیحی ذریعہ بنانے کے لیے قدم اٹھانے کی ضرورت ہے۔

Related Posts