امریکہ کے 15 نکاتی امن معاہدے کے دعوے جھوٹے ؟ جانیں حقیقت کیا ہے

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے 15 نکاتی امن منصوبہ پر بنیادی سطح پر اتفاق ہو گیا ہے جسے وہ ایک فریم ورک قرار دے رہے ہیں۔

صدر ٹرمپ کے مطابق دونوں فریقین کے درمیان بہت اچھے اور نتیجہ خیز مذاکرات ہوئے ہیں اور اس پلان کا مرکزی حصہ ایران کا جوہری ہتھیار بنانے سے ہمیشہ انکار کرنا ہے۔

امریکہ نے یہ 15 نکاتی منصوبہ ایران کو پاکستان سمیت دیگر ثالث ذرائع کے ذریعے منتقل کیا ہے جس میں ایران کے جوہری پروگرام، بیلسٹک میزائل صلاحیتوں اور آبنائے ہرمز کی سمندری سیکیورٹی جیسے مسائل شامل ہیں لیکن ایران نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے اور باضابطہ بات چیت میں حصہ لینے سے انکار کر دیا ہے۔

تہران نے ٹرمپ کے بیانات کو ایک چال قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ صرف ثالثوں کے ذریعے بھیجے گئے نکات کا جائزہ لے رہا ہے مگر کسی حتمی معاہدے یا مذاکرات کو تسلیم نہیں کرتا۔

ایرانی حکام نے یہ بھی کہا ہے کہ وہ اسٹریٹیجک سطح پر امریکہ کے اعلیٰ ایلچیوں جیسے اسٹیو وِٹکوف اور جیریڈ کشنر سے ملاقات نہیں کریں گے جس کے پیچھے انہوں نے الزام لگایا ہے کہ امریکہ نے پچھلے مذاکرات کے فوراً بعد فوجی فضائی حملے کیے جنکے بعد ایران کا اعتماد موجودہ سفارتی کوششوں پر شدید کمزور ہوا ہے۔

ماہرین نے کہا ہے کہ اس مرحلے پر امریکہ اور ایران کے رویوں میں واضح اختلاف موجود ہے جہاں واشنگٹن سفارتی پیش رفت کا دعویٰ کر رہا ہے، وہیں تہران گہرے عدم اعتماد کا اظہار کر رہا ہے۔ اس سے ممکنہ رسمی معاہدے تک پہنچنے کے راستے پر گہرا شبہ پیدا ہو گیا ہے۔

خطے کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ دور کی سفارتی پالیسی میں اشارہ بازی اور عملی اقدامات کے درمیان تضاد واضح دکھائی دیتا ہے جس کی وجہ سے امن کے امکانات ابھی تک غیر یقینی ہیں اور علاقائی استحکام شدید خطرے میں ہے۔

Related Posts