پاکستان میں نئے صوبے بننے جارہے ہیں؟ جانیں بلاول کا غصہ اور 28ویں آئینی ترمیم کا معاملہ

تازہ ترین

تازہ ترین

(فوٹو؛ فائل)

پاکستان ایک بار پھر ممکنہ آئینی تبدیلیوں کی جانب بڑھتا دکھائی دے رہا ہے جہاں سیاسی اور پالیسی حلقوں میں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم سے متعلق بحث زور پکڑتی جا رہی ہے اگرچہ اس حوالے سے ابھی تک کوئی باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا تاہم باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ طاقتور حلقوں میں 18ویں آئینی ترمیم کی بعض شقوں پر نظرثانی پر سنجیدگی سے غور کیا جا رہا ہے۔ ان حلقوں کا مؤقف ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ وفاق کمزور جبکہ صوبے انتظامی اور مالی لحاظ سے حد سے زیادہ مضبوط ہو چکے ہیں۔

2010 میں سیاسی اتفاقِ رائے سے منظور ہونے والی 18ویں آئینی ترمیم کو صوبائی خودمختاری کی جانب ایک تاریخی قدم قرار دیا گیا تھا۔ اس ترمیم کے تحت صحت، تعلیم، ثقافت، محنت اور سماجی بہبود سمیت کئی اہم وزارتیں اور اختیارات وفاق سے صوبوں کو منتقل کیے گئے تھے۔ اس کے علاوہ پارلیمانی نظام کو مضبوط بنایا گیا جبکہ صدرِ مملکت کے اختیارات میں بھی کمی کی گئی۔ اس وقت خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی نے اسے اپنی بڑی آئینی کامیابی قرار دیا تھا۔

وقت کے ساتھ وفاقی اداروں کے اندر یہ احساس بڑھتا گیا کہ مرکز انتظامی کارکردگی اور مالی طاقت دونوں حوالوں سے کمزور پڑ گیا ہے۔ بعض وفاقی حکام نجی محفلوں میں یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ 18ویں ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ کے بعد اسلام آباد کے پاس وسائل محدود رہ گئے جبکہ صوبے مالی طور پر زیادہ طاقتور ہو گئے۔ ان کے مطابق وفاقی حکومت اب قرضوں کی ادائیگی، دفاعی اخراجات اور قومی ترقیاتی منصوبوں کے لیے شدید دباؤ کا شکار ہے۔

ذرائع کے مطابق مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کے تحت بعض وزارتوں، خصوصاً صحت اور تعلیم کو دوبارہ وفاق کے دائرہ اختیار میں لانے کی تجویز زیر غور ہے۔ اس کی وجہ یہ بیان کی جا رہی ہے کہ صوبائی سطح پر اختیارات منتقل ہونے کے بعد قومی سطح پر یکساں پالیسی سازی اور معیار کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔ کورونا وبا کے دوران وفاق اور صوبوں کے درمیان کمزور رابطے نے بھی مضبوط مرکز کے حامی حلقوں کے مؤقف کو تقویت دی۔

اسی طرح نیشنل فنانس کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ پر بھی نظرثانی کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ وفاقی حلقوں میں بعض ناقدین کا خیال ہے کہ موجودہ مالیاتی تقسیم کا فارمولا صوبوں کو زیادہ فائدہ دیتا ہے جبکہ مرکز مالی دباؤ کا شکار رہتا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ این ایف سی فارمولے میں کسی بھی ممکنہ تبدیلی پر شدید سیاسی ردعمل سامنے آ سکتا ہے۔

اس ممکنہ آئینی تبدیلی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ پاکستان پیپلز پارٹی کو سمجھا جا رہا ہے جو مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتی آئی ہے کہ 18ویں ترمیم ناقابلِ چھیڑ چھاڑ ہے۔ اس کے باوجود سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ بند کمروں میں سیاسی سمجھوتوں کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ بعض ذرائع کے مطابق اگر وسیع تر سیاسی مفاہمت طے پا گئی تو پیپلز پارٹی بھی لچک دکھا سکتی ہے۔

یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ 28 ویں ترمیم پر بڑی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کے تحفظات برقرار ہیں۔ان تحفظات کو دور کرنے کے لیے وزیراعظم شہباز شریف اور ان کے مشیر رانا ثنا اللہ متحرک ہو گئے ہیں۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار بھی اس سلسلے میں کاوشیں کررہے ہیں۔سندھ کے ترقیاتی منصوبوں کی تجاویز بجٹ کا حصہ بنانے کا اصولی فیصلہ کرنے کے ساتھ پیپلز پارٹی کو بڑی پیشکش بھی کر دی گئی ہے۔

ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ گزشتہ رات ایوان صدر میں چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو و دیگر رہنماؤں کی مشاورت ہوئی ہے۔ اس میں وزیر خزانہ اور سیکریٹری خزانہ نے این ایف سی ایوارڈ کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے وفاق اور صوبوں کے شیئرز، حکومتی اخراجات اور آمدن سے متعلق آگاہ کیا۔

اسی تناظر میں خاتون صحافی نادیہ مرزا نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر ایک پوسٹ میں کہا کہ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے، بلاول بھٹو آج غصے میں تھے لیکن کیوں؟۔ انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کا ایک بیان بھی شیئر کیا جس میں کہا گیا کہ 28ویں ترمیم پر پیپلز پارٹی سے کوئی بات نہیں ہوئی، عوام پر مہنگائی کے بم گر رہے ہیں، بجٹ میں مزید مشکلات ہوں گی، پیپلز پارٹی کی حمایت کے بغیر آئینی ترمیم اور بجٹ منظوری ناممکن ہے جبکہ میری اجازت کے بغیر پیپلز پارٹی کسی ترمیم کی حمایت نہیں کرے گی۔

سیاسی حلقوں میں یہ تاثر بھی زیر بحث ہے کہ مستقبل میں اقتدار کی شراکت کے کسی فارمولے کے تحت پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر دیکھنا چاہتی ہے تاہم اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ بااثر حلقے فی الحال ایسے کسی انتظام پر آمادہ دکھائی نہیں دیتے۔

دوسری جانب ملک میں نئے صوبے بنانے کی بحث نے بھی دوبارہ سر اٹھانا شروع کر دیا ہے۔ اس خیال کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے انتظامی مسائل موجودہ صوبائی ڈھانچے کے ساتھ مؤثر انداز میں حل نہیں کیے جا سکتے۔ خاص طور پر پنجاب کی آبادی اور سیاسی اثر و رسوخ قومی سیاست پر بہت زیادہ حاوی ہے اور عمومی تاثر یہی ہے کہ جو پنجاب جیتتا ہے وہی اسلام آباد تک رسائی حاصل کرتا ہے۔

انتظامی اصلاحات کے حامی حلقے سمجھتے ہیں کہ مزید صوبوں کے قیام سے نہ صرف وفاق زیادہ متوازن ہوگا بلکہ عوامی خدمات کی فراہمی اور حکمرانی کے نظام میں بھی بہتری آئے گی تاہم پیپلز پارٹی سمیت کئی سیاسی جماعتیں صوبوں کی تقسیم کی مخالفت کرتی رہی ہیں کیونکہ ان کے نزدیک اس سے سیاسی اور لسانی پیچیدگیاں جنم لے سکتی ہیں۔

یہ مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم عملی شکل اختیار کرتی ہے یا نہیں، یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا لیکن ایک بات واضح ہے کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان اختیارات کی تقسیم پر بحث ابھی ختم نہیں ہوئی۔ پاکستان ایک بار پھر ایک ایسے حساس آئینی اور سیاسی مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جہاں وفاقیت، اختیارات اور حکمرانی سے متعلق مختلف نظریات ملک کے مستقبل کی سمت متعین کریں گے۔

Related Posts