ایوانِ صدر میں سول ایوارڈز کی تقسیم کی تقریب کے دوران اُس وقت غیر معمولی صورتحال پیدا ہوگئی جب مرحوم جسٹس سید دیدار علی شاہ کو ستارہ امتیاز (بعد از وفات) ان کے اہلِ خانہ کے حوالے کیا جا رہا تھا۔
تقریب کے دوران ہال میں موجود ایک شخص نے احتجاجاً سندھی زبان میں اھا ناانصافی آھی یعنی یہ ناانصافی ہے کا نعرہ بلند کیا جس نے تقریب میں موجود شرکاء کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی۔
ذرائع کے مطابق نعرہ بلند کرنے والے شخص کی فوری طور پر شناخت سامنے نہیں آسکی جبکہ یہ بھی واضح نہیں ہو سکا کہ اس احتجاج کی اصل وجہ کیا تھی۔ واقعے کے بعد تقریب میں مختصر لمحوں کے لیے غیر رسمی سی کیفیت دیکھی گئی تاہم پروگرام اپنی روایتی کارروائی کے ساتھ جاری رہا۔از سے نوازا گیا تاہم تقریب کے دوران پیش آنے والے اس احتجاجی نعرے نے ایوارڈز کی تقریب میں ایک غیر متوقع پہلو کو جنم دیا۔
ایوانِ صدر میں کوئی ایرا غیرا پر نہیں مار سکتا۔ تو پھر کس نے یہ ناانصافی والا نعرہ لگایا؟
ایوان صدر میں جب سابق چیئرمین نیب جسٹس دیدار علی شاہ کو تمغہ امتیاز دینے کااعلان ہوا تو کسی نے سندھی میں اونچی آواز میں کہا ’’اھا ناانصافی آھی‘‘ (یہ ناانصافی ہے)۔ pic.twitter.com/LLhKd42vX6— Dr Shama Junejo (@ShamaJunejo) May 14, 2026
جسٹس سید دیدار حسین شاہ کون تھے ؟
جسٹس سید دیدار حسین شاہ معروف قانون دان تھے۔ وہ 11 دسمبر 1939 کو ضلع لاڑکانہ کے گاؤں گڑھی خدا بخش میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے سندھ یونیورسٹی سے 1962 میں بی اے اور 1965 میں قانون کی ڈگری حاصل کی۔
وہ 1967 میں وکالت کے شعبے سے منسلک ہوئے اور بعد ازاں ہائی کورٹ بار کے رکن بنے۔ انہوں نے اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں وکالت کے ساتھ ساتھ بلدیاتی سیاست میں بھی کردار ادا کیا اور مختلف ادوار میں ضلع کونسل لاڑکانہ کے رکن اور چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیں۔
بعد ازاں وہ1988 سے1993تک سندھ اسمبلی کے رکن بھی رہے۔ عدالتی شعبے میں انکی خدمات کے اعتراف میں انہیں 1994 میں سندھ ہائی کورٹ کا ایڈیشنل جج مقرر کیا گیا جس کے بعد وہ مستقل جج کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے اور بعد میں سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کے منصب تک پہنچے۔
مرحوم جسٹس سید دیدار علی شاہ کو ان کی عدالتی اور عوامی خدمات کے اعتراف میں بعد از وفات ستارہ امتیاز سے نوازا گیا تاہم ایوارڈ کی تقریب میں پیش آنے والے اس واقعے نے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








