آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے امریکی وزیرِ دفاع لائیڈ آسٹن سے ملاقات کے دوران سکیورٹی امور سمیت خطے کی صورتحال پر تبادلۂ خیال اور گفتگو کی ہے۔
تفصیلات کے مطابق دورۂ امریکا کے دوران آرمی چیف نے امریکی وزیرِ دفاع سے واشنگٹن میں پینٹاگون کے دورے کے موقعے پر ملاقات کی جس کے دوران خطے کی سلامتی صورتحال اور دیگر امور پر تازہ پیش رفت زیرِ غور آئی۔
[visual-link-preview encoded=”eyJ0eXBlIjoiaW50ZXJuYWwiLCJwb3N0IjoxODMzNjksInBvc3RfbGFiZWwiOiJQb3N0IDE4MzM2OSAtINi32KfZhNio2KfZhiDYrdqp2YjZhdiqINm+2Kfaqdiz2KrYp9mGINmF24zauiDYr9uB2LTYqiDar9ix2K/bjCDaqduMINio2LHYp9uBINix2KfYs9iqINiw2YXbkiDYr9in2LEg24HbktiMINis2KfZhiDYp9qG2qnYstim24wiLCJ1cmwiOiIiLCJpbWFnZV9pZCI6MTgzMzcwLCJpbWFnZV91cmwiOiJodHRwczovL21tbmV3cy50di91cmR1L3dwLWNvbnRlbnQvdXBsb2Fkcy8yMDIzLzEyL2phbi1hY2hha3phaS0zMDB4MjUwLmpwZyIsInRpdGxlIjoi2LfYp9mE2KjYp9mGINit2qnZiNmF2Kog2b7Yp9qp2LPYqtin2YYg2YXbjNq6INiv24HYtNiqINqv2LHYr9uMINqp24wg2KjYsdin24Eg2LHYp9iz2Kog2LDZhduSINiv2KfYsSDbgduS2Iwg2KzYp9mGINin2obaqdiy2KbbjCIsInN1bW1hcnkiOiIg2KzYp9mGINin2obaqdiy2KbbjCDZhtuSINqp24HYpyDbgduSINqp24Eg2KfZgdi62KfZhtiz2KrYp9mGINiv24HYtNiq2q/Ysdiv24wg2qnYpyDZhdix2qnYsiDYqNmG2KrYpyDYrNinINix24HYpyDbgduS2Iwg2b7Yp9qp2LPYqtin2YYg2KfZvtmG25Ig2LTbgdiv2KfYoSDaqduSINiu2YjZhiDaqduSINin24zaqSDYp9uM2qkg2YLYt9ix25Ig2qnYpyDYqNiv2YTbgSDZhNuSINqv2KfblCIsInRlbXBsYXRlIjoic3BvdGxpZ2h0In0=”]
ترجمان پینٹاگون کا کہنا ہے کہ وزیرِ دفاع لائیڈ جے آسٹن سوم نے پینٹاگون میں پاکستانی چیف آف آرمی اسٹاف جنرل عاصم منیر کی میزبانی کی جہاں دونوں شخصیتوں کے مابین خطے کی سلامتی پر حالیہ پیشرفت اور دو طرفہ دفاعی تعاون پر گفتگو ہوئی۔
پینٹاگون کے ترجمان نے کہا کہ ”دونوں عہدیداران نے پاک امریکا تعلقات اور دفاعی تعاون کے ممکنہ شعبوں پر تبادلۂ خیال کیا۔“ اس سے قبل منگل کو پینٹاگون کی بریفنگ میں بھی آرمی چیف کی وزیر دفاع سے ملاقات پر گفتگو ہوئی تھی۔
ایک صحافی نے پریس سیکریٹری میجر جنرل پیٹرک رائیڈر سے سوال کیا کہ وزیر دفاع نئے پاکستانی آرمی چیف سے پہلی بار ملاقات کریں گے، اس ملاقات سے کیا پیشرفت متوقع ہے؟کیا افغانیوں کو ملک بدر کرنے کے بارے میں بات ہوگی؟
جواباً میجر جنرل پیٹرک رائیڈر نے کہا کہ فی الحال میرے پاس اس کی معلومات نہیں ہیں۔ جب وزیرِ خارجہ کسی ہم منصب یا کسی ملک کے رہنما سے ملاقات کرتے ہیں تو ہمیں ایک ریڈ آؤٹ فراہم کیا جاتا ہے۔ ریڈ آؤٹ فراہمی کے بعد ہی اس سوال کا جواب دیا جاسکتا ہے۔
گوگل نیوز پر ہمیں فالو کریں








